“Raja Todar Mal: The Architect of Akbar’s Golden Revenue System”راجہ ٹوڈر مل ایک مالیاتی جادوگر

“Raja Todar Mal: The Architect of Akbar’s Golden Revenue System”راجہ ٹوڈر مل ایک مالیاتی جادوگر,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

“Raja Todar Mal: The Architect of Akbar’s Golden Revenue System”راجہ ٹوڈر مل ایک مالیاتی جادوگر

جلال الدین اکبر وہ بادشاہ,جس نے دلوں کو فتح کیا، جس کی حکمرانی میں انسانیت ہنستی,مذہب نسل اور فرقوں سے بلند,عدل کے چراغ سے اندھیروں کو ہرا دینے والا ضل الہی, شاہان مغلیہ کا تیسرا شہنشاہ,تاریخ نے جسے سنہری لفظوں میں لکھا،وہ اکبر تھا!جو وقت سے بھی آگے نکلا,چودھویں برس تخت و تاج پوشی سے نوازا گیا(14 فروری 1556 عیسوی) قدرت نے ذہانت بخشی اور نورتنوں نے نصف صدی کی سلطنت
”نورتن”مطلب موتی،ہیرا،یاقوت.تاریخ میں اکبرِ اعظم کے نورتن(راجہ ٹو ڈرمل,ابوالفضل,فیضی,فقیر عذی الدین,ملا دو پیازہ, بیربل,تانسین, راجہ مان سنگھ اور وزیر دفاع عبدالرحیم خان)اور بکرماجیت(375ء تا 413ء گپت خاندان کا تیسرا جنگجو راجہ تھا جس نے ہندوستان میں فتوحات کے ساتھ آریہ تہذیب و تمدن اور علم و ادب کو ازسرِ نو زندہ کیا تھا۔اسکے نورتن میں مشہورِ زمانہ شاعر و ڈرامہ نگار“کالی داس”اسکے علاوہ وتیلا بھاٹا،وراہم ہرہ،وارھرچی،عمارسیماہ، دھن واتری،شاپنکا،شانکو اور گھٹکا پارہ) ہر رتن اپنی جگہ باکمال تھا بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ اکبر اور بکرماجیت کیلئے کوئی ہیرا تھا کوئی زمرد،کوئی نیلم یا پکھراج تھا کوئی یاقوت یا لعل. یہ عقلمند لوگ تھے سمدھی اور بھتیجے نہیں تھے

“Raja Todar Mal: The Architect of Akbar’s Golden Revenue System”راجہ ٹوڈر مل ایک مالیاتی جادوگر

موجودہ تحریر شہنشاہ ہند کے وزیر خزانہ راجہ ٹوڈرمل بارے ہے جس کی اقتصادی اصلاحات و معاشی تدبر کی بدولت اکبر کا ہند سونا اگلتا تھا,شاہ کی دولت برطانیہ کے بادشاہ سے سولہ گنا زیادہ تھی۔گاہے گاہے حال کی معاشی بدحالی کا گریہ بھی کریں گے تا کہ یہ گتھی سلجھ سکے کہ کمی ٹوڈرمل کے انتخاب میں رہی یا نیت کا فتور شا مل حال رہا
راجہ ٹوڈر مل پنجاب کے شہر لاہور کا کھتری ہندواور دربارِ اکبری میں 22صوبوں کا دیوانِ کُل اور وزیر باتدبیر,تحصیل محاصل کے نکات اور صیغہ مال کا جیسا واقف کار تھا دربار کا کوئی ہوا خواہ بھی ایسا واقف نہ تھا, اسی کی بے مثال دانش کا نتیجہ تھا کہ اکبر نے مال گزاری کے لیے قاعدے جاری کیے اس سے یہ فائدہ ہوا کہ رعیت فقط سرکاری مال گزاری ادا کر دیتی تحصیلی, افسروں ملازموں اور مذکوریوں کی بھینٹ پوجا سے چھوٹ گئی تھی ہر 10 سال کے بعد نیا بندوبست ہوتا تھا, بعض اور محصول جو رعایا پر گراں گزرتے تھے موقوف کر دیئے جاتے,محصول کا بوجھ بہت کم تھا.روہتاس قلعہ ٹوڈر مل کے تحت بنایا گیا, بنگال میں اکبر کی ٹکسال کا انتظام بھی کیا,راجہ ٹوڈر مل نے اکبر کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے محصول کا ایک نیا نظام متعارف کرایا جسے زبٹ کہا جاتا اور ٹیکس کا نظام دہسالہ کہلایا ان کی مالیاتی پالیسیاں (راجہ ٹوڈرمل) کا مقصد نہ صرف خزانوں کو بھرنا تھا بلکہ کسانوں کو ٹیکس کی غیر منصفانہ تقسیم سے بچانا تھا

سال ہے2026پہلا مہینہ آخری عشرہ کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے،نہ مغلیہ دور ہے اور نہ بادشاہوں کا زمانہ، درج با لا مثالیں اکبر کے دور کی ہیں مگر ہماری معاشی حالت ہمایوں بادشاہ کے دور جیسی,احوال جانیے
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ فی تولہ سونے کی قیمت 5 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی (آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن)گزشتہ مالی سال کے پہلے 6ماہ سرمایہ کاری کی مالیت 1.425 ارب ڈالر تھی،جو اس برس کم ہوکرصرف 80.8کروڑ ڈالر رہ گئی ہے۔کمزور سرمایہ کاری رجحان کا سب سے واضح اظہار دسمبر میں دیکھنے میں آیا، جب خالص ایف ڈی آئی منفی ہو گئی(ڈان اخبار کی رپورٹ)جب سے یہ حکومت آئی ہے، 31 لاکھ لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں اور 2026 میں پچھلے سالوں کے بھی ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے-جنوبی پنجاب، جو کبھی کپاس اور جننگ کا گڑھ تھا، اب فارغ ہو چکا ہے۔ پانچ سو کے لگ بھگ جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں۔ بدترین حکومتی پالیسی کے طفیل کسان کی جو گندم بائیس سو روپے من میں فروخت ہوئی تھی، آج اڑتالیس سو سے پانچ ہزار روپے من فروخت ہو رہی ہے۔ پہلے کسان برباد ہوا، اب عوام لٹ رہی ہے, بیروزگاری کی شرح، جو 2023-24ء میں 6.8 فیصد تھی، 2024-25ء میں بڑھ کر 7.1 فیصد ہو گئی ہے.یہ الارمنگ صورتحال ہے، حکومت معاشی طور پر پرفارم کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ مصنوعی سرمایہ کاری ہے۔ ملک میں انوسٹمنٹ نہیں آ رہی، لوگ اپنا سرمایہ لے کر جا رہے ہیں ہماری ایکسپورٹس واضح طور پر کم ہو رہی ہیں چاول کی ایکسپورٹ 40 فیصد کم ہو گئی ہے جبکہ 9 فیصد قیمت میں کمی واقع ہو گئی ہے! ڈاکٹر حفیظ پاشا-ملک میں اس سے پہلے اس قدر ہیجان انگیزی نہیں دیکھی گئی کہ درجنوں فارماسیوٹیکل کمپنیز سمیت آئی ٹی کمپنیز بند ہو گئی ہیں، اور ابھی تازہ اطلاع کے مطابق 150 ٹیکسٹائل یونٹ بھی بند ہو گئے ہیں۔ انس گوندل

“Raja Todar Mal: The Architect of Akbar’s Golden Revenue System”راجہ ٹوڈر مل ایک مالیاتی جادوگر

اپٹما کے سابق صدر ایس ایم تنویر نے،بتایا کہ ملک میں گزشتہ دو سال کے دوران ٹیکسٹائل کے 140 سے زائد یونٹس بند ہو چکے ہیں۔ فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیٹیکسٹائل کی کل 187 ملز بند ہو چکی ہیں، جس سے کم از کم 50 ہزار لوگ بیروزگار ہوئے ہیں چھوٹی صنعتیں کباڑ بن گئیں جمود کا شکار رئیل اسٹیٹ سیکٹر مکمل ڈ ھیر ہو گیا,آج کل معیشت کیمعاشی استحکام کرتے کرتے معیشت ختم کر دی گئی ہے)موجودہ حکومت نے اپنے پہلے دو سالوں میں کوئی نمایاں کام نہیں کیا۔ اور اب اعلان کیا جا رہا ہے کہ اسحاق ڈار کو برآمدات کا سربراہ بنایا جا رہا ہے — وہی شخص جس کے دورِ وزارتِ خزانہ میں پاکستان کی برآمدات زمین بوس ہوئیں۔ شاید اگر وہ اب اس کے الٹ کر دیں جو انہوں نے اقتدار میں رہتے ہوئے کیا تھا، تو واقعی برآمدات میں اضافہ ہو جائے”۔خرم حسین
معاشی بہتری کے چند نمونے, تجارتی خسارہ 4.9 ارب ڈالر (34 فیصد اضافہ)- ایکسپورٹس میں 8.7 فیصد کمی- فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ 43 فیصد کمی معیشت مزید مضبوط بھی ہوتی جائے گی احمد وڑائچ
“وفاقی حکومت کے قرضے بڑھ کر 77 ہزار543 ارب روپے پرپہنچ گئے۔۔ ایک سال میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں 7 ہزار 178 ارب روپیکااضافہ ہواجبکہ نومبر دو ہزار پچیس کیایک مہینے میں مرکزی حکومت کاقرضہ 573 روپیبڑھا۔ اسٹیٹ بینک دستاویز کے مطابق ایک سال یعنی دسمبر 2024سے لیکر نومبر 2025کے دوران وفاقی حکومت کے مقامی قرضے میں 6 ہزار35ارب روپے اوربیرونی قرضے میں1145ارب روپے کا اضافہ ہوا”۔روزنامہ جنگ

“Raja Todar Mal: The Architect of Akbar’s Golden Revenue System”راجہ ٹوڈر مل ایک مالیاتی جادوگر

یہ سچ ہے کہ کچھ فرمز ملک سے جارہی ہیں، ہمیں تسلیم کرنا چاہیے ٹیکس یا انرجی قیمت زیادہ ہے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ملک میں مہنگائی کم ترین سطح پر ہے،” وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
ہمیں 76 سال سے راجہ ٹوڈرمل کی تلاش ہے کبھی ہم امریکہ سے ٹوڈرمل لاتے ہیں اور کبھی ہم پاکستان میڈ وزیر خزانہ بناتے ہیں مگرکوئی کوشش کامیاب نہیں ہو پاتی,کہا گیا کہ بیرونی سرمایہ کاروں کا سیلاب آرہا ہے،بجٹ کہانی بالکل الٹ ہے بیرونی سرمایہ کاری تو ایک طرف خود اپنیملک کے سرمایہ کاروں نے ہاتھ اٹھا لیے، شرح پیداوار مایوس کن ہے۔ قابل ترین وزیر خزانہ اور تجربہ کار نائب وزیر اعظم کی موجودگی میں ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
موجودہ وزیر خزانہ اورنگزیب بھی ٹوڈرمل کی طرح خطہ پنجاب کے فرزند ہیں۔ ٹوڈرمل کھتری تھے، اورنگزیب ٹوبہ ٹیک سنگھ کے معزز ارائیں خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج خلیل الرحمٰن رمدے ان کے چچا اور سسر ہیں۔ توقع یہی ہے کہ وہ زمینی حقائق کا ادراک رکھتے ہوں گے اور انہی کومدنظر رکھ کر پالیسیاں بنائیں گے آمدنی کو بڑھائیں اور اخراجات کو کم کریں گے بدقسمتی سے یہ نہیں ہو پارہا وزیر خزانہ اورنگ زیب کا اصل امتحان بھی یہی ہے کہ وہ ٹوڈرمل کی طرح ملک کو خوشحال بنائیں, لیکن جن کو لگتاہے(ملک میں مہنگائی کم ترین سطح پر ہے،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب) ان سے آپ کیا امید رکھیں گا

“Raja Todar Mal: The Architect of Akbar’s Golden Revenue System”راجہ ٹوڈر مل ایک مالیاتی جادوگر

“اکنامک ہٹ مین نامی ایک کتاب میں ایک تھیوری پیش کی گئی کہ: ‘اگر کسی ملک کو تباہ کرنا ہو تو وہاں فوجیں بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے؛ وہاں ایک اکنامک ہٹ مین بھیجیں، جو وہاں ” سیاسی عدم استحکام ” پیدا کرے گا، جس سے وہ ملک معاشی طور پر تباہ ہو جائے گا؛ پھر اس پر قبضہ آسان ہو گا!’

تفصیلعنوان
راجہ ٹوڈرملپورا نام
مغل بادشاہ اکبر اعظم کا عہددورِ حکومت
وزیرِ مالیات (دیوان)عہدہ
زمین کی پیمائش، منظم مالیاتی نظام، زرعی اصلاحاتاہم خدمات
مغل سلطنت کے جدید محصولات نظام کے بانیتاریخی اہمیت
1589ءوفات

Leave a Comment