Dirty Politics of Pakistan:یہاں ڈرٹی پولیٹکس کا ہی راج رہے گا
ڈرٹی پالیٹکس کے نام سے انڈیامیں 2015 ایک فلم ریلیز ہوئی جس میں اداکار اوم پوری نے ایک کرپٹ سیاستدان کا کردار ادا کیا جو اپنی سیاسی کامیابی کے لیے ہر جائز و ناجائز طریقہ اپناتا ہے، کلائیکہ شراوت فلم میں ایک سوسائٹی گرل کے روپ میں اپنا کردار نبھا رہی ہیں جو ایک منصوبہ کے تحت وزیر اعلیٰ سے قریبی تعلقات قائم کرتی ہے، تنہائی میں وزیر اعلیٰ کے ساتھ قابل اعتراض وڈیو کلپس بنواتی اور پھر اسے بلیک میل کرتی ہے۔(ہمارے ہاں فلم والی دونوں مثالیں موجود ہیں، اوم پوری جیسے تو پارلیمنٹ کی ہر اینٹ اٹھانے پر دو چار تو نکل ہی آتے ہیں، باقی وڈیوز کن کے پاس ہیں اس بارے میں آپ جانتے ہی ہیں)

سیاست پر نگاہ ڈالیں تو ذولفقار علی بھٹو جو مولانا مودودی کے بدترین سیاسی مخالف تھے، اچھرہ کے ذیلدار پارک میں مودودی کے ہاں جاتے دکھائی دیتے ہیں،بھٹو کا مودودی کے ہاں جانا اس وقت کا بہت بڑا سیاسی واقعہ تھا، اس پس منظر میں باباچشتی کا لکھا ہوا گیت ملکہ ترنم نور جہاں نے گایا؛ساڈا کلیاں نئی لگدا دل وے،مینوں اچھرے موڑ تے مل وے؛ملکی سیاسی تاریخ ان سیاہ کاریوں (ڈرٹی پولیٹکس)سے اٹی پڑی ہے،

فروری 1981 میں چلنے والی بحالی جمہوریت کی تحریک کے سیاسی اور جمہوری اثرات کو زائل کرنے کےلیے نواز شریف کو میدان میں اتارا،منہ دکھائی میں پنجاب کا خزانہ بطورتحفہ دیا گیا، نواز شریف اینڈ کمپنی کو ضیا آمریت کی باقیات کہا جاتا ہے لیکن آمروں (جنرل آصف نواز،وحید کاکڑ،جہانگیر کرامت، پرویژ مشرف،راحیل شریف،قمر جاوید باجوہ) سے جلدی کٹّی کر لیتے ہیں،جونیجو کو دھوکہ دیا،بینظیر کو فارغ کروایا،فاروق لغاری کو چلتا کیا، جتوئی سے ہاتھ کیا، مشکل وقت میں زرداری سے بیوفائی کی،سارے میچ امپائروں سے مل کر کھیلے،کئی مرتبہ انقلابی ہوئے،مستقل مزاج ایسے کہ سپریم کورٹ سے نااہل، یائیکورٹ سے اشتہاری،احتساب عدالت سے سزا یافتہ،چھانگوں مانگوں کی سیاست کے جد امجد،مگر چوتھی مرتبہ اقتدار کی خواہش اٹھکیلیاں لیتی رہی(ابراہیم ذوق نے شاید اسی لیے کہا تھا؛ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی)سابق صدر آصف علی زرداری ایک سیاسی سوداگر ہیں،انکو ہر ایک کی قیمت کا بخوبی اندازہ ہے،مقتدرہ کو جب بھی کسی حکومت کو سمجھانا مقصود ہو تو زرداری صاحب کی خدمات لی جاتی ہیں،اس راز کو جاننے کے لیے کچھ سال پیچھے جانا ہو گا جب اس وقت کی مقتدرہ نواز شریف صاحب کے پر کاٹنا چاہتی تھی،جس کا خیال تھا کہ سینٹ اپوزیشن کے پاس رہنا چاہیے تاکہ نواز شریف کو اتنی آزادی نہ مل سکے کے وہ دوبارہ وزیر اعظم بن کر اپنی من مرضیاں کرتے پھریں،اس وقت بھی زرداری صاحب کی خدمات مستعار لی گئیں اور پھر کیسے زرداری صاحب کوئٹہ روانہ ہوئے،کیسے اپنا بلوچ کارڈ کھیلا،کیسے بریف کیسوں کے منہ کھلے اور ایک اچھی بھلی صوبائی حکومت جسے نواز شریف کی پارٹی کی حمایت حاصل تھی دھڑام سے نیچے گری،زرداری کی منصوبہ بندی سے کیسے چند ہی روز میں ثنا اللہ زہری کے خلاف بغاوت ہوئی اور عبدالقدوس نزنجو نئے وزیر اعلیٰ بلوچستان بن گئے۔جس کے بعد وہاں منعقدہ سینٹ کے الیکشن میں اپنے لوگ سینٹرز بنوا کر اسلام آبادبھجوا دیے گئے،چند روز بعد جب چیئرمین اورڈپٹی چیئر مین کے الیکشن ہوئے تو (باپ) سے تعلق رکھنے والے صادق سنجرانی چیئرمین اور پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈی والاڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے،یوں سینٹ نواز شریف کے ہاتھ سے نکل گیا،(ایک زرداری سب پر بھاری)
عمران خان کرپشن کی سیاست کے باغی ہیں لیکن انہیں اس حقیقت کو جتنی جلدی ہو تسلیم کر لینا چاہیے کہ ان کے ساتھی مولانا حسرت موہانی جیسے سیاستدان نہیں جو متحدہ ہندوستان کی قانون ساز اسمبلی میں سائیکل پر جایا کرتے تھے،مولانا فضل الرحمان ہمارے ایسے سر سبز سیاستدان ہیں جن کی سیاست نواز شریف،بینظیر،جنرل مشرف،صدر آٖصف علی زرداری،چار مختلف ادوار میں ہری بھری رہی،2024 کی سیاست میں مولانا نے قومی اسمبلی کی 8 اور سینٹ کی 5 نشستوں کے ساتھ حکومتی اتحاد، PTI،اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو اپنے دورازے پر بٹھایا ہوا ہے اور جمہوریت کے چی گوویرا بن گئے ہیں۔ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہاں لیڈر شپ کا فقدان رہا،پوری دنیا میں لیڈروں کا تعلق ہمیشہ بڑے گھرانوں سے ہوتا ہے،اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں،انکا گلوبل ایکسپوژر بھی ہوتا ہے لیکن جب یہ سیاست میں آتے ہیں تو سادگی،غریب پروری کا تحفہ ساتھ لے کر آتے ہیں،یہ ناصرف عام آدمی کی بات کرتے ہیں بلکہ عام آدمی نظر بھی آتے ہیں،لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے،ہم ڈرٹی پولیٹکس میں غوطے کھا رہے ہیں،ہماری پارٹیاں، سیاسی جماعتوں کی طرح نہیں بلکہ سیاسی خاندانوں اور پولیٹیکل کارپوریشنز کی طرح چل رہی ہیں

،امید تھی کی آنے والی سیاسی لاٹ اپنے پیشروؤں سے بہتر ہو گی،صاف ستھری،بااصول سیاست کرے گی لیکن انکے اقدامات نے سیاسی جوہڑ میں مزید تعفن پیدا کیا، دنیا اب بدل رہی ہے اب آپ جہازوں اور ہیلی کاپٹروں سے اتر کر، بارہ بارہ لاکھ کے جوتے اور لوئی ویٹان کے پرس پکڑ کر میرے بھائیو اور بہنو! جیسے دعوؤں سے لوگوں کو دھوکہ نہیں دے سکیں گے۔

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا،اے چاند یہاں نا نکلا کر، یہاں الٹی گنگا بہتی ہے،اس دیس میں اندھے حاکم ہیں
نا ڈرتے ہیں نا نادم ہیں،نا لوگوں کے وہ خادم ہیں،اے چاند یہاں نا نکلا کر