May justice prevailانصاف کا جنازہ ہےذرا دھوم سے نکلے

دسمبر کا مہینہ اپنی خنکی اوراداسی کی وجہ سے مشہورہے،اب کا دسمبر دو خاندانوں کی قسمت میں ہمیشہ کے لئے اداسی چھوڑ گیا،شہر اقتدار میں یکم دسمبر کی رات ایک ہولناک واقعہ پیش آیا،تیز رفتار لینڈ کروزر نے سکوٹی پر سوار دو نوجوان بچیوں کو کچل دیا،دونوں سہیلیوں کا تعلق غریب گھرانے سے تھا  جو این سی اے میں پارٹ ٹائم جاب کرتیں، سوموار کی رات کام سے واپسی پر بے قابو گاڑی کی زد میں آ ئیں اور سڑک پر ہی زندگی کی بازی ہار گئیں۔پولیس نےلڑکے کو گرفتار کیا تو اسکی عمر سولہ سال نکلی گاڑی کی نمبرپلیٹ بھی جعلی تھی، نو عمر ڈرائیور شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس کا اہل نا تھا،سنیپ چیٹ پر مصروف ہونے کی وجہ سے گاڑی آؤٹ آف کنٹرول ہوئی اور سکوٹی کو روند ڈالا،گاڑی کا اگلا حصہ بری طرح تباہ ہوا جس سے آپ سپیڈ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

تحقیقات سے پتہ چلا کہ نوجوان ہائی کورٹ کے جج کا بیٹا ہے اکثر یہ نان کسٹم پیڈ گاڑی چلاتارہا ہے خبر میڈیا میں ہائی لائٹ ہوئی چناچہ لڑکے کو گرفتار کر لیا گیا تاہم سی وی مضبوط ہونے کی وجہ سے گرم کھانے ہیٹرموبائل فون علیحدہ واش روم جیسی سہولیات کا انتظام کیا گیا،حادثہ کی خبر جج صاحب کے علم میں آنے کی دیر تھی کہ سسٹم حرکت میں آیا چھ دن کی محنت ِ شاقہ اور جج صاحب کی تیز رفتارذاتی کاوشیں رنگ لائیں ایک بچی کا بھائی عدنان تجمل، دوسری بچی کے والد غلام مہدی عدالت میں پیش ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی، گرفتار ملزم کی ضمانت اور مقتولین کے ورثا سے صلح کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا ورثا نے اللہ کے نام پر نا صرف ملزم کو معاف کر دیا بلکہ عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کو بری کر دیا جائے۔جج صاحبہ نے فریقین کی مافیوں کے بعد کیس کا فورافیصلہ کر دیا، فیصلہ اسی وقت ٹائپ کیا گیا مچلکے جو پہلے سے تیار تھے ملزم ابوزر کو فوری گھر بھجوا دیا گیا بچیوں کا خون خشک ہونے سے پہلے پہلے انصاف کا سارا عمل مکمل کر دیا گیا(انصاف کی جے ہو) بیس کلومیٹر کے شہر میں پیش آنے والایہ دلخراش واقعہ اخلاقی اور سماجی گراوٹ کے شکار سماج کے کھوکھلے سسٹم کے پیندے میں مزید سوراخ کرنے کا باعث بنا۔میرٹ، گڈ گورنس،رول آف لا سب آفتابِ عدل کی کرنیں ہیں لیکن ان کرنوں کی حدت سے عام اور اب تو خواص بھی محروم ہی رہیں گے کیونکہ ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں جتوئی فیملی نے سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود شاہ رخ جتوئی کو بچا لیا تھا،نقیب اللہ محسود قتل کیس میں انکونٹر اسپشلسٹ کی گرفتاری کا حکم ملنے پر عدالت کو رجسٹرار کے ذریعے مطلع کیا گیا کہ قاتل کن کی حفاظت میں ہے راؤ انوار کو حیران کن پروٹوکول دے کر کالے صاحب (جج)کے گیٹ سے لایا گیا وہ سینہ تان کر عدالت میں حاضر ہوا نہ اسے ہتھکڑی لگانے کی اجازت تھی نہ پناہ دینے والوں کے خلاف کاروائی کی البتہ عدالت عظمیٰ کی عزت پر حرف آیا،جہاں یہ مقولہ زبان زد عام ہو کہ؛وکیل کی کرنا اے جج ای کر لو؛اسی ملک میں ارشد شریف کی بوڑھی  ماں انصاف کے انتظار میں رزق خاک ہوئی            یہاں ہی گزشتہ برس ابوزر کی جگہ نتاشہ دانش اور اسکی تیز رفتار لینڈ کروزر تھی، باپ بیٹی کی جان لینے اور تین افراد کو زخمی کرنے کے باوجود جس طرح پولیس کے حفاظتی حصار میں وکٹری کا نشان بناتی،انصاف کو پاؤں تلے روندتی عدالت سے باہر آ تی ہو وہاں قانون کے اندھے اور بہرے ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا،جہاں رات کے وقت عدالتیں لگتی ہوں جہاں 25کروڑ غلاموں کا نمائندہ پارلیمان میں بتائے؛میرے اثاثے میرے وسائل سے زیادہ ہیں تو تمہیں اس سے کیاجہاں انصاف اور قانون کی غیر موجودگی میں دو دو وزیر قانون ہوں،نکاوزیر اور وڈا وزیر،جہاں پوچھ کر بتانے والا وزیر اعظم قوم کو نوید سنائے؛اللہ پوچھے گا کیا کیا؟ میں کہوں گا میرٹ پر سب کام کیے؛ جہاں خواص کے لئے خصوصا چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے کالے ناگ کا زہر نکال دیا گیا ہو وہاں ستائیسویں ترمیم کا آئین کی روح قبض کرنا تو بنتا ہی ہے،اسی ملک میں تاحیات استثنیٰ انصاف    کے تابوت میں آخری کیل ہی ثابت ہوتا ہے

            جہل پروردہ یہ قدریں یہ نرالے قانون،ظلم و عدوان کی ٹکسال میں ڈھالے قانون

                            تشنگی نفس کے جزبات بجھانے کے لئے،نوع انساں کے بنائے ہوئے کالے قانون

                          ایسے قانون سے نفرت ہے عداوت ہے مجھے،ان سے ہر سانس میں تحریک بغاوت ہے مجھے

#BreakingNews 🚨
کارساز حادثے کی ملزمہ #NatashaDanish کی میڈیکل رپورٹ پولیس کو موصول۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق ملزمہ کے یورین کے نمونوں میں آئس منشیات کی موجودگی پائی گئی۔ pic.twitter.com/PjnGCBaLh7

— Raza Zaidi (@Razaazaidi) August 28, 2024 

 

Leave a Comment