Afghanistan’s Economy and Human Crisis (افغانستان کامعاشی اور انسانی المیہ) ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
افغانستان اس وقت ایک ایسے نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں سیکیورٹی، معیشت اور انسانی فلاح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بحرانوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ طالبان کی جانب سے پیش کیا جانے والا استحکام کا بیانیہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان ایک ذمہ دار ریاستی نظام قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کے برعکس، انہوں نے ریاستی ڈھانچے کو ایک نظریاتی سمت دے دی ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف شدت پسند گروہوں کو جگہ ملی بلکہ افغانستان عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار ہو گیا۔ اس پورے عمل کا سب سے بڑا بوجھ عام افغان شہری اٹھا رہا ہے جو بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری اور غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔
Afghanistan’s Economy and Human Crisis
افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی ایک اہم اور حساس مسئلہ بن چکی ہے۔ یہ معاملہ محض پاکستان کی سیکیورٹی تک محدود نہیں بلکہ افغانستان کے اپنے قومی مفاد سے بھی جڑا ہوا ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں جاری ہیں جس کے نتیجے میں سرحدی کشیدگی بڑھتی ہے اور بارڈر بند ہونے جیسے اقدامات سامنے آتے ہیں۔ اس کا براہ راست اثر تجارت پر پڑتا ہے جس سے افغانستان کی پہلے سے کمزور معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔ یوں ہر سرحدی تنازع اور ہر حملہ دراصل افغان عوام کے لیے معاشی مشکلات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان نظریاتی قربت نے خطے میں استحکام کے بجائے کشیدگی کو فروغ دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ اقتصادی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں اور افغانستان کی سفارتی تنہائی میں اضافہ ہوا۔ یہ صورتحال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ موجودہ پالیسیوں کا رخ قومی مفاد کے بجائے ایک محدود نظریاتی دائرے https://tazzakhabren.com/teach-the-young-men-to-walk/تک محدود ہے۔
Afghanistan’s Economy and Human Crisis
طالبان حکومت کو ایک اور بنیادی چیلنج عوامی حمایت کی کمی کا ہے۔ ان کا نظام حکمرانی عوامیرضامندی یا جمہوری اصولوں پر مبنی نہیں بلکہ ایک مرکزی قیادت کے فیصلوں پر قائم ہے۔ اختلاف رائے کو برداشت نہ کرنا اور اصلاح کی آوازوں کو دبانا اس نظام کی ساختی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان ایک واضح فاصلہ موجود ہے۔ معاشی صورتحال پر نظر ڈالیں تو تصویر مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ اگرچہ کچھ اعداد و شمار معاشی بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آبادی میں تیزی سے اضافہ اور وسائل کی کمی کے باعث فی کس آمدنی کم ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجموعی معیشت میں معمولی اضافہ بھی عام شہری کی زندگی میں بہتری نہیں لا پا رہا۔ بے روزگاری، مہنگائی، خشک سالی، مہاجرین کی واپسی اور بین الاقوامی امداد میں کمی جیسے عوامل نے حالات کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔
Afghanistan’s Economy and Human Crisisغربت اور انسانی بحران بھی اپنی شدت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ایک بڑی آبادی بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہے اور بیرونی امداد پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ریاستی ڈھانچہ ابھی تک خود کفیل نہیں بن سکا اور بنیادی خدمات کی فراہمی کے لیے بھی بیرونی وسائل پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
خواتین کے حوالے سے عائد کی جانے والی پابندیاں بھی ایک سنگین مسئلہ ہیں۔ تعلیم اور روزگار سے محرومی نے نہ صرف خواتین کو متاثر کیا ہے بلکہ مجموعی معیشت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ جب آبادی کا ایک بڑا حصہ معاشی سرگرمیوں سے باہر ہو جائے تو ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔ اس کے علاوہ صحت اور امدادی شعبوں میں خواتین کی محدود شرکت نے انسانی بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو افغانستان میں موجودہ صورتحال ایک ہمہ جہت بحران کی تصویر پیش کرتی ہے جہاں سیکیورٹی، معیشت اور انسانی فلاح کے مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب تک پالیسیوں میں توازن، شمولیت اور عملی اصلاحات نہیں لائی جاتیں اس بحران سے نکلنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ افغانستان کے عوام کے لیے پائیدار استحکام اسی وقت ممکن ہے جب حکمرانی کا نظام عوامی ضروریات اور زمینی حقائق کے مطابق ڈھالا جائے۔https://ur.wikipedia.org/wiki/افغانستان

