Rapid rise in child abuse cases in Pakistan,          ہوس کے اندھیروں میں گم ہوتی معصومیت

Rapid rise in child abuse cases in Pakistan ہوس کے اندھیروں میں گم ہوتی معصومیت,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

    Rapid rise in child abuse cases in Pakistan, ہوس کے اندھیروں میں گم ہوتی معصومیت

     Rapid rise in child abuse cases in Pakistan, ہوس کے اندھیروں میں گم ہوتی معصومیت

     Rapid rise in child abuse cases in Pakistan, ہوس کے اندھیروں میں گم ہوتی معصومیت

کتنی زینبیں،کتنی منتہائیں،کتنے بینام بچے،اجڑی مائیں،خالی بستے اور کتنی ننھی قبریں۔۔۔۔۔قوموں کی شناخت انکے ایٹمی ہتھیاروں سے نہیں انکے بچوں کی مسکراہٹ سے ہوتی ہے جب معصوم بچوں کی چیخیں عدالتوں سے پہلے آسمان تک پہنچنے لگیں تو سمجھ لیجیے دھرتی پر انصاف کا  جنازہ پڑھا جا چکا ہے۔ جون /جولائی2026 کا سورج پاکستان کی تاریخ کے ان مہینوں میں شمار کیا جائے گا جس میں ہر طلوع ہونے والا آفتاب اپنے ساتھ ایک نئی خبر،ایک نیا جنازہ،ایک نئی کرلاتی ماں ہمارے ضمیر پر دستک دیتی رہی،ٹیلی وژن کی سکرینیں سرخ پٹیوں سے بھرتی گئیں اخبارات کے صفحے سیاہ ہوتے گئے،گردن دراز پیشہ ور نمائشی بھروپیے فیتے کاٹتے رہے، رہی رعایا تو وہ عرصہ ہوا حالت رکوع میں ہے

    Rapid rise in child abuse cases in Pakistan, ہوس کے اندھیروں میں گم ہوتی معصومیت

     Rapid rise in child abuse cases in Pakistan, ہوس کے اندھیروں میں گم ہوتی معصومیت

جون کے آخری دن دل دہلا تے رہے،سرگودھا کی آٹھ سالہ منتہیٰ کی چیخیں پورے عہد کا نوحہ بن گئی،گھر سے چینی لینے گئی منتہیٰ کو پہلے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیاشور مچانے پر تیز دھار چھری سے قتل کر دیا گیا،چینی کا انتظار کرتی ماں کے حلق میں تمام عمر زہر کی کرواہٹ گھلتی رہے گی۔8سالہ بچہ دوکان پر بوتل لینے گیاا اور پھر کبھی واپس نہ آیا بعد میں اسکی لاش ہمسائے کے گھر کے واش روم سے ملی،جون کی سفاکیت جولائی میں بھی برقرار رہی۔سر سبز کھیتوں اور خوشحال کسانوں کا ساہیوال چند ہی دنوں میں معصوم بچوں کے خلاف جنسی جرائم اور قتل کی خبروں سے لرز اٹھا صرف 24 گھنٹوں کے اندر نا بالغ بچوں کے ساتھ جنسی درندوں نے انسانیت کو شرما دیا

    Rapid rise in child abuse cases in Pakistan, ہوس کے اندھیروں میں گم ہوتی معصومیت

دس سالہ بچہ اپنے ہی دوستوں کی ہوس کا نشانہ بن گیا، دونوں لڑکے متاثرہ بچے کو بیہوشی کی حالت میں باغ میں چھوڑ کر فرار ہو گئے،14 سالہ بچے کی معصومیت مکئی کے کھیتوں میں روند دی گئی،اسی ساہیوال میں چھ سالہ بچی کے ساتھ اس کے والد پر مبینہ زیادتی کا الزام سامنے آیا،ایک اور 16سالہ بنتِ حوا کی عصمت کو آدمؑ کے بیٹے نوچتے رہے،کراچی میں چھ سالہ بچے کا لرزہ خیز قتل کراچی کو پیرس قرار دینے والے حکمرانوں کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ مار گیا ملزم حمزہ نے زیادتی کے بعد تار سے گلا گھونٹ کر قتل کیا پھرلاش کو بوری میں بند کر کے خالی پلاٹ میں پھینک د یا،یہ صرف خبریں نہیں ان ماؤں کے بین ہیں جن کی گودیں اجڑ گئیں،ان باپوں کے ٹوٹے حوصلے ہیں جو اپنے بچوں کو کندھوں پر اٹھانے کے خواب دیکھتے تھے انکے جنازے نہیں،ان بہنوں کی سسکیاں ہیں جنہوں نے اپنے کھیل کے ساتھی ہمیشہ کے لیے کھو دیے،مقتل گاہیں ابھی اور بھی ہیں انہیں بھی پڑھیے

    Rapid rise in child abuse cases in Pakistan, ہوس کے اندھیروں میں گم ہوتی معصومیت

 تقدس کی آڑ میں چھپی درندگی،بچوں کو متشدد مولوی سے بچائیں: ضربا،ضربا (وہ مارتا ہے)کی گردان کرتے پروان چڑھتے،چہرے کو سنت نبویﷺ سے سجائے کچھ مکروہ اہل جبّہ و دستار مساجد و مدارس میں بچے بچیوں کے ساتھ سفلی کھیل کھیلتے ہیں،متاثرہ بچوں کی دہائیاں جنت بانٹنے والوں کی سفاکیت کی داستانیں سناتی ہیں احمد (فرضی نام)کے بقول دینی تعلیم کی غرض سے مجھے دیگر کزنز کے ساتھ مدرسہ میں داخل کروایا گیاقاری صاحب اتنے متشدد نکلے کہ بات بہ بات سرسوں کے تیل لگے ڈنڈے سے پیٹتے،ایک بار قاری صاحب نے اس زور سے ڈنڈا ایک لڑکی کو مارا جس کی پیٹھ پر پھوڑا نکلا تھا،ضرب سے پھوڑا پھٹ گیا مجھے آج بھی یاد ہے وہ لڑکی اس قدر تڑپی جیسے بن پانی کے مچھلی،ڈر کے مارے کئی بچوں نے مدرسہ جانا چھوڑ دیا۔https://tazzakhabren.com/the-funeral-of-innocence/

لاہور چکوال سمیت ملک کے دیگر حصوں سے ایسے بھیانک واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں جہاں بچوں کو دین سکھانے کے نام پر درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا،سندھ کے علاقے چمبڑ کے ایک مدرسے میں طالبعلم کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور پھر قتل کا دل ددہلا دینے والا واقعہ رونما ہوا ملزمان بچے کو نشہ آور گولیاں کھلا کر ہوس کا نشانہ بناتے رہے، فیصل آباد بٹالہ کالونی کے قاری رفاقت نے شعیب نامی طالب علم کو متعدد بار بدفعلی کا نشانہ بنانے کے بعد اپنے ہی طالب علموں سے قتل کروا دیا دو دن بعد شعیب کی بوری بند لاش گندے نالے سے برآمد ہوئی

    Rapid rise in child abuse cases in Pakistan, ہوس کے اندھیروں میں گم ہوتی معصومیت

کہتے ہیں بچوں کی ہنسی جنت کی خوشبو ہوتی ہے ان کی معصوم دعائیں آسمانو ں کے دروازے کھٹکھٹاتی ہیں لیکن جب کوئی ننھا فرشتہ درندگی کا شکار ہوتا ہے تو ایک جسم زخمی نہیں ہوتا پوری انسانیت زخمی ہوتی ہے پوری تہذیب ماتم کرتی ہے۔آخر میں تاریخ صرف ایک ہی سوال کرتی https://www.bbc.com/urdu/pakistan-43637489ہے؛جب تمہارے بچے چیخ رہے تھے تم اس وقت کہاں تھے؟

1 thought on “Rapid rise in child abuse cases in Pakistan,          ہوس کے اندھیروں میں گم ہوتی معصومیت”

Leave a Comment