East India Company: خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا اور حکم کمپنی بہادر کا

سولھویں صدی کے آخری سال ہیں مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کا ہند سونا اگلتا ہے دنیا کے ایک چوتھائی کاروبار پر تاجدار ہند کی مہر ثبت ہوتی،ادھرملکہ الزبتھ اول کا زرعی ملک برطانیہ خانہ جنگی سے سنبھلتے،دنیا کی3% مصنوعات تیار کرتا،مہم جو برطانوی تاجر؛رالف فچ؛بحر الہند میسوپوٹیمیا ا ور خلیج فارس میں تجارتی سفر کرتے ہوئے ہند کی خوشحالی کا عندیہ دے چکے ہیں۔برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو1600میں ملکہ عالیہ الزبتھ کے عہد میں ہندوستان سے تجارت کا پروانہ ملا چند ایک ابتدائی کاوشوں کے بعد اگست 1608 میں کیپٹن ولیم ہاکنز کا جہاز؛ ہیکٹر؛ہند کی بندرگاہ سورت(موجودہ بھارتی گجرات) میں لنگر انداز ہو کر ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد کا اعلان کرتا ہے۔

East India company

کون جانتا تھا کہ سورت سے شروع ہونے والا سفر دنیا کے امیر ترین ملک ہندوستان پر راج کا پیش خیمہ ثابت ہو گا، امارت کا عالم یہ تھا کہ اکبر نے اپنے ترکے میں پانچ ہزار ہاتھی، بارہ ہزار گھوڑے،دو سو بہتر من سونا،تین سو ستر من چاندی، ایک من جواہرات وغیرہ چھوڑے، اس زمانے میں سرمائے میں صرف چین کا خاندان منگ ہی بادشاہ اکبر کی ہمسری کر سکتا تھا۔شہنشاہ ہند کی وفات کے بعد اسکے بیٹے سلیم، نور الدین اور جہانگیر کے لقب سے تخت نشین ہو چکے تھے جہانگیر کے ساتھ تجارتی معاہدے میں نیم خواندہ ولیم ہاکنز کی ناکامی کے بعد رکن پارلیمان؛سرتھامس رو؛ کو شاہی ایلچی کے طور پر بھیجا گیا،تین سال کی محنت شاقہ،شکاری کتوں،پسندیدہ شراب اور بیش بہا تحائف کے عوض تھامس رو شہنشاہ جہانگیر کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے میں کامیاب ٹھہرا جس کی رو سے کمپنی اور برطانیہ کے تمام تاجر برصغیر کی ہر بندرگاہ اور مقام پر خریدو فروخت کر سکتے ہیں بدلے میں پورپی مصنوعات ہند کو دینے کا وعدہ کیا گیا مگر تب وہاں بنتا ہی کیا تھا کمپنی کے تاجر ہند سے مصالحہ جات، سوت، نیل، پوٹاشیم نائٹریٹ اور چائے خریدتے اور عالمی منڈی میں مہنگے داموں فروخت کر تے اور خوب منافع کماتے،کمپنی جو چیز خریدتی معاوضہ چاندی کی صورت میں ادا کرتی جو غلاموں کو جزائر، سپین اور امریکہ بھیج کر حاصل کرتی رہی1707 میں اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد مغل سلطنت کا شیرازہ بکھرنے لگا یہی وقت تھا جب کمپنی نے طاقت اور پیسہ سمیٹا ابتدائی فتوحات کے بعد فرانس اور ہالینڈ کو برصغیر سے نکال باہر کیا

 ولیم ڈیل رمپل اپنی کتاب؛دی انارکی؛میں لکھتے ہیں کہ یہ تاریخ کی ایک منفرد مثال ہے ایک کمپنی نے اپنی فوج اور بحریہ کی مدد سے 20کروڑ لوگوں پر مشتمل ایک پوری قوم کو غلام بنا دیا تھا1857کی جنگ آزادی میں ہزاروں باغیوں کو چوکوں چوراہوں میں عبرت کا نشان بنا دیا گیاآزادی کے متوالے بیدردی سے کچل دیے گئے یہ برطانوی نو آبادی تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام تھا۔جنگ آزادی کے اگلے برس نومبر میں ملکہ وکٹوریہ نے کمپنی کے اختیارات ختم کر کے اختیار براہ راست سنبھال لیا کمپنی کی فوج کو برطانوی فوج میں ضم کر دیا گیا(آم کے آم گٹھلیوں کے دام)مورخ سید حسن ریاض کے مطابق اس زمانے میں یہ بات زبان زد عام تھی

؛خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا اور حکم کمپنی بہادر کا؛

 

Leave a Comment