Political Prisonersاسیری اس کے گلے کا طوق نہیں بلکہ سر کا تاج ہوتی ہے،ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
دنیا میں جب بھی سیاسی قیدیوں کی بات کی جائے تو نیلسن منڈیلا،موہن داس کرم چند گاندھی،سردار پرکاش سنگھ بادل،انک سانگ سوچی،مارٹن لوتھر کنگ کا ذکر ہوتا ہے۔ ابتدائی عیسائیوں جیسے یسوع مسیح اور سینٹ پیٹر جو رومی سلطنت کے زمانے میں ریاست کے ساتھ تنازعہ میں آئے تھے کو بھی سیاسی قیدی قرار دیا گیا،قدیم یونانی فلسفی سقراط کو پہلا سیاسی قیدی کہا گیا،آرٹسٹ جیک لوئس ڈیوڈ کی 18 صدی کی پینٹنگ میں قدیم یونانی فلسفی سقراط کی موت کو دکھایا گیا،399 قبل مسیح میں اسے ایتھنز کی شہری ریاست نے اخلاقی بد عنوانی اور بے حیائی کا الزام ثابت ہونے پر ہیملاک پی کر موت کی سزا سنائی گئی،یورپ میں قرون وسطیٰ میں سیاسی قید کا رواج عام تھا،بادشاہی حکومتیں عام طور پر اختلاف رائے کے ایجنٹوں کو پکڑنے کے سلسلے میں معافی کے ساتھ کام کرنے کے لیے آزاد تھیں،اس دوران سیاسی قیدیوں کو لے جانا اتنا عام تھا کہ کئی ڈھانچے بنائے گئے اور بدنام سیاسی جیلوں کے طور پر شہرت حاصل کی،ان مین انگلینڈ کا ٹاور آف لندن اور پیرس کا باسٹیل قابل ذکر ہیں۔
اس وقت دنیا بھر میں دس لاکھ سے زیادہ سیاسی قیدی سزا کاٹ رہے ہیں۔برصغیر پاک و ہند کی سیاست کی کہانی اہم سیاسی شخصیات کی گرفتاری کے لیے خود کو پیش کرنے کی مثالوں سے بڑی پڑی ہے،مہاتما گاندی اور جواہر لال نہرو نے انڈین نیشنل کانگرس میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ گرفتاری سے کبھی گریز نہیں کیا، کئی سال جیلوں میں گزارے۔1977میں کانگرس کی شکست کے بعد اندرا گاندھی جو جیل بھیج دیا گیا اس نے اور اس کے پیروکاروں نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔یہ تاریخ کا انمٹ حصہ ہے کہ اگرتلہ کیس اور پھر مارچ 1971میں بنگلہ بندھو نے ڈھاکہ چھوڑ کر گرفتاری سے بچنے سے انکار کر دیا۔
الاقوامی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نظر میں سیاسی قیدی اصل میں ضمیر کا قیدی ہوتا ہے جو ایک مخصوص نظریے کے تحت گرفتاری دیتا ہے،ہتھکڑی اس کا زیور،جیل سسرال،اسیری اس کے گلے کا طوق نہیں بلکہ سر کا تاج ہوتی ہے،آج کا باغی،کل کا غدار کہلاتا ہے، جیل کی چکیوں، بی،سی کلاسوں میں؛یا مان لو یا ٹھان لو؛ کا سبق پڑھتا ہے،قیدی کامخصوص لباس اس کے تن کاہی نہیں بلکہ اس کے من کے باغیانہ خیالات کا بھی پردہ رکھتا ہے،نظریے میں کتنی طاقت ہے،مقصد کی لگن کتنی غیر متزلزل ہوتی ہے کہ بیس بیس سال کی قید کتابیں پڑھتے،کتابیں لکھتے،پیچھے رہ جانے والے آزاد قیدیوں کی رہنمائی کرتے کرتے گزر جاتی ہے۔مہینوں سورج کی کرنیں نہ دیکھنے والوں کی آنکھوں کی چمک مخالفین کی منصوبہ بندیوں کو خیرہ کرتی ہیں،بھوک ہڑتال میں بھی شکم سیر رہتے ہیں۔
| نام | سیاسی جماعت / وابستگی | قید کی وجوہات | اہم نکات / اثرات |
|---|---|---|---|
| ذوالفقار علی بھٹو | پاکستان پیپلز پارٹی | مارشل لا دور میں مقدمات اور سزائے موت | سیاسی شہادت، جمہوری جدوجہد کی علامت |
| بے نظیر بھٹو | پاکستان پیپلز پارٹی | آمریت کے خلاف جدوجہد، متعدد بار نظربندی | جمہوری تحریک کی مضبوط آواز، پہلی خاتون وزیرِاعظم |
| نواز شریف | مسلم لیگ (ن) | مشرف دور میں بغاوت کا مقدمہ اور جلاوطنی | عدلیہ بحالی تحریک کا اہم کردار، تین بار وزیرِاعظم |
| شہباز شریف | مسلم لیگ (ن) | مختلف حکومتی مقدمات اور NAB کی حراست | انتظامی اصلاحات کے دعوے، پنجاب حکومت میں نمایاں کارکردگی |
| آصف علی زرداری | پاکستان پیپلز پارٹی | کرپشن، منی لانڈرنگ اور دیگر مقدمات | طویل قید و بند، بعد میں صدرِمملکت منتخب |
| عمران خان | پاکستان تحریک انصاف | توشہ خانہ، 9 مئی کیسز اور دیگر سیاسی مقدمات | مقبول سیاسی رہنما، قید نے سڑکوں پر بڑی عوامی تحریک اٹھائی |
| شاہ محمود قریشی | پاکستان تحریک انصاف | 9 مئی اور دیگر سیاسی مقدمات | مضبوط سفارتی و سیاسی شخصیت |
| علی امین گنڈاپور | پاکستان تحریک انصاف | سیاسی ریلیوں اور مقدمات کے باعث قید | خیبر پختونخوا میں مقبول رہنما |
ہمارے ملک میں آج بھی سویلین اور فوجی حکومتوں میں جیل کاٹنے والے سیاسی قیدیوں کے لیے وہی قوانین نافذ ہیں جو انگریز نے1857 کی جنگ آزادی کی تحریک کے کارکنوں کو کچلنے کے لیے بنائے تھے۔پاکستان کی تاریخ میں یہ سلسلہ قیام پاکستان کے فورا بعد ہی شروع ہو گیا تھا، جن جماعتوں کے کارکنوں اور رہنماؤں نے طویل جیلیں کاٹیں ان میں خاکسار تحریک، سرخ پوش تحریک،عوامی لیگ(مشرقی پاکستان) عوامی نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی،تحریک استقلال،مسلم لیگ نون اور آج کل زیر عتاب رہیں
عبدالغفار المعروف باچا خان کو ریاست کے خلاف بیان دینے کے جرم میں کوہاٹ جیل،60 کی دہائی میں دوبارہ گرفتار کر کے راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں رکھا گیا۔خان عبدالولی خان اپنی سیاسی سزاؤں کی وجہ سے بار بار قید ہوئے، مختلف نظریات کے حامل فےٖض ا حمد فیض اور مولانا مودودی ایک ہی جیل میں قید رہے اور شہری آزادیوں کے لیے جدوجہد کی۔
مولانا مودودی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تاہم اس پر عمل درآمد نا ہو سکا۔اب تک ملک کے سات سابق وزیر اعظم جیل یاترا کر چکے،60 کی دہائی میں ہی کسی سابق وزیر اعظم کی گرفتاری پہلی مرتبہ عمل میں آئی،ملک کے پانچویں وزیر اعظم حسین شہید سہروردی نے جنرل ایوب کی حکومت پر قبضے کی توثیق سے انکار کر دیا۔انہیں 1962 میں قید تنہائی میں ڈال دیا گیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کو ان کے سرپرست ایوب خان دور میں ایک سال تک جیل میں رکھا گیا(1968-1969) 1977 کی قید ان کی پھانسی پر ختم ہوئی، بھٹو صاحب کو کوٹ لکھپت جیل میں اخبار پڑھنے کی اجازت نہ تھی،ان کے وکیل یحییٰ بختیار(مشہور اداکارہ زیبا بختیار کے والد)ان سے ملنے آئے تو بھٹو نے پوچھا کیا خبر ہے،اخبار نہیں مل رہا،وکیل کی جانب سے جواب آیا خبر گرم ہے کہ بھٹو کو جیل میں مشروب مغرب خوب مل رہا ہے،بھٹو نے جیلر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا؛یہ پھر بھی مجھے نہیں دیتا؛جیل میں ضیا دور میں یہ نعرہ مشہور تھا ؛بارہ سال سوا سو کوڑے،فوجی جنتا کے دن تھوڑے؛
بینظیر بھٹو اپنے بھائی کی آخری رسومات کے لیے پاکستان آئیں اور نوے دن تک گھر میں نظر بند رہیں،آصف زرداری نے چودہ سال تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
ملک کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 1997 میں مشرف دور میں طیارہ ہائی جیک کیس میں 25 سال کی قید سنائی گئی لیکن وہ 425 دن تک قید میں رہنے کے بعد جدہ روانہ ہو گئے۔2018 میں احتساب عدالت نے ایک مرتبہ پھر قید کی سزا سنائی 69 دن بعد رہائی ممکن ہوئی،العزیزیہ کیس میں سات سال قید،ضمانت کے بعد چار سال کے لیے لندن روانہ ہو گئے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کو 9 مئی کو گرفتار جبکہ 11 مئی کو رہائی عمل میں آئی،اگست 2023 کو اسلام آباد کی مقامی عدالت کے حکم پر تین سال کے لیے دوبارہ گرفتار کر لیے گئے،ایک سال سے زائد عرصہ سے جیل میں قید،200 مقدمات میں سزا یافتہ ہیں۔انکی جماعت کے بہت سے رہنما بھی ۹ مئی کیس میں پابند سلاسل ہیں جن میں ڈاکٹر یاسمیں راشد، شاہ محمود قریشی، عمر سرفراز،اعجاز چوہدری، محمود الرشید قابل ذکر ہیں۔
میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے،میں بھی منصور ہوں کہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے،ظلم کی بات کو،جہل کی رات کو، میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا

