Who Slaughters Democracy in the Name of Politics?جب اقتدار کے ہاتھوں پر خون اتر آئے,ہمارے آج کے کالم کا موضوع
تاریخ کے اوراق صرف روشنائی سے نہیں لکھے جاتے بعض ورق ایسے بھی ہوتے ہیں جو آنسو, خون اورخاموش چیخوں سے رقم ہوتے ہیں “سیاسی قصاب” کوئی عدالتی اصطلاح نہیں، نہ کسی قانون کی کتاب میں درج کوئی لقب یہ دراصل ان آنکھوں کی گواہی ہے جنہوں نے اپنے پیاروں کو سڑکوں پر گرتے دیکھا، جب اختلافِ رائے کو بغاوت اور احتجاج کو جرم قرار دیا گیا اور جب ریاستی اہلکار اپنے ہی شہریوں کے سامنے خوف، جبر اور خونریزی کے استعارے بن گئے,
Who Slaughter’s Democracy in the Name of Politics?جب اقتدار کے ہاتھوں پر خون اتر آئے
ظلم کی داستانوں کے عنوان بن جانے والوں میں سرفہرست کرنل جیمز سمتھ نیل کا نام آتا ہے.ایسٹ انڈیا کمپنی کے اپنے تاریخ دانوں نے جسے “بچر” کا نام دیا بھارتی لکھاری منوج راجن نے اپنی حالیہ کتا ب “قصائی با ڑ ہ ” میں لکھا کرنل نیل نے 1857 کی ہندوستانی بغاوت کے دوران خدمات انجام دیں ہیولاک اور میجر ہڈسن کے ساتھ مل کر 360 دنوں میں 80,000 لوگوں کو بندوقوں کے آگے سنگینیں لگا کر قتل کیا،مسلمانوں کو سور کا گوشت اور ہندؤں کو گائے کا ماس کھلاتا،فسادات کے نتیجے میں بہنے والے خون کو پانی سے صاف کرنے کی بجائے باغیوں کو حکم دیتا کہ زبان سے چاٹ کر صاف کرو یوں اقتدار کی کرسی انسانیت سے بلند ہوئی اور حکم دینے والے کے لیےجانوں کی حرمت محض ایک عدد بن کر رہ گئی.https://ur.wikipedia.org/wiki/مردم_کشی
Who Slaughter’s Democracy in the Name of Politics?جب اقتدار کے ہاتھوں پر خون اتر آئے
بچپن سے ہی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کی آغوشِ دہشت میں پرورش پانے والے انتہا پسند مودی نے 2002 میں ریاست گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات میں تین ہزار کے لگ بھگ مسلمان قتل کروا دیے ہزاروں گھر اور کاروبار تباہ ہو گئے, خونِ مسلم کی اس ارزانی نے مودی کو ”گجرات کے قصاب‘‘ کا خطاب دیا ” ٹِکا خان (1915-2002)ایک پاکستانی فوجی افسر اور پہلے چیف آف آرمی سٹاف، جو 1971 میں بنگالیوں اور بلوچوں کی نسل کشی میں اپنے کردار کے لیے “بچر آف بنگال” کے نام سے جانا جاتا ہیحماۃ کا قصاب, شام کے سابق صدر حافظ الاسد کا بھائی رفعت الاسد کا تھا,بیجنگ کے قصاب کا لقب چین کے سابق وزیر اعظم ‘لی پنگ’ کو دیا گیا,ایمانویل ڈی پینا انگولا کی جنگِ آزادی,کلڈ لِبی ہسپانوی خانہ جنگی,سربیا کے سابق صدر سلوبودان میلوسوچ 1990 کی دہائی کی بلقان جنگ, یوگنڈائی فوجی ڈکٹیٹر عیدی امین سیاسی تاریخ کے”قصاب” ہیں
برس گزر ے حکومتیں بدلیں چہرے تبدیل ہوۓ مگر کچھ مناظر اجتماعی حافظے پر ایسے نقش ہو جاتے ہیں کہ ہر ذکر کے ساتھ زخم پھر تازہ ہو جاتے ہیں 17 جون 2014 کی ماڈل ٹاؤن کی صبح بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا ہی باب ہے جب ریاستی طاقت اور انسانی جانیں آمنے سامنے آئیں، اور خون نے سڑکوں پر وہ سوال لکھ دیے جن کے جواب آج بھی قوم تلاش کر رہی ہے ناقدین نے بعض حکومتی شخصیات بالخصوص رانا ثناء اللہ کے لیے “سیاسی قصاب” جیسی سخت اصطلاح استعمال کی
Who Slaughter’s Democracy in the Name of Politics?جب اقتدار کے ہاتھوں پر خون اتر آئے
مارچ 2023 میں زمان پارک میں پنجاب کے انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کے خلاف سرچ وارنٹ,پولیس کی بھاری نفری، بکتر بند گاڑیاں، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے ذریعے علاقے کو خالی کرانے کی کوشش کی گئی اس آپریشن نے بڑے تنازع کو جنم دیا عوامی اور ریاستی طاقت، سیاسی انتقام اور انسانی حقوق کے بارے میں گہرے سوالات کھڑے کیے۔فضا میں دھویں اور سڑکوں پر بھگدڑ کے دوران فدائین کی طرف سےعثما ن انور کو https://tazzakhabren.com/secrets-in-a-diplomatic-cable/بچر کا خطاب ملا
ڈی چوک محض چند سڑکوں کے سنگم کا نام نہیں۔ یہ پاکستان کے سیاسی شعور کی دھڑکن ہے۔ یہاں نعروں کی بازگشت، احتجاج کی صدائیں اور اقتدار کے فیصلے آمنے سامنے آتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ سانس لیتی ہے 24 نومبر کی رات ایسی ہی رات تھی جوسورج نکلنے کے باوجود ختم نہ ہوئی اس رات ریاستی طاقت پورے جلال کے ساتھ اس وقت میدان میں اتری، جب پاکستان تحریک انصاف کے کارکن کنٹینروں، خار دار رکاوٹوں اور سرکاری پابندیوں کو عبور کرتے ہوئے ڈی چوک کی طرف بڑھے،اسلام آباد کی سرد رات میں فضاء آنسو گیس سے بوجھل تھی۔ سائرن چیخ رہے تھے، قدموں کی دھمک سنائی دے رہی تھی، اور ہر سمت بے یقینی کا سایہ پھیلا ہوا تھا,جھڑپیں گرفتاریاں اور انسانی جانوں کے ضائع ہونے کی اطلاعات آئیں اور چند گھنٹوں میں دارالحکومت کی سڑکیں پاکستان کی تقسیم شدہ سیاست کا آئینہ بن گئیں۔اس کارروائی کے بعد سیاسی کارکنوں اور ناقدین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے محسن نقوی کے لیے “سیاسی قصاب” جیسی سخت اصطلاح استعمال کی
Who Slaughter’s Democracy in the Name of Politics?جب اقتدار کے ہاتھوں پر خون اتر آئے
تاریخ کی عدالت: اقتدار کے فیصلے وقتی مگر تاریخ کا قلم دیرپا ہوتا ہے۔ وہ نہ سرکاری بیانات دیکھتا ہے نہ سیاسی وضاحتیں؛ وہ صرف یہ یاد رکھتا ہے کہ کس کے حکم پر لاٹھیاں اٹھیں، کس کے دور میں آنسو گیس چلی، اور کس لمحے ریاست اپنے ہی شہریوں کے مقابل آ کھڑی ہوئی۔طاقت کس کے ہاتھ میں تھی، اور اس کا استعمال کیسے ہوا؟ آخرکار تاریخ انہی کرداروں کے نام کے ساتھ وہ لفظ لکھ دیتی ہے جس سے کوئی حکمران کبھی یاد نہیں کیا جانا چاہتا” سیاسی قصاب”
رہے گی سادہ کتاب کب تک،کبھی تو آغازِ باب ہو گا
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی،کبھی تو ان کا حساب ہوگا
سحر کی خوشیاں منانے والو، سحر کے تیور بتا رہے ہیں
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا محال ہو گا

