The Golden Book of Indiaانگریز راج کی جڑیں ہمارے سیاسی ڈھانچےمیں پوری طرح سرائیت کر چکی ہیں,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
نو آبادیاتی عہد کی ہندوستانی تاریخ کے نقوش آج بھی انمٹ ہیں، انگریز راج کی جڑیں ہمارے سیاسی ڈھانچے میں پوری طرح سرائیت کر چکی ہیں 1858 میں ملکہ برطانیہ نے ہندوستان پر بذریعہ اعلامیہ اپنی حکومت قائم کی،ایک ایسی ملکہ جس نے کبھی ہندوستان کی سرزمین پر قدم نہیں رکھا البتہ لاہور کے مال روڈ پر ملکہ کا دیو ہیکل مجسمہ نصب کیا گیا،نو آبادیاتی نظام میں جن طبقات نے انگریز سرکار کے آگے سر تسلیماتِ خم کیا،مدح سراؤں نے یونین جیک سے وفاداری کی قسمیں کھائیں، راجے مہاراجے،راول،راؤ،راجواڑے اسی تسلیمات کا ثمربارآور ٹھہرے،نائیٹ کمانڈر آف انڈین ایمپائر کا خطاب پانے والے سر روپر لیتھبرج نے 1893 میں ایک کتاب مرتب کی
The Golden Book of India
یہ کتاب دراصل انگریز راج کے وفاداروں اور دھرتی کے غداروں کی لوح محفوظ ہے جس میں شامل ناموں کو آج تک مٹایا نہیں جا سکا،حب ّجاہ کی ماری اشرافیہ انگریز دربار میں بھاری نذرانے پیش کرنے تک سے نا کتراتی۔شمشیر جنگ، فتح جنگ،نظام آف دکن،خان بہادر،جام،کمال، میر، مرزا،نائٹ ہڈکا خطاب پانے کے لیے خودی کا خون کرنا پڑتا جو گھاٹے کا سودا ہر گز محسوس نا ہوتا، خوشامد اور چاپلوسی میں جو درجہ کمال ہندوستانیوں کے حصے میں آیا اسکی نظیر نہیں ملتی،غالب کی کتاب؛دستنبو؛اور سر سید کی؛ اسباب بغاوت ہند؛خوشامدانہ ادب کا شاہکارہیں،

Punjab and the war of independence1857 ڈاکٹر تراب الحسن نے
کے عنوان سے تھیسس لکھا آپ ان خاندانوں کے بارے میں تفصیل سے بیان کرتے ہیں جنہوں نے جنگ آزادی کے مجاھدین کے خلاف انگریز کی مدد کی،انگریز کی قصیدہ گوئی اور ضمیر فروشی کے عوض بھاری جاگیریں حاصل کیں بدقسمتی سے انہی ریشمی کیڑوں کی باقیات آج بھی ہمارے سیاسی منظرنامے کا جزو لازم ہیں،
Griffin punjab chifs Lahore ;1909
سے حاصل کردہ ریکارڈ کے مطابق موجودہ چیئرمین سینٹ کے بزرگ سید نور شاہ گیلانی کو انگریز سرکار نے انکی خدمات کے عوض300روپے خلعت اور سند عطا کی
proceeding of the Punjab
کیمطابق دربار حضرت بہاؤ الدین ذکریا کے سجادہ نشین شاہ محمود قریشی کے اجدادکو مجاھدین کے خلاف انگریز کا ساتھ دینے پر 3000 روپے نقد،دربار کے لیے1750روپے کی جاگیر،ایک باغ، 25 افراد اور گھوڑے بخشیش میں ملے، انا و خودداری کے پیکرچودھری نثار کے بزرگ مجاھدین کی مخبری کے صدقے ریونیو اکٹھا کرنے،500 روپے خلعت اور 15 بندوقوں کے حقدار ٹھہرے،حامد ناصر چٹھہ کے بزرگ جنرل نکلسن کی فوج میں تھے،طاقت کے حرم سراؤں میں مکھیوں کی ماندبھنبھناتے ان بھنوروں کی چرب زبانیاں آن واحد میں عرش سے فرش تک کا سفر کروا دیتی ہیں،آفرینش کا ایسا جال بنتے کہ ایوب خان جیسا ڈکٹیٹر بھی فیتہ لے کر اپنا قد ماپتا کہ گویا میں فرانس کے ڈیگال سے دراز قد ہوں یا نہیں،بھٹو ڈیڈی کی گردان میں تخت اور بخت دونوں لے اڑے
1857- 2025
کے آتے آتے طاقت کے کئی مراکز بدلے، چشم فلک نے وہ دن بھی دیکھے جب سلطنت برطانیہ کا جھنڈا پوری دنیا میں سرنگوں نا ہوتا،آج سپر پاور امریکہ بہادر کے پاس ہے اور طاقت کا سر چشمہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ذات با برکات! امریکہ بہادر کی چوکھٹ پر پہلا نیازمندانہ سجدہ لیاقت علی خان نے 1950 میں دیا،بیتی بہاروں میں کئی عقیدت مند آئے

لیکن نیازمندانہ عجز میں جس اوجِ ثریا پروزیر اعظم شہباز شریف اس وقت جلوہ افروز ہیں اس نے عالمی قصیدہ گوئی کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے،قارعین ذرا دیر کو تصوراتی دنیا میں جھانکیے!پیر کا روز اور؛شرم الشیخ؛کانفرنس،اسے قسمت کی یاوری کہیے کہ د نیا کے چنیدہ حکمرانوں میں سے صدر ٹرمپ کی گوہر شناس نظریں خوشامد کے اس جوہر ِ نایاب کی متلاشی ہیں جو اسکی پشت پر منتظر کھڑا تھاٹرمپ نے جیسے ہی گھوم کر اسے دیکھا تو کہا! آج دنیا بھر کے حکمرانوں کو وہ گیت سناؤ جو میرے کانوں میں رس گھولتا ہے،عجز و نیاز اور سپاس گری کا پیکر اپنی ہی تالیوں کی گھونج میں اٹلی کی وزیر عظم کو حیراں و ششدر چھوڑ کر آگے بڑھتا ہے ٹرمپ کی زبان(انگریزی) میں کمال مہارت سے اپنا مدعا بیان کرتا ہے اگرچہ کئی جگہ لکنت آڑے آئی لیکن وہ سب کہ ڈالا جو بادشاہ وقت سننا چاہتا تھا،لجاجت و عاجزی کاپیکر،تعریف کے ڈونگرے بجاتے بجاتے کب ہاتھ اوپر اٹھاتا اور کہتا ہے؛میں آپ کو سلوٹ کرتا ہوں؛خاشامد اور چاپلوسی کے ضمن میں شاعروں نے آج تک جتنے سلام تحریر کیے ہوں گے یہ اکیلا سلام ان سب پر بھاری ہے۔
کہاں اب دعاؤں کی برکتیں،وہ نصیحتیں وہ ہدایتیں۔۔۔یہ مطالبوں کا خلوص ہے،یہ ضرورتوں کا سلام