Black Gold, Blind Policy:A Tax Tale,گاؤں کا کالا سونا, ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
……تاریخِ انسانی میں ٹیکس ہمیشہ ایک ایسی بے رحم تلوار رہا ہے جو وقت کے ساتھ اپنا رخ بدلتی رہی—کبھی نمک پر گری، کبھی کھالوں پر، اور کبھی کھڑکیوں کے سائے تک کو نہ بخشا۔ مگر جدید دور کی تخلیقی مالیاتی ذہنیت نے جس نئی “ایجاد” کو جنم دیا ہے، وہ نہ تعیشات میں شمار ہوتی ہے اور نہ درآمدی اشیاء میں۔ یہ وہ سادہ مگر قیمتی شے ہے جسے دیہات کی عورتیں محبت سے دیواروں پر سجاتی تھیں اور شہری اشرافیہ حقارت سے نظر انداز کرتی تھی۔ جی ہاں، بات ہو رہی ہے بھینس کے گوبر “کالے سونے” کی، جو اب حکومتی ٹیکس کے شکنجے میں آ چکا ہے۔Black Gold
Black Gold, Blind Policy:A Tax Tale,گاؤں کا کالا سوناhttps://tazzakhabren.com/an-incident-occurred-near-bhati-gate-which-shook-the-whole-city/
یہ محض ایک ٹیکس نہیں، بلکہ ایک تہذیبی طنز ہے۔ ادب میں گل و بلبل کی خوشبوؤں کا ذکر تو صدیوں سے ہوتا آیا، مگر گوبر کی اس “بوئے دلپذیر” کو شاید کبھی وہ مقام نہ مل سکا جس کی وہ حقیقی معنوں میں مستحق تھی۔ حالانکہ دیہات کی معیشت کی سانسیں اسی سے جڑی ہیں۔ یہ ایندھن بھی ہے، کھاد بھی، اور مٹی کے گھروں کے آنگن کی وہ لپائی بھی، جو گرمیوں میں ٹھنڈک کا احساس بخشتی ہے۔ مگر اب، جب اس پر ٹیکس کی مہر ثبت ہو چکی ہے، تو گویا اس کی خوشبو میں بھی خزانے کی بُو شامل ہو گئی ہے۔

Black Gold, Blind Policy:A Tax Tale,گاؤں کا کالا سونا
بھینس، جو اپنی فطرت میں قناعت پسند اور خاموش محنت کش ہے، شاید اس نئی معاشی حقیقت سے بے خبر تھی۔ وہ دن بھر جگالی کرتی ہے، دودھ دیتی ہے، اور ساتھ ہی وہ پیداوار بھی دیتی ہے جسے انسان نے اب “ٹیکس ایبل آئٹم” بنا دیا ہے۔ آج کسان جب اپنی بھینس کو چارہ ڈالتا ہے، تو اس کے ذہن میں صرف دودھ کی مقدار نہیں، بلکہ گوبر کی پیداوار اور اس پر عائد ہونے والا ٹیکس بھی گردش کرتا ہے۔ یوں بھینس ایک سادہ جانور سے بڑھ کر ایک “ریونیو یونٹ” بن چکی ہے۔https://www.urdunews.com/node/902576
حکومت، حسبِ روایت، اس اقدام کو “قومی مفاد” کا نام دیتی ہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ گوبر سے میتھین گیس پیدا ہوتی ہے جو ماحول کے لیے نقصان دہ ہے، لہٰذا اس پر ٹیکس لگانا دراصل “گرین اکانومی” کی جانب قدم ہے۔ مگر وہ کسان، جو دن رات زمین سے رزق کشید کرتا ہے، اس پیچیدہ سائنسی منطق سے بے نیاز صرف اتنا جانتا ہے کہ اب اسے اپنی بھینس کی فطری پیداوار پر بھی قیمت ادا کرنی ہوگی۔
ٹیکس کے نفاذ نے دیہی زندگی کے معمولات کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ پٹواری اب زمینوں کی پیمائش کے بجائے بھینسوں کی “پیداواری صلاحیت” کا تخمینہ لگاتے پھرتے ہیں۔ باڑوں کے باہر میٹر لگنے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں، جو روزانہ کی “پیداوار” کا حساب رکھیں گے
Black Gold, Blind Policy:A Tax Tale,گاؤں کا کالا سونا
یہ سب کچھ محض طنز نہیں، بلکہ ایک تلخ حقیقت کی عکاسی ہے۔ جب ریاست اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے عام آدمی کی بنیادی اور فطری ضروریات تک کو نشانہ بنائے، تو یہ صرف معاشی نہیں، اخلاقی بحران بھی بن جاتا ہے۔ گوبر پر ٹیکس دراصل اس کسان پر ٹیکس ہے، جو پہلے ہی مہنگائی، موسمی تباہ کاریوں اور انتظامی ناانصافیوں کے درمیان پس رہا ہے۔اگر یہی روش برقرار رہی، تو وہ دن دور نہیں جب سانس لینے پر “آکسیجن فیس” اور دھوپ سینکنے پر “شمسی محصول” عائد کر دیا جائے۔ بھینس شاید احتجاج نہ کر سکے، مگر کسان کی خاموشی میں وہ طوفان پنہاں ہے جو نظاموں کو ہلا دینے کی طاقت رکھتا ہے۔حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتیں غریب کے باڑے تک محدود رکھنے کے بجائے بڑے مگرمچھوں کو قابو کرنے میں صرف کریں۔آخر میں دعا یہی ہے کہ ہماری بھینسیں “ٹیکس فری” رہیں، اور کسان کے آنگن میں گوبر کی وہی پرانی، سادہ اور بے قیمت مہک

ہمیشہ قائم رہے۔Black Gold, Blind Policy:A Tax Tale,گاؤں کا کالا سونا
یہ صرف فضلہ نہیں، یہ زمین کی خوشبو ہے،یہ چولہے کی آگ ہے، یہ کھیتوں کی آرزو ہے۔
یہی تو ہے تہذیب کا خاموش سا افسانہ،جسے اب محصول نے بنا دیا بیگانہ۔
کسان جب چارہ ڈالے، تو حساب لگاتا ہے،کتنا گوبر نکلے گا، کتنا ٹیکس آتا ہے۔
یہ کیسا نظام آیا، یہ کیسی قیامت ہے،بھینس بھی اب خزانے کی اک زندہ علامت ہے۔