کرسمس (روحانی بادشاہ یسوع)پر امن عکاسی اور تیزی سے غائب ہونے والے سال کی پر سکون تعریف کا وقت ہے مگر1989 کے دسمبر میں غور کرنے کے لئے بہت کچھ تھا جیسے کہ مطلق العنان ظلم کی سب سے ڈرامائی علامت دیوار ِ برلن منہدم ہو گئی، رونالڈ ریگن نے یادگار طور پرجس سوویت یونین کو شیطانی سلطنت قرار دیا، تحلیل ہو رہی تھی پولینڈ ہنگری چیکو سلواکیہ لتھوانیایونین سے انخلاء کے عمل میں تھےیہاں تک کہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ تک طاقت کی Nicolae Ceaușescuمحور رومانیہ کے ڈکٹیٹر نکولائی چاؤ شیسکو

کی بنائی ہوئی بے رحم ریاست منہ کے بل گر گئی،اسے 24 سالہ اقتدار کے بعد انصاف کا نشانہ بنایا گیا یہ نا مکمل تھا لیکن اس کے باوجود یہ انصاف تھا
Who was Nicolae Ceaușescu نکولائی چاؤشیسکو کون تھا
غریب کسان کے نو بچوں میں سے تیسرا نکولائی چاؤشیسکو مسلح فوج کا نائب وزیر بنا دیا گیا بعد میں میجر جنرل اور پھر لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پا کروزارتِ دفاع کے فرسٹ ڈپٹی اور آرمی کے ہائر پولیٹیکل ڈیکٹوریٹ کا سربراہ بن گیا1974 میں پہلی بار حتمی طاقت کا تاج سر کی زینت بنا اور 1989 تک ہر پانچ سال بعد تاجپوشی ہوتی رہی،یوں اسکا ملک روایتی بادشاہت سے پریشان جمہوریت سے، شاہی آمریت تک فوجی کنٹرول میں چلا گیا۔ ساٹھ کی دہائی سے نکولائی کے ہاتھوں تختہ مشق بننے والے رومانیہ کی ایک جھلک ملاحظہ کریں۔۔۔سیکیوریٹ، پولیس کا خفیہ ادارہ جو لوگوں کی نجی زندگیوں کی جاسوسی کرتا،خوف کا یہ عالم تھا کہ لوگ سڑک پر چلتے ہوئے اپنے دائیں بائیں متجسس انداز میں دیکھتے،اقتدار کے مسلسل 25 سالوں تک میڈیا کو اپنے کنٹرول میں رکھا گیا
wife of Nicolae Ceaușescu خاتونِ اول ایلینا
خاتونِ اول ایلینا چودہ سال کی عمر میں متعدد مضامین میں فیل ہونے کے باعث اسکول چھوڑ گئیں اقتدار میں آکر اعلانW کروایا گیا کہ خاتون اول نے کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ملک میں انکی چاپلوسی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ ان کا نام بڑے حروف(کیپٹل لیٹرز) میں لکھا جاتا1986میں فوجی ریفرنڈم کا انقعاد کیا اور آئین کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کا مقصدلامتناہی اختیارات کا حصول، سخت سیاسی کنٹرول برقرار رکھنا اور ہزاروں اختلاف کرنے والوں کو جسمانی اور نفسیاتی قیدکا مزا چکھانا تھا

آزاد خارجہ پالیسیوں پر مشتمل مغربی ممالک کے سرکاری دوروں کی ایک سیریز نے نکولائی چاؤ شیسکو کو ایک مضبوط شخصیت بنا دیا جس نے سوویت یونین کی اتھارٹی کو چیلنج کیا۔سپریم کورٹ کے صدر اور پراسیکیوٹر جنرل کو مقرر اور برطرف کرنا چاؤشیسکو کے اشارۂ ابرو کا محتاج کر دیا گیا،تمام حکومتی طاقتوں کو پاؤں کے نیچے رکھتا،جمہوری مرکزیت کے اصول،مقننہ اور ریاستی ادارے سب اسکے سامنے پانی بھرتے اسکے فیصلوں میں قانون کی طاقت ہوتی،معاشی ترقی کیلئے مغرب سے بے تحاشہ قرض لیا گیا جس نے ملکی مالیت کو تباہ کر دیا،ایران سے سستے تیل کا معاہدہ کیا گیا لیکن ایران انقلاب کے دوران شاہ محمد رضا پہلوی کا تختہ الٹنے کے بعد یہ معاہدہ ختم ہو گیا،ذہنی و لسانی قدغنوں کا شکار رومانیہ خوراک اور توانائی کی کھپت سے جو جنے لگا
مظاہرین انقلاب کا ترانہ گاتے شہر کے مرکز میں پہنچے ہی تھے کہ طلبعلموں،سیاسی کارکنوں اور اکابرین کی بڑی تعداد نے ہجوم کو کاندھا دیا،کمیونزم کے ساتھ نیچے، آمریت کے ساتھ نیچے کے نعروں کے دوران مظاہرے پھوٹ پڑے،سیکورٹی نے اندھیرے میں ہجوم کو گھیرے میں لے کر طاقت کا بھرپور استعمال کیا،امن میں مداخلت پر عام شہریوں سے لے کر سرکاری اہلکاروں تک ریاست مخالف رٹ قائم کر کے مقدمے درج کیے گئے مرنے والے سینکڑوں میں تھے اور مجروع لا تعداد۔دوبارہ کنٹرول کے لیے بیک وقت متکبر اور مطلق العنان نکولائی

چاؤ شیسکونے بخارسٹ میں ایک بڑی ریلی بلائی جس میں اپنی قربانیوں اور عظمتوںکی داستان دہرائی مظاہرین کی جانب سے جس بے رغبتی کا اظہار کیا گیا اس نے چاؤ کے غصے کو دو آتشہ کر دیا چہرے پر صدمے اور؛ چپ رہو؛ کی گردان کے ساتھ مفرورجوڑے نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے دارالحکومت کو پیچھے چھوڑ دیا

انقلاب کی گونج میں نکولائی کا اقتدار تمام ہوا،55 منٹ کے مقدمے میں جوڑے کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا ثبوت بہت کم پیش کیے گئے لیکن طاقت کی ہولناکی سب پر عیاں تھی؛موت کا پروانہ جاری کر دیا گیا،آمر کو 120 گولیاں لگیں،تقریباًتیس سال گزر چکے اس برائی کو لیکن کبھی نا بھولیں کہ کس طرح انسانیت کے بد ترین رحجانات مطلق طاقت کے ذریعے بڑھتے ہیں ہم نئے سال کے قریب آتے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے جیسا کہ اکثر کہا گیا ہے کہ ابدی چوکسی واقعی آزادی کی قیمت ہے۔۔۔
اندھیرا اتنا بڑھے گا جتنی دیے جلانے میں دیر ہو گی
اگرگری آس کی عمارت تو پھر بنانے میں دیر ہو گی
اگراجاڑو گے سارا گلشن تو پھر بسانے میں دیر ہوگی گی