The story of lavish leadershipشاہ خرچ قیادت کی کہانی,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
شاہ خرچ کی روش محلوں کی چمک میں چھپی بے حسی ہے، جب عوام کے خوابوں سے بے خبر قیادت عظمت کے راہداریوں میں شاندار تقریبات قیمتی زیورات سے زرق برق ہو کر شان و شوکت کے مینار سجاتی ہے تو غربت کی چیخیں اور بھی گونجنے لگتی ہیں اعتماد ٹوٹتے اور فاصلے بڑھتے ہیں خواتین قیادت جو بعض اوقات امید کی علامت سمجھی جاتی ہیں جب اسی شاہانہ طرز زندگی میں ڈوبتی ہیں تو گلیوں میں اندھیروں کا بسیرا کچھ اور بڑھ جاتا ہے۔دنیا پر حکومت کرنے والی خواتین کی ایک لمبی فہرست ہے جنہوں نے اپنی فہم و فراست سے اپنے ملک کے لئے کارہائے نمایاں سر انجام دیے،مارگریٹ تھیچر آئرن لیڈی،اندرا گاندھی؛غریبی ہٹاؤ دیش بچاؤ؛کا مقصد لئے،گیاتری دیوی راج ماتا کے خطاب کے ساتھ، بینظیر چاروں صوبوں کی زنجیر کہلائیں،فاطمہ جناح حقیقت میں مادر ملت تھیں,ہیٹ شیپسٹ(مصر)وومن بادشاہ کہلائیں ان سب کے ساتھ ساتھ مٹھی بھر خواتین قیادت ایسی بھی رہی جو اقتدار کی ذاتی آسائشوں سے عوام کی ٓزمائشیں بڑھاتی رہیں

The story of lavish leadershipشاہ خرچ قیادت کی کہانی (میری اینٹونیٹ)
فرانسیسی انقلاب سے قبل فرانس کی ملکہ، سرکاری فنڈ ذاتی تشہیر کے لیے استعمال ہوتے فیشن محلات اور تفریحات پر پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ؛خرچ کرنے والی ملکہ؛عدم مساوات کی طاقتور علامت بن گئی عوامی ناراضگی نے انقلابی جذبات کو جنم دیاجو بالآخر بادشاہت کے زوال کا سبب بنا۔میری اینٹونیٹ اس دنیا کا شکار تھی جس میں اسے پھینک دیا گیا، اڑتیس برس کی ملکہ فرانس میں پھانسی پر جھول گئ

The story of lavish leadership شاہ خرچ قیادت کی کہانی(امیلڈا مارکوس)
فلپائن کی سابق خاتون اول،جوتوں کے ہزاروں جوڑے،لگثرری پراپرٹیز، بد عنوانی سے وابستہ حکومت،سیاسی اسراف اور ریاستی وسائل کے بے جا استعمال کی عالمی علامت بن گئیں،عظیم الشان ثقافتی تقریبات کی میزبانی،مہنگے انفراسٹرکچر پروجیکٹس کی تعمیر جبکہ فلپائن کو معاشی چیلنجوں غربت اور بڑھتے ہوئے قرضوں کا سامنا تھا،گورنس اور احتساب میں ادارہ جاتی کمزوریوں نے عوامی غصے کو ہوا دی

The story of lavish leadershipشاہ خرچ قیادت کی کہانی (اسما الاسد)
شام کے صدر بشار الاسد کی اہلیہ،خاتون اول ّکے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں جنگ کے دوران ریاسی وسائل سے فائدہ اٹھانا غربت اور تباہی کے دوران ڈیزائنر اشیا کی خریداری نے نا صرف شامیوں کا اعتماد ختم کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید کا باعث بنی

شاہ خرچ قیادت کی کہانی The story of lavish leadership https://tazzakhabren.com/punjab-governments-new-transport-policy-released/
وہ نمائندگی کرنے آئی تھی اور اس نے ایسا کیا!بڑے صوبے کے افق پر روشنی تو بہت ہے مگریہ روشنی کچھ ٓانکھوں کو چبھ بھی رہی ہے،،منصوبوں کی تختیاں فخر سے آویزاں،کہیں دیواریں رنگین ہیں ساتھ سڑکیں نئی نئی جو منزلوں کو کھوٹا کر رہی ہے،ترقی کی کہانیاں ضرور لکھی جا رہی ہیں مگر ان کہانیوں کے حاشیے پر قرضوں کی سیاہی بھی بڑھتی جا رہی،چرب زبان درباری آفرینش بجا لا رہے ہیں،گستاخوں کی زبانیں گدی سے کھینچ لینے کا فرمان ہے، عزیزان ِمن نوازشات کے بوجھ تلے حالتِ رکوع تک جھکے جاتے ہیں،تشہیر کے رنگ گہرے ہیں،ایوانوں میں بیٹھے موقع پرستوں کے لئے آرام دہ رہائشوں اور آسائشوں کا ایک جہاں آباد ہے،مفت ایندھن کی روانی ایسی جیسے دریا بہتا ہو جس میں ابن الو قتوں کی گاڑیاں فراٹے بھرتی ہیں

The story of lavish leadershipشاہ خرچ قیادت کی کہانی
یہ کیسا سماج بسایا ہے جہاں چند کی روشنی کے لئے کروڑوں کی دنیا اندھیر کر دی،جہاں ریڈ لائنوں کی چادر چار دیواری کا تقدس پامال ہو،چوک چوراہوں ورکشاپوں میں کھپتے ایک کروڑ چھوٹے استاد نہ قلم کی روشنی نہ علم کی امید،شاہ خرچ قیادت!شہر کی صفائی میں جتے ان ہاتھوں کا نوحہ بھی تو سنو، ان کے جھاڑو میں شہر کی چمک تو ہے مگر مہینوں اجرت کی عدم دستیابی نے انہیں مایوسی کے اندھیروں میں بھٹکا دیا ہے،جہاں ہر فردتین لاکھ تیتیس ہزار کا مقروض ہو،صوبے کی انتیس فیصد غربت کی لکیریں ٹاپتی جنتاہو،پچاس فیصدبند صنعتوں نے مزدور کے منہ سے آخری نوالہ بھی چھین لیا ہو وہاں حکمرانوں کی گیارہ ارب کے گلف اسٹریم جہاز بمعہ ایک کروڑ ستر لاکھ کے تنخواہ دار دو گورے پائلٹوں کے ساتھ اڑان بھرنی تو بنتی ہے،
کچھ سر پھرے سوال کی گستاخی اب بھی کریں گے جسے تاریخ دھراتی رہے گی۔۔جب اہلِ خرد کی باتوں پر کچھ جاہل شور مچاتے ہوں،جب بلبل ہو تصویر چمن اور کوے گیت سناتے ہوں،جب چڑیوں کے ان گھونسلوں میں کچھ سانپ اتارے جاتے ہوں،جب مالی اپنے گلشن میں خود ہاتھ سے آگ لگاتے ہوں،اس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو،جب شاہ کے ایک اشارے پر اپنوں میں نیازیں بٹتی ہوں،جب آنکھیں غربت ماروں کی حسرت کا نظارہ کرتی ہوں،جب قلمیں ظالم جابر کی عظمت کا قصیدہ لکھتی ہوں،جب حق کی باتیں کہنے پہ انسان کی زبانیں کٹتی ہوں،اس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو،ہم اہل ِ حرم ہیں اب ہم سے یہ کفر گوارا کیسے ہو، ہم لوگ انا الحق بولیں گے، ہم لوگ انا الحق بولیں گے۔
| تفصیل | پہلو | تفصیل | پہلو |
| وزیرِ اعلیٰ پنجاب | عہدہ | مریم نواز | نام |
| مسلم لیگ (ن) | جماعت | 2024 | سالِ آغاز |
| پنجاب کی پہلی خاتون وزیرِ اعلیٰ | نمایاں پہچان | ترقیاتی کام، صحت، تعلیم | اہم توجہ |