Site icon tazzakhabren.com

Secrets in a Diplomatic Cable,سائفر کیس: حقیقت سے  تنازع تک

Secrets in a Diplomatic Cable,سائفر کیس: حقیقت سے  تنازع تک

ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے,Secrets in a Diplomatic Cable,سائفر کیس: حقیقت سے  تنازع تک

Secrets in a Diplomatic Cable,سائفر کیس: حقیقت سے  تنازع تک
سائفر کیا ہوتا ہے؟

سائفر ایک خفیہ   اور حساس نوعیت  کا سفارتی پیغام ہے جو کوڈ زبان میں لکھا جاتا ہے تاکہ حساس معلومات محفوظ رہیں۔ اس مقصد کے لیے مواصلات کے معمول کے ذرائع استعمال نہیں کیے جاتے یعنی ڈاک یا ای میل وغیرہ۔ دنیا بھر کے سفارت خانے اہم سیاسی، عسکری اور سفارتی معلومات اپنے ممالک کو اسی طریقے سے بھیجتے ہیں پاکستان کے دفتر خارجہ میں خصوصی تربیت یافتہ افسران ان پیغامات کو کوڈ اور ڈی کوڈ کرتے ہیں۔

(معاملے کا آغاز)Secrets in a Diplomatic Cable,سائفر کیس: حقیقت سے  تنازع تک

27 مارچ 2022 کو عمران خان نے اسلام آباد میں ایک بڑے جلسے کے دوران ایک کاغذ لہرا کر دعویٰ کیا کہ بیرونی سازش کے ذریعے ان کی حکومت کو گرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک سفارتی سائفر تھا جس میں پاکستان کے لیے دھمکی آمیز پیغام موجود تھا۔

عمران خان سائفر کیس: مختصر تاریخ

واقعہتاریخواقعہتاریخ

تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت ختم ہوئی۔
10- اپریل 2022Imran Khan نے جلسے میں مبینہ سائفر لہرا کر بیرونی سازش کا دعویٰ کیا۔27- مارچ 2022
حکومت نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت تحقیقات کا حکم دیا۔جولائی 2023۔عمران خان نے کہا کہ سائفر کی کاپی گم ہو گئی تھی۔ستمبر 2022
عمران خان اور Shah Mahmood Qureshi پر فرد جرم عائد ہوئی۔13 دسمبر 2023
سائفر کیس میں عمران خان کو گرفتار کیا گیا۔
29 اگست 2023
Drop Site News کی مبینہ دستاویز کے بعد کیس دوبارہ بحث میں آ گیا۔2026خصوصی عدالت نے دونوں کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی۔30 جنوری 2024
امریکی کردار کا الزامhttps://tazzakhabren.com/political-prisoners/

عمران خان نے کہا کہ امریکی اہلکار  ڈونلڈ لو نے پاکستانی سفیر اسد مجید خان سے کہا کہ اگر عمران خان کو ہٹا دیا جائے تو پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔ریاستہائے متحدہ کا محکمہ خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔

ڈونلڈ لو کون ہیں؟

ڈونلڈ لو جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکی دفتر خارجہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری ہیں اور انھیں امریکہ کے لیے بطور سفارتکار خدمات انجام دیتے ہوئے 30 سال سے زائد ہو چکے ہیں۔ڈونلڈ لو سنہ 1992 سے سنہ 1994 کے دوران پاکستان کے شہر پشاور میں امریکی قونصل خانے میں بطور پولیٹیکل آفیسر بھی تعینات رہے ہیں۔ ڈونلڈ لو نے دو مرتبہ انڈیا میں بھی سفارتی ذمہ داریاں ادا کیں جس کی وجہ سے وہ اُردو اور ہندی دونوں زبانوں کو سمجھتے ہیں اور خطے کی سیاسی صورتحال سے بخوبی واقف ہیں۔

(حکومت کی برطرفی)Secrets in a Diplomatic Cable,سائفر کیس: حقیقت سے  تنازع تک

اپریل10- 2022 کو عمران خان کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار تھا کہ کسی وزیر اعظم کو اس طریقے سے اقتدار سے الگ کیا گیا۔

سائفر کی گمشدگی

بعد میں عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وزارت خارجہ کی جانب سے موصول ہونے والی سائفر کی کاپی ان کے پاس سے گم ہو گئی تھی۔ دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم آفس کو بھیجی گئی اصل کاپی واپس نہیں ملی، جس سے حساس معلومات کے افشا ہونے کے خدشات پیدا ہوئے۔

مقدمہ اور الزاماتhttps://ur.wikipedia.org/wiki/لیٹر_گیٹ

ایف آئی اے نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ الزام تھا کہ انہوں نے خفیہ سفارتی دستاویز کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا اور ریاستی راز کے تحفظ میں ناکامی دکھائی۔

سزا اور عدالت کا فیصلہ ,عمران خان کو 10 سال قید اور بعدازاں سزا کی معطلی

جنوری 2024 میں خصوصی عدالت نے دونوں رہنماؤں کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی۔ تاہم 3 جون 2024 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے شواہد اور قانونی نکات کی بنیاد پر یہ سزا کالعدم قرار دے دی جبکہ  وفاقی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل کر رکھی ہے۔

(شہباز شریف کا مؤقف)Secrets in a Diplomatic Cable,سائفر کیس: حقیقت سے  تنازع تک

اگست 2023 میں اتحادی حکومت کے سربراہ شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’عمران خان اس معاملے (سائفر) پر اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے خود کہہ چکے ہیں کہ سازش امریکہ نے نہیں کی تھی بلکہ فلاں نے کی تھی۔۔۔ یہ سر سے پاؤں تک ایک جھوٹ کا پلندہ ہے، اور انھی معاملات کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بڑا بگاڑ آ چکا تھا جسے اعتماد کے لیول تک لانے میں اُن کی حکومت نے بڑی محنت کی 

(ڈراپ سائٹ کی نئی دستاویز ),Secrets in a Diplomatic Cable,سائفر کیس: حقیقت سے  تنازع تک

حال ہی میں Drop Site News نے ایک مبینہ تین صفحات پر مشتمل دستاویز شائع کی، جسے اصل سائفر قرار دیا جا رہا ہے۔ BBC Urdu نے اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کی، تاہم اس اشاعت کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر قومی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔

(نتیجہ),Secrets in a Diplomatic Cable,سائفر کیس: حقیقت سے  تنازع تک

سائفر کیس پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کے سب سے متنازع مقدمات میں شمار ہوتا ہے۔ ایک طرف اسے بیرونی مداخلت کا ثبوت قرار دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف اسے سیاسی بیانیہ اور خفیہ دستاویز کے غلط استعمال کا معاملہ کہا جاتا ہے۔ حقیقت کا حتمی فیصلہ عدالتوں اور مستند شواہد کی بنیاد پر ہی ممکن ہوگا۔

Exit mobile version