The New Constitution1935,“The Illusion of Reformقانون اور زندگی کا تصادم,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
سعادت حسن منٹو نے مختصر کہانی؛نیا قانون(نیا آئین)؛1938میں لکھی جو لاہور کے رہائشی کوچوان استاد منگو کے گرد گھومتی ہے،ناخواندہ ہوتے ہوئے دنیا کے بارے وسیع معلومات رکھتا ہے جو وہ وقتا فوقتاتانگے کی سواریوں سے سن کر اپنے حافظے میں جمع کرتا رہتا تھا۔ایک دن اسے اپنی سواریوں سے معلوم پڑتا ہے کہ ہندوستان میں یکم اپریل سے نیا قانون آ رہا ہے جس سے انگریزوں کی حکومت ختم ہو جائے گی،منگو جو انگریزوں سے شدید نفرت کرتا تھا اب بڑی شدت سے نئے قانون کا انتظار کرنے لگا،یکم اپریل کا دن بھی آن پہنچا منگو صبح سویرے تانگا لے کر سواری کا انتظار کرنے لگا کچھ ہی دیر میں ایک انگریز منگو کی طرف آتا دکھائی دیتا ہے منگو طنزاً پوچھتا ہے؛کہاں جانا مانگٹا؟ساتھ ہی منزل پر پہنچانے کے پانچ روپے کرایہ طلب کرتا ہے جس سے تو تکار شروع ہو جاتی ہے منگو بری طرح انگریز کو پیٹتا ہے،منگو کو بے فکری ہے تو اسی بات کی کہ اب تو ملک میں نیا قانون آ گیا ہے اب ان سفید چمڑی والوں سے کاہے کا ڈرنا،جھگڑا دیکھ کر رش بڑھتا ہے پولیس موقع پر پہنچ کر منگو کو تھانے لے جا کر حوالات میں بند کر دیتی ہے منگو؛نیا قانون نیا قانون؛ چلاتا ہے مگر سنتری سے یہ سنتے ہوئے کون سا نیا قانون؟ قانون وہی ہے پرانا کیا بک رہے ہو اور اسے حوالات میں بند کر دیا جاتا ہے

ایک کہانی سعادت حسن منٹو نے لکھی،ایک کہانی وقت کے ہاتھوں صفحہ قرطاس پر لکھی جا رہی ہے پڑھیے۔۔۔۔ناظر علی ایک غریب دیہاتی ہے پڑوس کے گاؤں میں کریانہ کی چھوتی سی دوکان چلاتا ہے کچھ دنوں سے دانت میں شدید تکلیف سے جوجھ رہا ہے،لونگ پھٹکری سے لے کر مولوی صاحب کا تعویز بھی بے اثر رہا،علاج کے لئے پیسہ درکار تھا جو فی الحال اسکے لئے ممکن نہ تھا،رات ٹی وی پر اسے صوبے کے سب سے بڑے منتظم کی زبانی معلوم پڑتا ہے کہ شہر کے بڑے ہسپتال میں علاج معالجہ کی تمام سہولیات بغیر کسی پیسے کے بہم پہنچائی جا رہی ہیں مزیدیکہ ادویات کی دستیابی پر بھی کوئی پیسہ نہیں اٹھے گا،اندھا کیا چاہے دو آنکھیں،پو پھوٹ ہی رہی تھی کہ ناظر علی شہر جانے والی ویگن میں سوار تھاآج اسے دوکان بند کرنے کا بھی کوئی دکھ نا تھا وہ سوچ رہا تھا کہ آج اگر آمدن نہیں ہو گی تو کون سا خرچ آنا ہے حساب برابر!

پرچی لے کر اپنی باری کا انتظار کر تاہے، اونچی آواز میں وہی ریکارڈنگ سارے اورگونج رہی تھی جو گزشتہ رات وہ سن کر آیا تھا،مسلسل شور طبیعت پر گراں تو گزر رہا تھا لیکن مفت علاج کی خوشی اس شور پر بھاری پڑ رہی تھی،اپنی باری پر ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں داخل ہوا کمپوڈر نے 280 روپے کا مطالبہ کیا تاکہ ڈاکٹر صاحب علاج شروع کر یں ساتھ یہ مژدہ بھی سنایا 330 روپے کا ٹیکہ باہر میڈیکل سٹور سے لے آئیں جو دانت میں لگنا ہے ساتھ ساتھ کمپوڈر موصوف ٹیکے بھرنے میں مصروف تھے جو نا معلوم مریضوں کو لگنے تھے (ڈھٹائی کی حد تھی)علاج کے بعد اگلا خوفناک مرحلہ دوا کا حصول تھا مسیحا نے تین دن کی دوا لکھ کر دی تھی،لمبی لائن میں لگنے کے بعد جب باری آئی تو بتایا گیا کہ دوا صرف ایک دن کی ملے گی مزید کے لئے کل پھر آ جانا،ہسپتال کے پاس ایک دن کا بس اتنا ہی اسٹاک آتا ہے،ساتھ کھڑے مریض کو بتایا جا رہا تھا کہ آپ کی دوا میں سے صرف پیناڈول مل سکتی ہے،دوا باہر سے لے لیں یا کل پتہ کر لینا

اس دھوکہ دہی پر ناظر علی کے اندر کا منگو جاگا تو بہت، کل والے منتظم سے لے کر ہسپتال کا تمام عملہ اسے سفید چمڑی والا گورا ہی لگ رہا تھا لیکن OPD کی دیواروں پر جگہ جگہ چسپاں تھا کہ کسی بھی قسم کے احتجاج یا شور کی صورت میں حوالہ پولیس کیا جائے گا،ناظر علی یہ کہتا بوجھل قدموں سے واپس آرہا تھا کون سا نیا قانون قانون تو وہی پرانا ہے

مجھے تہذیب ِ حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادی
کہ ظاہر میں تو آزادی ہے،باطن میں گرفتاری
خداوند یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے،سلطانی بھی عیاری(اقبال)