“KautilyaChanakya: The Sage Who Shaped Mauryan Dynasty“وشنو گپتا (چانکیہ)موریہ سلطنت کے ذہین معمار, ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
موریہ سلطنت
موجودہ پاکستان، ٹیکسلہ میں (350 قبل مسیح)برہمن گھرانے میں پیدا ہونے والا کوٹلیہ چانکیہ ایک فقیہہ، فلسفی اور سیاستدان جو اقتصادیات، سیاست، جنگی حکمتِ عملی، علم نجوم، طب جیسے علوم کی گہرائی سے واقف تھا اسکا اصلی نام وشنو گپتا تھا،دانائی کی وجہ سے عوام اور راجا اسے چانکیہ کے نام سے پکارتے اور کٹل (حاسد)اتنا کہ کوٹلیہ مشہور ہو گیا، اپنے بچپن کے دنوں میں چانکیہ نے پورے ویدوں کا مطالعہ کیا اور سیاست کے بارے میں سیکھا اسکے پاس عقل کا دانت تھا

جو دستور کے مطابق بادشاہ بننے کی ضمانت سمجھا جاتا تھا،چانکیہ دھن کا پکّا،اول درجے کا ذہین،زیرک اور سازشی تھا،شاہی محل کے قریب ایک جھونپڑی میں اسکی رہائش تھی جہاں اس نے سنسکرت زبان میں سیاست پر ایک کلاسک مقالہ؛ارتھ شاستر؛(جائیداد،معاشیات یا مادی کامیابی حاصل کرنے کی سائنس)لکھا،ارتھ شاستر کے مطابق رکھشا(تحفظ)وردھی(اقتصادی خوشحالی)اوریشا(کامیاب سفارتکاری)درگاہ(قلعہ کی حفاظت) چار نمایاں ستونوں کیساتھ مہان راشٹر(قوم) کا تصورجس کی لاٹھی اسکی بھینس کے نعرے کے ساتھ ایک متحد اور مضبوط ریاست پر مرکوز ہے۔
موریہ سلطنت کے عروج سے پہلے شمالی ہندوستان نندوں کی حکومت میں تھا، چانکیہ نے مگدھا کے علاقے پاٹلی پترا میں دھنانند جیسے ڈاکوؤں کو ہٹانے اور موری سلطنت قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیااور شہنشاہ چندر گپت موریہ کونئی طاقتیں حاصل کرنے میں مدد کی،چانکیہ چندرگپت کے بیٹے؛ بندوسار(امیر گھاتا)؛ کا بھی مشیر رہا۔

صدیاں گزریں جب آدھی دنیا یونانی فاتح سکندر اعظم کے سامنے سرنگوں تھی اسی چانکیہ کی سیاسی رہنمائی میں چندر گپت موریہ نے یونانی افواج کو شکست فاش دی اور ہندوستان میں پہلی وسیع اور عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی جس کی سرحدیں پاٹلی پتر ا(پٹنہ) سے کابل،کابل سے ہرات اور آگے بینگال تک پھیلی تھیں،چندر گپت ہندوستان کا پہلا راجہ تھا جس کا سکہ بحیرہ عرب سے خلیج بنگال تک چلتا تھا،چندر گپت موریا کے بعد آنے والے تمام ہندوستانی نیتاؤں نے سیاست کے رہنما اصولوں کو جاننے اور اپنانے کے لیے؛ ارتھ شاستر؛ سے رہنمائی لی۔پنڈت نہرو چانکیہ سے اس قدرمتاثر تھے کہ وہ لمبا عرصہ تک چانکیہ کے نام سے اخبارات میں کالم لکھتے رہے،آج کے اکھنڈ بھارت میں دہلی کے ڈپلومیٹک انکلیو کا نام؛چانکیہ پوری؛جبکہ مین بلیوارڈ؛کوٹلیہ مارک؛کہلاتا ہے۔
| تفصیل | پہلو |
|---|---|
| وشنو گپتا (چانکیہ) | نام |
| موجودہ پاکستان، ٹیکسلا | پیدائش |
| 350 قبل مسیح | وقت |
| برہمن خاندان | خاندان |
| فقیہہ، فلسفی، سیاستدان | پیشہ |
| اقتصادیات، سیاست، جنگی حکمت عملی، علم نجوم، طب | علوم |
| موریہ سلطنت کے مشیر اور سیاسی حکمت عملی کے ماہر | شہرت |

راجہ چندر گپت نے کوٹلیہ چانکیہ کی رہنمائی میں شمالی ہند کی تمام ریاستوں کو زیر کر کے ایک متحدہ سلطنت کی بنیاد رکھی جو تاریخ ہند کی پہلی اور بڑی سلطنت؛موریا سلطنت؛کہلائی جو چندر گپت کی ماں کے نام سے منسوب تھی۔ارتھ شاستر کے تمام مروجہ قوانین جن میں راجا کے حرم سے لے کر سماجی جرائم تک موریا سلطنت کے سر کا تاج تھے،موریا حکمران مطلق العنان اور موروثی ہوتا، راجا دیوتا کا نائب اور اسکی طاقت کا مظہر تھا،راجا اپنی سلطنت کے تمام خشک و تر کا مالک ہوتا اس لیے وہ کسانوں سے پیداوار کا ایک خاص حصہ بطور لگان وصول کرتا،موریہ میں نیم فوجی حکومت تھی،طاقت کا دارومدار فوج پر تھا،راجا کی عدم موجودگی میں سپہ سالار جسے سینہ پتی کہتے سلطنت کی دیکھ ریکھ کرتا، موریا سلطنت میں عدل و انصاف کی بات کی جائے تو یہاں بھی راجا ہی ملک کا بڑا قاضی تھا،ارتھ شاستر میں اس کے حکم کو تمام قوانین سے بالا تر بتا گیا ہے،موریا دور میں تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوا،شہر کے اندر چندر گپت کا شاندار محل تھا جس کے باغوں میں مور ناچتے،سٹوپوں پر شیر کنندہ تھے،جین روایت کیمطابق چندر گپت نے آخری عمر میں تخت سے دستبردار ہو کر حکومت اپنے بیٹے بندوسار کے حوالے کر دی تھی296قبل مسیح میں چندر گپت انتقال کر گیا موریا خاندان کے چار حکمران شالی شوک، دیو ورمن، ستمدہنوس، برہدرتھ پاٹلی کے تخت پر بیٹھے ہر نیا حکمران سابق سے کمزور تر نکلاآخر انحطاط اس حد تک بڑھا کہ فوج کے سالار؛پشی متر؛ نے برہدرتھ کو قتل کر کے موریا خاندان کا خاتمہ کر دیا۔