Is History,Echo of the Past?کیا تاریخ، ماضی کی بازگشت ہے؟

Is History,Echo of the Past?تاریخ، ماضی کی بازگشت ہے؟ ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

جب انسان نے شعور کی آنکھ کھولی، اسی لمحے تاریخ کا آغاز ہو گیا۔ غاروں کی دیواروں پر بنے ہوئے نقش، قدیم تہذیبوں کے کھنڈر، اور پرانی تحریریں—یہ سب تاریخ کے وہ اوراق ہیں جو خاموش ہو کر بھی بہت کچھ بیان کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ انسان نے نہ صرف جینا سیکھا بلکہ اپنے تجربات کو محفوظ کرنا بھی سیکھ لیا، اور یوں تاریخ ایک باقاعدہ علم بن گئی۔

(History)مصر میں  1954 جمال عبدالناصر کی حکومت کا آغاز ہو

Is History,Echo of the Past?کیا تاریخ، ماضی کی بازگشت ہے؟

مصر میں جمال عبدالناصر نے باضابطہ طور پر اقتدار سنبھالا اور ملک کے حقیقی حکمران بن گئے۔ انہوں نے محمد نجیب کو عہدے سے ہٹا کر خود وزرائے اعظم اور کونسل آف ریوولیوشنری کمانڈ کے چیئرمین کے طور پر باگ ڈور سنبھالی

Is History,Echo of the Past?کیا تاریخ، ماضی کی بازگشت ہے؟

صدر غلام اسحاق خان نے1993 نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر دیا۔بلخ شیر مزاری نگراں وزیر (History)اعظم پاکستان منتخب

یہ دونوں واقعات 18 اپریل 1993ء کو پیش آئے تھے، جو پاکستانی سیاست کا ایک ہنگامہ خیز دن تھا,اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے آئین کی دفعہ 58-2(بی) کا استعمال کرتے ہوئے میاں نواز شریف کی پہلی حکومت کو بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزامات لگا کر ختم کر دیا تھا,حکومت کی برطرفی کے فوراً بعد بلخ شیر مزاری کو ملک کا نگراں وزیراعظم مقرر کیا گیا تاکہ وہ نئے انتخابات تک امورِ مملکت چلا https://tazzakhabren.com/11-februarywhen-history-whispered-change/سکیں

Is History,Echo of the Past?کیا تاریخ، ماضی کی بازگشت ہے؟

  (History)ثقافتی ورثہ کا عالمی دن

ثقافتی ورثہ انسانیت کی مشترکہ پہچان ہے جسکو برقرار رکھنے کیلئے د نیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال 18اپریل کو عالمی یومِ ثقافتی ورثہ منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عالمی سطح پر تاریخی عمارات، آثارِ قدیمہ، مذہبی و تمدنی مقامات اور دیگر ثقافتی ورثوں کی حفاظت، بحالی اور ان کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے

Is History,Echo of the Past?کیا تاریخ، ماضی کی بازگشت ہے؟

(History)عارف لوہار، پاکستانی لوک گلوکارکا یوم پیدائش

معروف لوک گلوکار عارف لوہار 18 اپریل 1966 کو لالہ موسیٰ میں پیدا ہوئے، آواز کی چاشنی اور خوش لباسی ان کی پہچان ہے۔عارف لوہار گذشتہ 20 سالوں کے دوران دنیا بھر میں 50 سے زیادہ غیر ملکی دوروں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ جن میں مملکت متحدہ، ریاستہائے متحدہ اور متحدہ عرب امارات کے دورے بھی شامل ہیں انھوں نے پاکستان اور بھارت میں متعدد پنجابی فلموں میں بھی نغمے گا چکے ہیں

Is History,Echo of the Past?کیا تاریخ، ماضی کی بازگشت ہے؟

   (History)البرٹ آئنسٹائن امریکی ماہر طبیعیات و سائنسدان,کا یوم وفات  

معروف سائنسدان البرٹ آئین سٹائین کے نام سے کون نہیں واقف؟انہیں ‘‘فادر آف ماڈرن فزکس’’کہا جاتا ہے،وہ 14 مارچ 1879ء کو جرمنی کے شہر اولم میں اشکنازی کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے۔ اْنہیں سب سے زیادہ شہرت تھیوری آف ریلیٹیویٹی اور ماس انرجی ایکیویویلنس کو تیار کرنے کے لیے ملی۔آئن سٹائن کو موسیقی بہت پسند تھی اور ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ سائنسدان نہ ہوتے تو ایک بڑے موسیقار ہوتے۔ 18اپریل 1955ء میں البرٹ آئن سٹائن کا 76 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا اور 1980 کی دہائی کے بعد آئن سٹائن کے دماغ پر بہت سی تحقیقات ہوئی لیکن بیشتر کو مسترد کردیا گیا یاناقابل اعتبار سمجھا گی

Is History,Echo of the Past?کیا تاریخ، ماضی کی بازگشت ہے؟

(History)امریکہ نے 18 اپریل 1942 کوسرزمین جاپان پر پہلا فضائی حملہ تھا

 ڈولٹل ریڈ  جو 18 اپریل 1942 کو ہوا، دوسری جنگ عظیم کے دوران سرزمین جاپان پر امریکہ کا پہلا فضائی حملہ تھا۔ یہ حملہ پرل ہاربر (7 دسمبر 1941) پر جاپانی حملے کے چار ماہ بعد کیا گیا، جس کا مقصد امریکی فوج اور عوام کے حوصلے بلند کرنا تھا۔اس مشن کی قیادت لیفٹیننٹ کرنل جیمز “جمی” ڈولٹل نے کی۔ طیاروں نے ٹوکیو، یوکوہاما، یوکووسوکا، ناگویا، کوبے اور اوساکا میں فوجی اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

مفہومعنوان
وقت کے سینے پر لکھی ہوئی انسانی داستانتاریخ کیا ہے؟
سچ، تجربہ اور گزرے ہوئے فیصلوں پر قائمبنیاد
قوموں کو جگانے اور سوچ بدلنے کی قوتطاقت
نظر انداز ہونے پر عبرت میں بدل جاناکمزوری
فاتح، مظلوم اور خاموش گواہکردارِ وقت
یاد رکھنے والوں کے لیے رہنمائیانجام
Is History,Echo of the Past?کیا تاریخ، ماضی کی بازگشت ہے؟

(History)اپریل 18- 1974 کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ڈرائی پورٹ کا افتتاح کیا 

18 اپریل 1974 کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں پہلی خشکی بندرگاہ  کا افتتاح کیا۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے صنعتی مرکز یعنی لاہور میں درآمدی و برآمدی سامان کی کلیئرنس کو آسان بنانا اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا، جس سے رسدکے مسائل حل ہوئے۔یہ ڈرائی پورٹ پاکستان میں جدید تجارتی انفراسٹرکچر کی بنیادوں میں سے ایک اہم سنگ میل تھی جس نے مقامی صنعتوں کو بین الاقوامی منڈیوں تک براہ راست رسائی فراہم کی

Leave a Comment