Shaheed Banzeer Bhutto,Daughter of the East:تاریخ انہیں ذہین، فطین اور جراتمند سیاسی رہنما کے طور پر جانتی ہے, ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
آج سے ٹھیک 17 برس قبل راولپنڈی کے لیاقت باغ میں پاکستان کی گیارھویں وزیراعظم،دختر مشرق بینظیر کو انتخابی جلسے کے دوران سفاکانہ دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔
بینظیر بھٹو کا جنم ہوا ابتدائی تعلیم
21جون 1953ذوالفقار بھٹو کے گھر بینظیر بھٹو کا جنم ہوا ابتدائی تعلیم لیڈی جننگز نرسری سکول اور کونونٹ آف جیسز اینڈ میری کراچی سے حاصل کی، 1973میں ہارورڈ یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کیا اسکے بعد آکسفورد یونیورسٹی سے معاشیات، فلسفہ اورسیاسیات میں ایم اے کی ڈگری لی1977میں اس سوچ کے ساتھ و طن واپس آئیں کہ خارجہ امور میں ملک کی خدمت کر سکیں

وطن واپسی: یہاں پہنچنے کے صرف دو ہفتے بعد ہی ڈکٹیٹر ضیاالحق نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا1979 کو سپریم کورٹ کے حکم پر بھٹو تختہ دار پر چڑھادیے گئے، بابا کی پنکی کو پابند سلاسل کر دیا گیا 1984 کو رہائی نصیب ہوئی دو سال برطانیہ میں جلاوطنی کاٹ کر وطن واپس لوٹیں۔خود ساختہ امیر المومنین ضیا الحق کا طویل دور جاری تھا،بھٹو کا عدالتی قتل ہو چکا تھا،بھٹو خاندان ملک بدر کیا جا چکا تھا،جیالے خود کو نذر ِ آتش کر کے تھک چکے تھے،پیپلزپارٹی کے جیالوں کو چن چن کر نشان عبرت بنایا جا رہا تھا، جیل، قید، کوڑے،بدنامی انکا مقدر ٹھہر چکا تھا،بھٹو کے وفادار ساتھی پابند سلاسل کر دیے گئے تھے۔عقوبت خانوں میں کارکنوں پر بے پناہ تشدد کیا جاتا رہا، نوکریوں سے برخاست کیا گیا،جس کو چاہا غدار کہا، جسے دل کیا نواز دیا گیا، جس کو من کیا رسوا کیا، میڈیا مکمل طور پر ڈکٹیٹر کے کنٹرول میں آ چکا تھا،سرکاری ٹی وی پر بھٹو کا نام لینے پر پابندی لگ چکی تھی،ہر لمحہ لوگوں کو ایک بات باور کروائی گئی کہ بھٹو خاندان کی سیاست ختم ہو گئی ہے، بینظیر نے باپ کی موت سے سمجھوتہ کر کے حکومت سے ڈیل کر لی ہے،اب اس ملک میں انکی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی روٹی کپڑا مکان کا نعرہ دم توڑ چکا، ہے جمالو کی تھاپ پر رقص کرنے والے قصہ پارینہ بنائے جا چکے،تقریر تصویر تحریر کے تمام ذرائع پر؛ مرد ِ مومن مرد ِ حق؛چھائے ہوئے تھے۔گیارہ سال لگے قوم کو یہ بات رٹاتے رٹاتے کہ پیپلز پارٹی ختم ہو چکی،ایسے میں 1986 میں محترمہ بینظیر نے وطن واپسی کا قصد کیا،تاریخ کے سب سے بڑے لاہور جلسہ میں بھٹو کی بیٹی کا فقید المثال استقبال کیا گیا،جیالوں نے تمام رٹائے سبق فراموش کر دیے۔عورتیں چھتوں سے اپنے دوپٹے بینظیر پر نچھاور کر رہیں جن کو محترمہ فرط جذبات میں اپنے سر پر اوڑھ لیتیں، محترمہ نے نظم؛باغی ہوں میں باغی ہوں؛پڑھی جو پیپلزپارٹی کے جلسوں کی شان بن گئی۔
پھر تاریخ نے یہ منظر دیکھا کہ 17 اگست 1988 کو جنرل ضیا کا طیارہ بستی لال کمال میں گر کر تباہ ہواآمریت جل کر راکھ ہوئی اور اسی آمریت سے جمہوریت کا گلاب کھل اٹھا،35 سال کی عمر میں پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ منتخب ہوئیں۔1988 کے عام انتخابات میں محترمہ کی فتح نے ایک نئے سفر کا آغاذ کیا والد کے بعد پارٹی کو اس طرح متحد کیا کہ چاروں صوبوں کی رنجیر بن گئی، پیپلزپارٹی حکومت کے انقلابی فیصلوں نے فیصلہ سازوں کو پریشان کر دیا صرف بیس ماہ کو بعد حکومت گرا دی گئی بینظیر کی جرات اور بہادری سے پارٹی1993 میں دوبارہ اقتدار میں آئی۔آئین پاکستان سے انکی وابستگی، جمہوریت کے لیے انکی خدمات سے کسی صورت انکار ممکن نہیں
بے نظیر کی زندگی کا مختصر تعارف (جدولی شکل میں)
| سال / دور | اہم واقعات |
|---|---|
| 21 جون 1953 | بے نظیر بھٹو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی تھیں۔ |
| 1973–1977 | امریکہ (ہارورڈ یونیورسٹی) اور برطانیہ (آکسفورڈ یونیورسٹی) سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ |
| 1977 | جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کیا گیا۔ |
| 1979 | ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی، بے نظیر بھٹو سیاسی جدوجہد کی علامت بن گئیں۔ |
| 1984 | جلاوطنی کے بعد سیاست میں فعال کردار ادا کیا۔ |
| 1988 | پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم منتخب ہوئیں (مسلم دنیا کی بھی پہلی خاتون وزیراعظم)۔ |
| 1990 | پہلی حکومت برطرف کر دی گئی۔ |
| 1993 | دوسری بار پاکستان کی وزیرِ اعظم منتخب ہوئیں۔ |
| 1996 | دوسری حکومت بھی برطرف کر دی گئی۔ |
| 1999–2007 | خود ساختہ جلاوطنی کے دوران جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔ |
| 18 اکتوبر 2007 | وطن واپسی، کراچی میں تاریخی استقبال ہوا۔ |
| 27 دسمبر 2007 | راولپنڈی میں انتخابی مہم کے دوران شہید کر دی گئیں۔ |
خود نوشت: تاریخ انہیں ایک ذہین، فطین اور جراتمند سیاسی رہنما کے طور پر جانتی ہے، ذوالفقار علی بھٹو سے تربیت حاصل کرنے والی بینظیر نے جہاں اپنے عظیم باپ سے سیاست اور ریاست میں شرکت کے اسرار و رموز سیکھے وہیں قلم و کتاب سے دوستی بھی ورثے میں ملی،خود نوشت Daughter of the East لکھ کر دنیائے دانش میں ایک پختہ لکھاری کے طور پر اپنے آپ کو منوایا، 1973میں ہارورڈ یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کیا دوران تعلیم علمی مباحثوں میں تواتر سے شرکت، ویت نام جنگ کی مخالفت، حقوق ِ نسواں کی حمایت میں مدلل گفتگو کرتیں،سگنٹ سوسائٹی کی سر گرم رکن،آکسفورڈ یونین کی ڈبیٹنگ ٹیم کی صدر رہیں،علم دوست بینظیر نے دنیا کی معروف یونیورسٹیوں میں لیکچر دینے کا سلسلہ شروع کیا یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی کوشش تھی جس سے بیرونی دنیا میں پاکستان کی علمی شناخت میں اضافہ ہوا اورمحترمہ ایک دانشور اور مدبر کی صورت میں ابھر کر سامنے آئیں، انکی شہادت کے بعد چھپنے والی انکی کتاب Reconciliation: Islam, Democracy, and the West دنیا بھر کے لکھاریوں، مدبروں کو اپنی طرف متوجہ کیا کیونکہ اس قوت تک Huntington کی کتاب Clash of civilization نے اسلام کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی تھی اور مسلم لیڈروں میں قحط الرجال کے سببClash of civilization میں مسلم دنیا کے خلاف دیے گئے فلسفے کو اہمیت ملتی جا رہی تھی۔بینظیر نے اپنی کتاب میں بہت سے اہم اور منطقی سوالات اٹھائے اور قرآن اور مفکرین کے حوالوں کے ساتھ ان سوالات کے جواب دیےHuntington کے نظریات کو دلائل کے ساتھ رد کیا کہ جمہوریت اور اسلام ایک ساتھ نہیں چل سکتے، بینظیر نے مغرب کی دوہری پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ مغرب والے مسلم دنیا میں حکمران بادشاہوں اور آمروں کی مدد کرتے ہیں۔انکی یہ کتاب مستقبل میں مسلم دنیا کی وکالت کے طور پر ایک فقری اور علمی حوالے سے پہچانی جاتی رہے گی،چینی کہاوت ہے کہ اگر آپ دیر تک زندہ رہنا چاہتے ہیں تو اپنے پیچھے اپنی کتاب چھوڑ جائیں، محترمہ نے متعدد کتابیں لکھ کر چینی کہاوت کو سچ کر دکھایا۔

زندگی کے اتار چڑھاؤ: بی بی شہید کی تمام زندگی مشکلوں اور مصائب میں گری رہی بھٹو صاحب کی پھانسی، شاہنواز بھٹو کی فرانس میں ناگہانی موت، بیگم نصرت بھٹو کی بیماری اور میر مرتضیٰ بھٹو کی پر خطر جلا وطنی اور خود بینظیر بھٹو کی نظر بندی اور جلا وطنی،صنم بھٹو کی شادی کے وقت محترمہ بینظیر اور نصرت بھٹو دونوں جیل میں تھیں پیرول پر رہا ہو کر شادی میں شرکت کی،مرتضیٰ اور شاہنواز دونوں کی شادیاں کابل میں ہوئیں جو خوشی کی بجائے بعد بڑے صدمے کا با عث بنیں۔ بھٹو صاحب موت کی کال کوٹھری میں بند تھے بینظیر باپ کے گلے ملنا، انہیں چھو کر محسوس کرنا چاہتی تھیں لیکن جیل حکام نے انکی درخواست رد کر دی،پھانسی کے بعد بیٹی کو باپ کے جنازے اور آخری دیدار سے مرحوم رکھا گیا،خاوند برسوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے، بی بی چھوٹے بچوں کے ساتھ جیل کے چکر کاٹا کرتیں،سانحہ کارساز میں بال بال بچیں مگر افسوس خون ناحق کو بہنا تھا اور وہ بہہ کر رہا یہاں تک کہ 27 دسمبر قوم کی یاداشت میں ایک المیے کی جگہ لے چکا
آہ بینظیر تجھ کو کس پھول کا کفن دیتے، تو جدا ایسے موسموں میں ہوئی جب پھولوں کے ہاتھ خالی تھے