“January 28 in History: Events That Left a Mark”جب تاریخ نے کروٹ لی,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
تاریخ وہ دریا ہےجس میں سچ بھی بہتا ہے اور لاشیں بھی۔
ہر عہد اپنے گناہ وقت کی مٹی میں دفن کرتا ہے اور آنے والا زمانہ انہیں ورقوں پر سجا دیتا ہے۔
فاتح اپنے نام کندہ کرواتے ہیں،مگر یاد ہمیشہ مظلوم رکھے جاتے ہیں۔
وقت خاموش رہتا ہے اور تاریخ بولتی ہے—بلا خوف، بلا رعایت۔
جنوری28-1933 کو، چوہدری رحمت علی نے برطانیہ کے شہر کیمبرج سے ایک تاریخی پمفلٹ ابھی یا کبھی نہیں جاری کیا ۔ یہ پمفلٹ پاکستان کی تخلیق کا پہلا واضح مطالبہ تھا،

جس میں ہندوستان کے مسلمان اکثریتی علاقوں کے لیے ایک الگ ملک کی تجویز پیش کی گئی تھی اس مطالبے کو “پاکستان ڈیکلریشن” بھی کہا جاتا ہے، اور اس نے ہندوستانی مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کی تحریک کی بنیاد رکھی

امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے 2003اپنے خطاب میں عراقی صدر صدام حسین پر افریقاسے یورینیم حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا
جنوری 2003 کو اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدر جارج ڈبلیو بش نے کہا، “برطانوی حکومت کو معلوم ہوا ہے کہ صدام حسین نے حال ہی میں افریقہ سے کافی مقدار میں یورینیم منگوایا تھا” 16 الفاظ پر مشتمل یہ بیان 2003 میں عراق پر حملے کو جواز بنا کر جوہری ہتھیاروں کے دوبارہ تشکیل شدہ پروگرام کا الزام لگا کر استعمال کیا گیا تھا، لیکن بعد میں یہ دعویٰ جعلی دستاویزات پر مبنی پایا گیا۔ اس دعوے کا مقصد جوہری ہتھیار بنانے کے لیے صدام حسین کی “یلو کیک” (یورینیم ایسک) حاصل کرنے کی کوششوں کو اجاگر کرنا تھا

نکولس سرکوزی1955فرانس کے صدر
ہنگری کے ایک تارکین وطن کا بیٹا ، سرکوزی 2007 میں کاروبار کے حامی اصلاحات کے ذریعہ فرانس کی معیشت کو بحال کرنے کے وعدے پر منتخب ہوا تھا۔ تاہم ، ان کی کاوشوں کو 2008–09 کے مالی بحران سے پٹڑی سے اتار دیا گیا تھا۔سابق فرانسیسی صدر سرکوزی لیبیا فنڈز کیس میں پانچ سالہ قید کی سزا سنائی
نکولس پال 28 جنوری 1955کو پیدا ہوے ،ایک فرانسیسی سابق سیاست دان اور فرانس کے صدر سے لے کر مجرم کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔

مظفر وارثی، پاکستانی شاعر اور نعت خواں
مظفر وارثی (ولادت: 20 دسمبر 1933ء – 28 جنوری 2011ء) کا پیدائشی نام “محمد مظفر الدین احمد صدیقی” تھا۔ وہ برطانوی ہندوستان کے شہر میرٹھ (یو۔ پی) میں صوفی شرف الدین احمدچشتی قادری سہروردی کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کے مداحوں اورعقیدت مندوں کی تعدادشمار کرناناممکن ہے۔ وہ پچھلے پچاس برسوں سے عروس ِ سخن کا بناؤ سنگھار کر رہے ہیں۔ لکھتے اس لیے نہیں کہ وہ ایک لکھاری ہیں بلکہ اس لیے کہ ان پرآنے والی نجانے کتنی نسلوں اورصدیوں کی راہ نمائی کاقرض ہے۔ احسان دانش نے کہاتھاکہ اگلازمانہ مظفر وارثی کاہے۔ آپ کااپناایک جداگانہ شعری نظام ہے جوآپ کو دیگر شعراسے ممتاز کرتا ہے۔ علم و سخن اپنی ہرشکل، ہرصنف میں آپ کا اوڑھنا بچھونا ہی نہیں بلکہ آپ کے وجود کا حصہ ہیں۔مظفر وارثی کو رعشے کا مرض تھا۔ کافی عرصہ علیل رہنے کے بعد 28 جنوری 2011ء کو 77 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔
| وضاحت | پہلو |
|---|---|
| تاریخ انسان کے ماضی کے واقعات، فیصلوں اور تجربات کا باقاعدہ ریکارڈ ہے۔ | تاریخ کی تعریف |
| تاریخ قوموں کو اپنی غلطیوں اور کامیابیوں سے سیکھنے کا موقع دیتی ہے۔ | تاریخ کی اہمیت |
| ماضی کو سمجھ کر حال کی اصلاح اور مستقبل کی درست سمت متعین کرنا۔ | تاریخ کا مقصد |
| جو قومیں تاریخ کو سمجھتی ہیں وہ وقت کے دھارے میں خود کو زندہ رکھتی ہیں۔ | تاریخ اور قومیں |
| طاقت عارضی ہوتی ہے، مگر اعمال کا حساب تاریخ ضرور لیتی ہے۔ | تاریخ کا سبق |
| تاریخ سیاسی، سماجی اور فکری شعور کو بیدار کرتی ہے۔ | تاریخ کا اثر |

ڈبلیو بی یٹس (1865ء – 1939ء) ایک آئرش زبان کے شاعر تھے آپ نے نوبل ادب انعام 1923 میں جیتا۔.ولیم بٹلر ییٹس ڈرامہ نگار، مصنف اور ادبی نقاد تھے جو 20ویں صدی کے ادب کی صف اول کی شخصیات میں سے ایک تھے۔ وہ آئرش ادبی احیاء کے پیچھے ایک محرک تھا اور جان ملنگٹن سنج اور لیڈی گریگوری کے ساتھ مل کر، ایبی تھیٹر کی بنیاد رکھی، اس کے ابتدائی سالوں میں اس کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ آئرش فری اسٹیٹ کے سینیٹر کے طور پر دو مرتبہ خدمات انجام دیں, 28 جنوری 1939ء کو انتقال کر گئے۔

سپریم کورٹ آف انڈیا کا قیام
جنوری 26 – 1950 کو بھارت کے جمہوریہ بننے کے دو دن بعد، 28 جنوری 1950 کو سپریم کورٹ نے اپنے فرائض کا آغاز کیا، جو ملک کی سب سے بڑی عدالتی اتھارٹی ہے,سنہ 1950 ہری لال جے کانیا آزاد ہندستان کے سپریم کورٹ کے پہلے چیف جسٹس بنے

جنوری28- 1292 ابن القیم الجوزیہ کا یوم پیدائش
جنوری28- 1292 کو، ابن القیم الجوزیہ پیدا ہوئے، وہ ایک ممتاز مسلمان ماہر الہیات، مصنف اور ابن کثیر کے استاد تھے جنہوں نے سنت نبوی کی بھرپور حمایت کی اور انحراف یا بدعت کا مقابلہ کیا جس کی وجہ سے وہ اپنے استاد امام ابن تیمیہ کے ساتھ قید تھے۔ اس کی مزاحمت نے علماء کے مضبوط کردار اور ان کی آزادی کو زندہ کیا۔

بنگلہ دیش کے صدر شیخ مجیب الرحمان کے پانچوں قاتلوں کو 28 جنوری 1292 کو پھانسی دی گئی
بنگلہ دیش میں ملک کو آزادی دلوانے والے راہنما شیخ مجیب الرحمان کے قتل میں ملوث پانچ فوجی افسران کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا,ان پانچ فوجیوں نے شیخ مجیب کے قتل میں ملوت ہونے سے انکار نہیں کیا لیکن اُن کا اصرار تھا کہ ان پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے موت کی سزا کم کرنے کی ان پانچ مجرموں کی اپیل مسترد کر دی تھی۔شیخ مجیب الرحمان کو بنگلہ دیش کو پاکستان سے آزادی دلانے کے صرف چار سال بعد انیس سو پچھتر میں قتل کر دیاگیا تھا۔