“Is Pakistan a Banana Republic?”جو چاھے سو کرو, ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
اٹھارویں صدی میں امریکہ کی چند ریاستوں کے امراء کیلا چھری کانٹے کے ساتھ بڑے شوق سے کھاتے تھے،لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان ریاستوں میں کیلا کاشت نہیں ہوتا تھا اور دوردراز کی ریاستوں سے منگوانا پڑتا تھا،اس زمانے میں ڈیپ فریزرابھی ایجاد نہیں ہوا تھا،دوسرا پھل کی شیلف لائف بھی بہت کم تھی۔
ایک مرتبہ ایک شخص اپنی کشتی میں سوار سمندر کے سفر پر تھا، جزیرہ جمیکا کے مقام پر اس کی کشتی خراب ہو گئی،کیلا جمیکا کا مقامی پھل تھا،اس شخص نے اپنی ناؤ کیلوں سے بھر لی جو اسے نہایت سستے داموں ملے، واپسی پر انگلینڈ پڑاؤ کے دوران اس نے کیلا مہنگے داموں فروخت کر کے اپنی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ کیا،اس شخص نے یہی کام کرنے کا سوچا اور اپنی کمپنی رجسٹرڈ کروائی،اس دوران ڈیپ فریزر بھی مارکیٹ میں آ چکا تھا جس نے کیلے کی صنعت کو دوام بخشا،اب کا دور یونائیٹڈفروٹ کمپنی کا دور تھا،اس کمپنی نے گوئٹے مالا جہاں کیلا کی فصل وسیع پیمانے پر کاشت ہوتی،یہاں اس وقت ایک ڈکٹیٹر کی حکومت تھی، اس ڈکٹیٹر سے ساز باز کر کے تمام قابل کاشت رقبہ صفر ویلیو کے عوض حاصل کیا (ٹیکس سے مستثنیٰ)کچھ وقت گزرا تھا کہ گوئٹے مالا میں ڈکٹیٹر کا تختہ ایک نوجوان نے الٹ دیا۔اس نوجوان نے سب سے پہلے یونائیٹڈ فروٹ کمپنی سے اپنی زمین واگزار کروائی،اس سارے عرصے میں یونائیٹڈ فروٹ کمپنی دنیا کی اکانومی میں ایک نمایاں مقام حاصل کر چکی تھی، اس کے CIAکے ساتھ تعلقات،امریکہ کی اعلیٰ شخصیات کے ساتھ دوستانہ مراسم،یونائیٹڈ فروٹ کمپنی نے پروپگینڈہ مشینری کے لوگ خریدے اور ان سے پروپگینڈہ کروایا کہ گوئٹے مالا میں قائم ہونے والی حکومت ایسے انتہا پسند کمیونسٹ لوگوں پر مشتمل ہے جو امریکہ کے ساتھ جنگ کی خفیہ منصوبہ بندی کر رہی ہے،CIA نے سازشوں کے ذریعے گوئٹے مالا کا اقتدار چھین کر ملک کو انتشار اور خانہ جنگی کی آگ میں جھونک دیا،چھتیس سال تک آگ اور خون کی ہولی کھیلی گئی،ہزاروں لوگ مارے گئے،سینکڑوں تاوان کے لیے اغوا کیے گئے،اس ساری صورتحال کی بعد گوئٹے مالا کے لیے بنانا ریپبلک (کیلا کی جمہوریہ)کی اصطلاح استعمال ہوئی

امریکی مصنف اوہنری نے اپنی کتاب میں جمہوریہ اینچوریا کو بیان کرنے کے لیے بنانا ریپبلک کی اصطلاح استعمال کی،اس نے بتایا کہ کیلا کس طرح یورپ کی منڈیوں میں پہنچا اور بیچنے والوں نے کس طرح حکومتوں پر اپنے اثرورسوخ قائم کیے،اس نے اپنی کہانیوں میں بتایا کہ 1870 میں لورنز وڈی بیکر نامی تاجر کس طرح کیلے کو وسطیٰ امریکہ سے بوسٹن لے گیا اور ایک ہزار فیصد منافع کمایا،1873میں جب امریکہ میں ریلوے نیٹ ورک شروع ہوا توریلوے کی پٹریاں بچھانے والے کونز ہنری میگس نے اپنے بھانجے کے ساتھ مل کر ریل کی پٹریوں کے دونوں جانب کیلے کے باغات کاشت کیے تاکہ مزدور کیلے کھا کر اپنی بھوک مٹا سکیں،کیلا کی کاشت کا تجربہ کامیاب رہا اور کیلا جنوبی امریکہ سے شمال کی طر ف ٹرینوں کے ذریعے ایکسپورٹ ہونے لگا۔کنگڈم آف ہوائی جو اب امریکی ریاست ہوائی ہے کبھی ایک آزاد ملک تھا،وہاں کی امریکی شوگر کے باغات کے مالکان نے 1887 میں بادشاہ (کل کوا)پر ایک نیا آئین لکھنے کے لیے دباؤ ڈالا جس میں محنت کش طبقے کی قیمت پر امریکی تاجروں کو فائدہ پہنچا، ہے۔یوں جمیکا سے شروع ہونے والاسفر طاقت،دھونس،دھاندلی کے زور پر 1880 کی بوسٹن فروٹ کمپنی،جو بعد میں یونائیٹڈ فروٹ کمپنی اور پھر چیکیٹا تک پہنچا۔
| پہلو | وضاحت | اہم علامات | اثرات |
|---|---|---|---|
| تعریف | بنانا ریپبلک وہ ملک ہوتا ہے جس میں سیاسی عدم استحکام، کرپشن، اور غیر ملکی انحصار زیادہ ہوتا ہے | سیاسی ہلچل، کمزور ادارے، بلند قرض | جمہوریت اور ترقی متاثر ہوتی ہے |
| سیاسی صورتحال | حکومتوں کی بار بار تبدیلی اور فوجی اثر و رسوخ | مارشل لا، کمزور سول حکومتیں | حکومتی کمزوری، پالیسی میں استحکام نہ ہونا |
| اقتصادی عوامل | غیر ملکی امداد اور برآمدات پر انحصار، محدود صنعتی بنیاد | قرض کا انحصار، مہنگائی، کم مقامی سرمایہ کاری | اقتصادی کمزوری، عوامی معیار زندگی متاثر |
| سماجی اثرات | بدعنوانی اور عدم مساوات عوام کو متاثر کرتی ہے | وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، سماجی احتجاج | عوامی اعتماد میں کمی، سماجی عدم استحکام |

جو چاھے سو کرو: اس کے بعد بنانا ریپبلک (کیلا کی جمہوریت) کی اصطلاح ان تمام ریاستوں کے لیے استعمال کی جانے لگی جہاں آئین و قانون کی حکمرانی نہیں،سیاسی و معاشی استحکام نہ ہو،انارکی انتہاؤں کو چھو رہی ہو،مشاورت کا فقدان ہو،حکمران طبقات کے خصوصی منافے کے لیے ملک کو نجی تجارتی اداروں کی طرح چلایا جا رہا ہو،جہاں آئے دن اہم سڑکیں جام ہوں،جہاں حکومتیں پولیس کو فری ہینڈ دیں،چادر چاردیواری کا تقدس پامال ہو،لاٹھی چارج،آنسو گیس،شیلنگ،فائرنگ اور پھر گرفتاریاں، جو چاھے سو کرو میں میڈیامیں حقائق سامنے لانے پر پانبدی لگا دی جاتی ہے،جس سے افواہوں اور پروپگینڈہ کا بازار گرم ہوتا ہے لیکن میڈیا تردید یا تصدیق نہیں کرتا،سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی جاتی ہے،راہنما،کارکن اٹھائے جاتے، بدترین تشدد کا نشانہ بنتے ہیں یا مرے ضمیروں والے ایک پریس کانفرنس کر کے گنگا نہائے جاتے ہیں،وکیل کی بجائے جج ہی کر لیا جاتا ہے، ساڈا بندہ، ساڈا بندہ کا کلچر عام ہو،1887 (نیا آئین لکھنے) والا قانون ابھی بھی رائج ہو، ملکی معیشت غیر ملکی سرمائے کی انتظار میں بیٹھی ہو، تاریخی مہنگائی، اربوں لگا کر کھربوں کا نقصان کیا جائے،جہاں دہائیوں سے کرپٹ اورخود غرض اشرافیہ اپنے تخت کو دوام بخشنے کے لیے ملک کے اداروں،وسائل اور عوام کا استحصال کریں، جاہلوں کے ہاتھوں میں ملک کی تقدیر ہو،گوئٹے مالا کی طرح ملک میں خانہ جنگی ہو،انسانیت لسانیت کی بھینٹ چڑھ جائے،جہاں ڈاکٹر چندی لال، راجا بھگوان داس کی یاد تازہ کر دے،آخر میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ آیا کیا ہم خوش قسمت ہیں کہ ہماری ریاست جس کے ہم باشندے ہیں اس کا ان مندرجہ بالا حقائق سے کوئی تعلق نہیں یا یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم منو عن ان تمام مثالوں کی عملی تصویر ہیں۔
آپ ہی اپنی اداؤں پر ذراغور کریں
اگر ہم کچھ عرض کریں کے تو شکایتہوگی