Ali Dar appointed CM Maryam’s aide on Punjab AI and special initiatives سیاسی اقربا پروری کی تازہ مثال
حکومت پنجاب نے ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے علی مصطفی ڈار کو وزیر اعلیٰ کا مشیر مقرر کر دیا ہے،کابینہ ونگ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے،نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعلیٰ نے علی ڈار کو مصنوعی ذ ہانت اور خصوصی اقدامات کے لئے اپنا مشیر مقرر کیا ہے،یہ ذمہ داری انہیں فوری طور پر اعزازی بنیادوں پر سونپی گئی ہے،علی ڈار ایچی سن کالج اور یونیورسٹی کالج لندن سے تعلیم یافتہ ہیں

اپنے ملک پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق تین سے چھ لاکھ آئی ٹی پروفیشنلز ہیں جن میں سے پچاس ہزار کمپیوٹر سائنس اورسافٹ ویئر انجینئرنگ کے طلبا سالانہ گریجویشن کرتے ہیں
وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے بہنوئی علی ڈار کو ذاتی مشیر برائے آرٹیفیشل انٹیلی جنس مقرر کیا اور وہ سپیشل انیشییٹو بھی ہوں گے،علی ڈار نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے صاحبزادہ ہونے کے ساتھ ساتھ مریم نواز کے بہنوئی بھی ہیں، ڈار صاحب تاحال دبئی میں مقیم ہیں یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کیا پاکستان میں چھ لاکھ پروفیشنلز میں کوئی بھی اس قابل نہ تھا کی وزیر اعلیٰ کا مشیر مقرر کیا جاتا۔وزیر اعلیٰ اپنی تقاریر میں تواتر سے فرماتی ہیں کہ مریم نواز کی ڈکشنری میں سفارش نام کا کوئی لفظ نہیں،تو پھر اس تقرری کو کیا نام دیا جائے،سینئر صحافی نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ مریم نواز صوبے کو بڑی بہن کی طرح چلا رہی ہیں لیکن انکے اقدامات سے ظاہر تو یہ ہوتا ہے کہ وہ صوبے کو سسرالی عزیزہ کے طور پر چلا رہی ہیں جہاں بہن کے سسر نائب وزیر اعظم اور انکا برخوردار ذاتی مشیر اور سپیشل انییشٹو ہوں گے۔ان حالات میں قوم تیار رہے اگلے نوٹیفکیشن کے لئے جس میں قرعہ فال روہیل اصغر ڈار کی فیملی کے نام نکلے گا۔
