Bangladesh at the Ballot: A Defining Moment for Democracyبنگلہ دیش میں انتخابات ,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
بنگلہ دیش میں انتخابات کی مہم پیر کی رات ختم ہو گئی,12 فروری کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔
پورے بنگلہ دیش میں بی این پی کے ’دھان کے خوشے‘ اور جماعت اسلامی کے ’ترازو‘ کے انتخابی نشانات سیاہ و سفید پوسٹروں اور بینرز کی صورت میں سڑکوں، درختوں اور بجلی کے کھمبوں پر آویزاں نظر آ رہے ہیں۔ یہ منظر ماضی کے انتخابات سے بالکل مختلف ہے جہاں عوامی لیگ کا ’کشتی‘ کا نشان ہر جگہ غالب ہوا کرتا تھا۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان نے منگل کو ڈھاکہ میں عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’بی این پی ملک کی سب سے مقبول جماعت ہے۔ ہم گذشتہ 17 برسوں سے عوام کے ووٹ کے حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم عوام کی توقعات اور امنگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘ ’مجھے یقین ہے کہ لوگ ہمیں ووٹ دیں گے اور ان کی پارٹی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرے گی
طارق رحمان، بی این پی کے بانی ضیاالرحمٰن کے بیٹے ہیں، جو سنہ 1971 کی جنگِ آزادی کے ہیرو تھے اور سنہ 1977 میں صدر بنے۔ سنہ 1981 میں ان کے قتل کے بعد طارق رحمان کی والدہ خالدہ ضیا نے پارٹی کی قیادت سنبھالی اور سنہ 1991 میں ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بنیں۔طارق رحمان نے والدہ کے انتقال کے چند ہی دن بعد بنگلہ دیش واپسی پر فوراً بی این پی کی قیادت سنبھالی۔
طارق رحمان تقریباً دو دہائیوں سے خودساخته جلاوطنی کے بعد دسمبر کے اواخر میں بنگلہ دیش واپس لوٹے، جہاں ایئرپورٹ سے ڈھاکہ کے وسط تک ان کے استقبال کے لیے لاکھوں افراد سڑکوں پر موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی عوام انتخابات میں ان کی جماعت کی حمایت کریں گے۔ طارق رحمان نے واضح کیا کے یہ انتخابات ایک ایسے نظام کی تبدیلی کے بعد ہو رہے ہیں جس نے برسوں تک ان کے حامیوں کے ووٹ کے حق کو محدود کیے رکھا۔

طارق رحمان سنہ 2008 میں بنگلہ دیش چھوڑ کر لندن منتقل ہو گئے تھے۔ ان کے خلاف سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے دوران مختلف مقدمات قائم کیے گئے، جو بی این پی کی سخت ترین سیاسی مخالف سمجھی جاتی تھیں۔ شیخ حسینہ 2024 کے وسط تک اقتدار میں رہیں، تاہم بعد ازاں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں بی این پی کا مقابلہ مزید 50 جماعتوں سے ہو گا، جن میں بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی بھی شامل ہے، جس کے بارے میں اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ نئی حکومت میں بڑی اپوزیشن جماعت بن کر ابھرے گی
اہم خبر : معزول وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی قیادت میں عوامی لیگ کو انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ پابندی اگست 2024 میں ہونے والے پُرتشدد احتجاج کے بعد لگائی گئی، جس کے نتیجے میں عوامی لیگ اقتدار سے بے دخل ہو گئی تھی۔