From Tora Jail to Adiala, is history repeating itself? مرسی سے عمران خان تک,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
جو خواب آنکھوں میں جنم لیتے ہیں وہ ہمیشہ آنکھوں کے ساتھ نہیں مرتے وہ نسلوں کے سینوں میں اتر جاتے ہیں اور تاریخ کے سفینوں میں سوالات کی صورت تلاطم برپا کیے رکھتے ہیں،جسم کو قید ممکن ہے خیال آزاد رہتا ہے، جو رگوں میں دوڑتا ہے اور ذہنوں پر دستک دیتا رہتا ہے
From Tora Jail to Adiala, is history repeating itself? مرسی سے عمران خان تک
اخوان المسلمین کی بنیاد 1928 میں امام حسن البنا ء نے رکھی جب وہ بمشکل بائیس برس کے تھے،اما م خود تو شاہ فاروق کے گرگوں کے ہاتھوں 1949 میں شہید کر دیے گئے لیکن ان کا لگایا ہوا شجر شاہ بلوط بن چکا تھا،جس کی شاخوں میں عزم دوڑتا تھاکہ ظلم کی اندھی رات کا سینہ چیر کر سچائی اور انصاف کا سورج از سر نو ابھارا جائے گا،غاصبوں آمروں کے رعونت آمیز میناروں کو زمین بوس کر کے خدائے یکتا کے پرچم اور کلمے کو ہر آن سر بلند کیا جائے گا۔1953 میں جمال عبد الناصر کی ظلم و بربریت پھر 1966میں سید قطب کی شہادت،پھر انور سادات اور پھر حسنی مبارک کی سفاکیت سہہ جانے والی جماعت؛اخوان المسلین؛ کی شاخوں پر ایک کونپل پھوٹی جسے تاریخ مرسی کے نام سے یاد رکھے گی،مرسی مصر کی سیاست میں ایسے وقت میں نمودار ہوئے جب نیل کے کنارے ایک قوم اپنے مستقبل https://tazzakhabren.com/imran-khan-left-with-15pc-vision-in-right-eye-sc-told/کی تلاش میں تھی،عرب بہار نے برسوں کی خاموشی کو آوازدی
From Tora Jail to Adiala, is history repeating itself? مرسی سے عمران خان تک
گلیوں میں نعرے گونجے،تحریر سکوائر میں انقلاب نے انگڑائی لی،سات ہزار سال کی مصری تاریخ میںمرسی ایک عام کارکن سے صدارت کے منصب تک پہنچے،امام حسن البناء کے جھنڈے کو دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے تھامے مرسی نے ملک میں امن و عامہ ا ور صلح جوئی کے اقدامات کیے مگر ان کے ایک فیصلے نے عالمی دنیا کے ایوانوں میں شورش برپا کر دی انہوں نے محصور و مبحوس اہل غزہ کے لیے صحرائے سینا کو کھول دیا،واضح رہے کہ ناجائز ریاست اسرائیل نے تین ا طراف سے غزہ کا محاصرہ کر رکھا تھا جبکہ چوتھی طرف صحرائے سینا ہے جہاں حسنی مبارک نے خاردار تاروں اور باڑوں بندوقوں کے ذریعے سرزمین حریت غزہ کے باسیوں کو پابند کر رکھا تھا،یہی نہیں غزہ کے محصورین کے لیے مصر کے بازاروں اسپتالوں کے دروازے کھول دیے گئے مہذب دوغلی دنیا تو مرسی سے ادھار کھائے بیٹھی تھی 26 ستمبر کو ایک اور بھونچال دنیا نے دیکھا جب مصر کی تاریخ کے پہلے منتخب صدر نے اقوام متحدہ سے https://ur.wikipedia.org/wiki/محمد_مرسی خطاب میں حرمت رسول ﷺ کے سلسلے میں دو ٹوک موقف اختیار کیا،
مرسی کا کہنا تھا کہ؛عزت اسی کی ہو گی جو نبیﷺ کی عزت کرے گا،ان سب سے دشمنی ہو گی جو نبیﷺ سے دشمنی کرے گا اس بیان پر گستاخانہ خاکوں والے مغربی میڈیا،امریکہ کے نسلی وفاداروں کی غیرت نے انگڑائی لی اور پھر وہ دن آیا جب آمر عبد الفتح سیسی نے طاقت کے نشہ میں چور تقریبا ڈیڑھ کروڑ ووٹوں کی حامل مرسی کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر صدر مرسی کو تورہ کی بدترین جیل میں پابند سلاسل کر دیا گیا،2019کے آتے آتے کون سا ایساستم تھا جو ناآزمایا گیا چھ برسوں میں صرف تین مرتبہ اہل خانہ تک رسائی ممکن ہو سکی وہ بھی سرکاری نگرانی میں،بالآخر 17جون 2019 کو دوران قید عدالت کے کٹہرے میں لائے گئے بے ہوش ہوئے اور وہیں اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے،حکومتی ہرکاروں نے مرسی کونامعلوم مقام پر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا جبکہ دنیا بھر نے مرسی کی موت کو عدالتی قتل قرار دیا،طیب اردگان نے مرسی کے قتل کا الزام جنرل سیسی پر عائد کیا،صدر مرسی نے دعویٰ کیا تھا کہ؛الموۃ فی سبیل اللہ اسما امانینا؛راہ خدا میں موت ایک محفوظ نام ہے۔
نیل کے بہتے پانیوں سے ہزاروں دور آج پاکستان کی سیاست میں ایک ایسی ہی داستان لکھی جا رہی ہے ایک سابق وزیر اعظم جیل میں ہے اور حامی سڑکوں پر،بندوق نے بیلٹ کو پیچھے دھکیل دیا،سوال ہیں کہ سارے ہی ملتے جلتے، ادھر اڈیالہ ہے تو ادھر تورہ، ایک کو سیسی کا انتقام کھا گیا تو دوسرے کی ما نگ میں پارلیمانی عدم اعتمادکی سیاہی بھر دی گئی،کسی کی زندگی کے چھ قیمتی سال تورہ جیل کی سلاخوں سے پٹخ پٹخ کر زخمی ہوتے رہے تو کوئی بد ترین قید تنہائی کے تین سالوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر جھیل رہا ہے،مرسی کے مصر کا تحریر اسکوائر انقلابیوں کے نعروں سے گونجتا رہے گا یہاں اسلام آباد کا ڈی چوک فدائین کی شہادتوں کا انصاف مانگتا رہے گا۔۔۔۔۔۔آخر میں سوال ایک ہی ہے کیا تاریخ خود کو دہراتی رہے گی ?طاقت کس کی ہے؟فیصلہ کس کا ہے؟اور عوام کے ووٹ کی حیثیت کیا ہے؟،فیصلہ قانون کرے گا یا انتقام

