Indus Water Treaty: سندھ طاس معاہدہ

Indus Water Treaty: سندھ طاس معاہدہ,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

پاکستان آزاد ہو چکا تھا،مسائل کا انبار،قانون،آئین،ضابطے تشکیل کے مراحل میں،مہاجرین کی آبادکاری چیلنج کی صورت اختیار کر چکی تھی کہ بھارت نے نوزائیدہ ملک پر جو پہلی کاری ضرب لگائی وہ بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے والے تین دریاؤں ستلج، بیاس اور راوی کے پانی پر بند باندھنا تھا،وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان اس امر سے بخوبی آگاہ تھے کہ ملک کی 80% آبادی دیہات پر مشتمل ہے پانی کی عدم دستیابی قحط کی صورت اختیار کر سکتی ہے،لیاقت علی خان نے بھارت کو للکارتے ہوئے اعلان کیا؛ہم پانی کی ایک ایک بوند کی خاطر  اپنے خون کا ایک ایک قطرہ بہادیں گے؛اعلان کارگر ثابت ہوا، عالمی برادری حرکت میں آئی  پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کے مسئلے پرمذاکرات کا آغاز ہوا جو آگے چل کر سندھ طاس معاہدے کی شکل اختیار کر گیا،9 ستمبر 1960 کوپنڈت جواہر لال نہرو اور صدر ایوب خان نے پانی کی تقسیم کے معاہدے پر فریقین کی حیثیت سے جبکہ ورلڈ بینک کے نائب صدر اے پی ایلف نے ضامن کی حیثیت سے دستخط کیے۔معاہدے کے مطابق تین مشرقی دریاؤں ستلج، بیاس اور راوی کا پانی بھارت جبکہ تین مغربی دریاؤں سندھ،چناب اور جہلم کا پانی پاکستان کے حصے میں آگیا  سندھ طاس معاہدے میں طے پایا کہ پاکستان دس سالوں میں دریائے راوی،ستلج،چناب،جہلم اور سندھ پر بیراج، ڈیم اور  رابطہ نہریں بنائے گا جو پاکستان کی آبی ضروریات کو پوری کریں گے مزیدیکہ ورلڈ بینک 1070 ملین ڈالر کی خطیر رقم ان منصوبوں کے لیے دے گا جن میں سے 870 ملین ڈالر پاکستان اور 200 ملین ڈالر بھارت میں خرچ ہوں گے


دنیا کا دوسرا بڑا آبی نظام 

پاکستان نے آنے والے دس سالوں میں دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم، دریائے جہلم پ منگلا ڈیم  سندھ جہلم چناب اور راوی پر پانچ  بیراج اور چشمہ جہلم لنک، تونسہ پنجند لنک،رسول قادرآباد لنک، قادرآباد بلوکی لنک،تریموں سدھنائی لنک،میلسی بہاول لنک اور بلوکی سلیمانکی لنک جیسی سات رابطہ نہریں بنا کردنیا کا دوسرا بڑا آبی نظام   مکمل کر دیا جس نے پوری دنیا اور بالخصوص بھارت کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا،بھارت نے تہیہ کیا کہ اب ہم پاکستان کو کوئی نیا ڈیم بنانے نہیں دیں گے آبی میدان میں پاکستان ہمیشہ ہمارا زیر بار رہے گا  اس ضمن میں وقتا  ً فوقتا  ً کثیر سرمایہ خرچ کیا جاتا رہا  یہی وجہ ہے کہ 1970 کے بعد ہم کوئی بھی بڑا ڈیم بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔سندھ طاس معاہدے کی رو سے چناب جہلم اور سندھ کے پانی پر پاکستان کا حق ہے لیکن بھارت نے 1992 میں مقبوضہ کشمیر کے ضلع ڈوڈا میں دریائے چناب کے ماخذ پر بگلیہارڈیم بنانے کا اعلان کر کے آبی جارحیت کا ثبوت دیا 2008  میں مکمل ہونے والا بگلیہار ڈیم بھارت کو 450 میگاواٹ بجلی اور 50 ہزار میگاواٹ تسکین جبکہ پاکستان کو 3 لاکھ 21 ہزار ایکڑ فٹ پانی کی کمی کے ساتھ لاکھوں ایکڑ بنجر ہوتی زمین کا تحفہ دے گا۔ بھارت نے جب دیکھا کہ اس معاہدہ شکنی پر ہماری طرف سے عالمی سطح پر کوئی توانا آواز بلند نہیں کی گئی تو اس کے حوصلے مزید بلند ہو گئے 2007 میں دریائے جہلم کے ماخذ پر کشن گنگا منصوبے کا آغاز ہوا جس سے بھارت ماتا کی بنجر زمینیں دریائے جہلم کے پانی سے سیراب ہوں گی بدلے میں پاکستان کو نیلم جہلم منصوبہ کا پانی 16% کمی کے ساتھ آٹھ ارب کا سالانہ نقصان برداشت کرنا ہو گا 2013  میں مقبوضہ کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں ریتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور منصوبہ بھی شروع کر دیا جو بگلیہار اور کشن گنگا  سے تین گنا بڑا منصوبہ ہے۔بھارت 2025 تک پاکستان کے پانیوں سے40 ہزار میگاواٹ بجلی بنا کر ان ابتدائی دس سالوں کا بدلا لینا چاہتا ہے جبکہ ہمارے ہاں راوی چین ہی چین لکھتا ہے نا ہمارے پاس نو من تیل ہے نا ہماری رادھا کے ناچنے کا کوئی ارادہ  ہماری مجرمانہ غفلت کا اندازہ لگائیے کہ سید جماعت علی شاہ جو  پاکستان کے انڈس واٹر کمیشن کے سربراہ تھے انہوں نے 2005 کو  بگلیہار ڈیم کے خلاف ورلڈ بینک میں اپیل کی،امریکی وکیل جیمز کرافٹ کو ہائر کیا گیا جو بھارت سے مل گیا اور ہم یہ مقدمہ ہار گئے 2010 میں کشن گنگا کے خلاف اپیل میں شاہ صاحب نے تمام تر مخالفت کے باوجود  جیمز کرافٹ کو پھر تکلیف دی نتیجہ وہی؛ دھاک کے تین پاٹ؛

Indus Water Treaty: سندھ طاس معاہدہ

دوسری جانب چین بھارت کے دوسرے بڑے دریا؛برہم پترا؛ جو بھارت کی پانچ ریاستوں کے درمیان سے گزرتا ہے اس کے ماخذ دریا زینگبو جو دریائے تبت میں ہے ایک بڑا ڈیم بنا رہا ہے یہ برہم پترا کا 34% پانی روک لے گا  جس نے بھارت کو بہت بڑی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے یہ چین کی طرف سے ہمارے لیے بڑی سفارتی مدد ہے ہمیں چین بھارت تنازعہ کے حل سے پہلے پہلے بڑے ڈیم،بیراج اور رابطہ نہریں بنا لینی چاہیں، نہیں تو بھارت ایسے ہی ہمارے دریاؤں پر ڈیم بناتا چلا جائے گا اور ہم پانی کے خوفناک بحران کا شکار ہو کر بوند بوند کو ترس جائیں گے

آج پورے ملک میں آبنوشی کا بحران خطرناک حد کو چھو رہا ہے زیر زمین پانی کی کمیابی پورے ملک کو لاحق ہے موسمیات کے عالمی ماہرین درجہ حرارت بڑھنے اور پانی کی سطح کم ہونے کی وارننگ کم و بیش 25 سال سے دیتے چلے آرہے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ آج دنیا کا سب سے بڑا آب پاشی کا نظام رکھنے والے پاکستان کے شہر کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح 300 فٹ سے بھی زیادہ نیچے چلی گئی ہے جس کی وجہ سے کوئٹہ گھوسٹ سٹی بننے کے قریب ہے،راول ڈیم میں پانی تہہ تک پہنچ چکا ہے1990 میں اسلام آباد اور راولپنڈی کو دریائے سندھ سے پانی کی فراہمی کا منصوبہ تاحال سرد خانے کی نظر ہے،2016 کی عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جنہیں 2025 سے پانی کے شدید بھران کا سامنا ہو گا اگر حکومت نے اس بحران کو حل نہ کیا تو چند سال میں شدید غذائی بحران کا خدشہ ہے۔ IMF کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان پانی کی کمی کے شکار ملکوں میں تیسرے اور پانی کے ضیاع کے شکار ملکوں میں چوتھے نمبر پر ہے اگر یہی صورت حال رہی تو 2040 تک ہم پانی کے بحران کا سامنا کرنے میں پہلے نمبر پر ہوں گے

Indus Water Treaty: سندھ طاس معاہدہ

پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت30 دنوں تک ہے اب اس میں مزید کمی واقع ہو رہی ہے جبکہ بھارت 190 دنوں تک پانی جمع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 250 دنوں تک ذخیرہ کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے(یہاں قوم کے لیے خوشخبری ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے حالیہ جلسے میں فرمایا ہے کہ بھارت کو ترقی میں پیچھے نا چھوڑ دیا تو میرا نام بدل دینا،اب یا تو انہیں 300 دن تک پانی جمع کرنے کا فارمولہ ہاتھ لگا ہے یا قوم نام سوچنا شروع کر دے) ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ پانی قدرت کا بیش بہا تحفہ ہے،اللہ نے اسے کئی روپ عطا کیے ہیں ہر روپ  بیمثال ہے  اوپر اٹھے تو بھاپ، نیچے گرے تو بارش، جم کر گرے تو اولہ، گر کر جمے تو برف، پھول پر گرے تو شبنم، پھول سے گرے تو عرق، قدم اسماعیل ؑ سے نکلے تو زم زم، انگلی مبارک سے نکلے تو آبِ کوثر،لیکن افسوس میلے ٹھیلوں اور ہوائی سفروں کے شوقین حکمرانوں کی دنیائیں اور ہیں،عوام پانی میں ڈوبیں یا پانی تو ترسیں۔۔۔۔۔

Indus Water Treaty: سندھ طاس معاہدہ

جس دیس میں آٹے چینی کا بحران فلک تک جا پہنچے، جس دیس میں بجلی پانی کا فقدان حلق تک جا پہنچے 

جس دیس کے عہدیداروں سے عہدے نا سنبھالے جاتے ہوں،جس دیس کے سادہ لوح انسان وعدوں پہ ہی ٹالے جاتے ہوں 

                اس دیس کے ہر اک لیڈر پر سوال اٹھانا واجب ہے،اس دیس کے ہر اک حاکم کو سولی پہ چڑھانا واجب ہے    

Leave a Comment