Close Allies and the Storm of Allegations اقتدار کے بد عنوان ہمسائے

Close Allies and the Storm of Allegations اقتدار کے بدعنوان ہمسائے,ہمارے آج کے موضوع ہے

Close Allies and the Storm of Allegations اقتدار کے بد عنوان ہمسائے

اقتدار کی راہیں ہمیشہ پھولوں سے نہیں سجتیں ان پر الزامات کے کانٹے بھی بکھرے ہوتے ہیں، قوموں کی تقدیر لکھنے والے کبھی انصاف کی خاموش راہداریوں اور کبھی احتساب کے کٹہروں میں ہانپ رہے ہوتے ہیں،بعض نے عدالتوں سے بریت حاصل کی چند کے نصیبوں میں اڈیالہ کی کال کوٹھری آئی،سیاست کے سمندر میں مردوں کے ساتھ ساتھ چند نامور غوطہ خورخواتین کے نام آتے ہیں جنہوں نے اپنے کارناموں کے ساتھ کبھی موجوں پر رقص کیا تو کبھی مالی بیظابطگیوں کے الزامات کے ساتھ گہرے پانی میں ڈبکیاں لگائیں۔https://tazzakhabren.com/the-story-of-lavish-leadership/

Close Allies and the Storm of Allegations اقتدار کے بد عنوان ہمسائے

چوئی سون سل، ڈیزانی ایلیسن ماڈوکی(نائیجیریا)ماریہ رینالڈز اور جوڈتھ کیمبل ایسی ہی خواتین ہیں جن پر یہ شعر صادق آتا ہے……………………..  خود تو ڈوبے ہیں صنم،تم کو بھی لے ڈوبیں گے

Close Allies and the Storm of Allegations اقتدار کے بد عنوان ہمسائے

Close Allies and the Storm of Allegations اقتدار کے بد عنوان ہمسائے

کوئی دس برس پڑتے ہیں 2016کا سال تھا جنوبی کوریا نے ایک بڑے کرپشن کا آغاز دیکھا جس میں اسکی سیاسی اور کاروباریاشرافیہ نمایاں تھی جس نے پہلی خاتون صدر پارک گیون ہائے کی حکومت گرائی اس اسکینڈل نے پارک کی پرانی دوست؛چون سون سل؛کے ساتھ تعلقات پر توجہ مرکوز کی،چوئی نے صدر پارک گیون ہائے کی تاحیات دوست اور متعمد خاص کی حیثیت سے جنوبی کوریا کے بڑے اداروں (سام سنگ اور لوٹے) کو دسیوں ملین ڈالرز غیر منافع بخش بنیادوں کو عطیہ کرنے پر مجبور کیامزید براں چوئی کوغیر قانونی طور پر حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے اور کاروباری اداروں سے رشوت وصول کرنے کی اجازت تھی۔ کورین راسپوٹین اپنے ساتھ ساتھ میر کارواں کو بھی لے ڈوبی(20)بیس سال کی قید نے اقتدار کی راہ الگ کھوٹی کیhttps://skr.wikipedia.org/wiki/پارک_گیئون_ہائے

Close Allies and the Storm of Allegations اقتدار کے بد عنوان ہمسائے

پاکستان کی سیاست کی بات کی جائے تو رجیم چینج کے بعد کی تاریخ گواہ ہے کہ ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت سے برسر اقتدار آنے والے سینٹر فیصل واوڈا نے گزشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں حمایتیوں پر تابڑ توڑ حملے کیے فرماتے ہیں؛کسی حکومتی آدمی کا بیٹا جس پر بیرون ملک جانے پر پابندی ہے دبا کے چوری کر رہا ہے،نظام کے نمائندے مزید انکشاف کرتے ہیں چور اچکے ٹھگ مفرور اشتہاری سب کی کرپشن کی فائلیں کھل رہی ہیں،میڈیکل انڈسٹری میں ایسی دوائی ایجاد ہوئی ہے کہ2023 کے بعد کوئی حکمران بیمار نہیں ہوا

Close Allies and the Storm of Allegations اقتدار کے بد عنوان ہمسائے

Close Allies and the Storm of Allegations اقتدار کے بد عنوان ہمسائے

گھوڑا بھی آپکا میدان بھی آپ کا گھاس بھی آپ کی گدھا بھی آپ کا،سنگل فری ڈنڈا فری،اکیلے دوڑ کر بھی آپ ہار جاتے ہیں،آپ کفایت شعاری کی بات بھی کرتے ہیں اور ۱۱ ارب کے جہاز بھی خریدتے ہیں،ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں مگر ان کی کرپشن کی فائلیں اداروں تک پہنچ چکی ہیں،کیا آپ کو نہیں پتہ کی کسی وزیر اعلیٰ کی ناک کے نیچے کوئی عورت ارب پتی بن گئی ہے؛موصوف کے بارے میں مشہور ہیکہ انکو ایک خاص طرح کے ٹاسک کے لیے میدان میں اتارا جاتا ہے مشہور صحافی شاہد میتلا کی خبر نے واوڈا صاحب کے انکشافات پر مہر تصدیق ثبت کی انکے مطابق؛پنجاب جیسی کرپشن پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہو ئی وزیر اعلیٰ کی فرنٹ وومن کے انڈر کوئی پروجیکٹ ایسا نہیں جس میں کمیشن اور کک بیکس نہ ہوں پروجیکٹ کے کک بیکس دبئی اوردیگر ممالک میں موصول ہوتے ہیں،فرح گوگی تو بیچاری بدنام ہیں موصوفہ سو فرح گوگیوں پر بھاری ہیں والدہ کو بھی لاہور بلا لیا گیا ہے تاکہ مالی معاملات میں مزید تیزی آسکے

Close Allies and the Storm of Allegations اقتدار کے بد عنوان ہمسائے

Close Allies and the Storm of Allegations اقتدار کے بد عنوان ہمسائے

تہاڑ جیل کا قیدی کشمیری حریت پسند رہنما ےٰسین ملک کی اہلیہ مشال ملک پنجاب حکومت کے خلاف الگ دہایاں دے رہی ہیں اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں عوام کو مسلم لیگ نون کا پرانا نعرہ یاد کروانا نہیں بولتیں؛یہ جو دہشت گردی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تاریخ بتاتی ہے کہ اقتدار کی کہانیاں ہمیشہ کامیابیوں سے نہیں لکھی جاتیں بعض ابواب سوالیہ نشانوں میں رقم ہوتے ہیں کہ کیا اقتدار خدمت کا استعارہ بنایا اختیار احتساب کی دہلیز تک پہنچ گیا،قوم اب ایسا منظر نہیں دیکھنا چاہتی جس میں پاکستانی راسپوٹین(روس کا ریاکار ساحر جسے زار کے دربار تک رسائی تھی) اپنے ساتھ ساتھ میر کارواں کو بھی لے ڈوبے

Leave a Comment