26th November, Black day in Pti History:تاریخ کا سیاہ دن

26th November, Black day in Pti History تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا

پوری انسانی تاریخ میں، کئی قابل ذکر قوتوں نے رات کی تاریکی میں دشمن پر حملہ کیا,
فارسیوں کے خلاف تھرموپلائی کی جنگ: 480 قبل مسیح میں زرکشیز اور اسپارٹا کی قیادت میں یونانی شہر ریاستوں کے اتحاد کے درمیان لڑی گئی۔ سپارٹنوں نے رات کو فارس کے بادشاہ زرکشز کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ سپارٹن بادشاہ کو تلاش کرنے سے قاصر تھے، لیکن انہوں نے ان تمام لوگوں کو مار ڈالا جو ان کے راستے میں کھڑے تھے۔ مقابلہ شروع رات سے اگلے دن تک جاری رہا۔ اسپارٹن فاتح تھے، ذبح شدہ دشمن ڈھیروں کے درمیان گر رہے تھے۔

26th November, Black day in Pti History:تاریخ کا سیاہ دن

دوسری جنگ عظیم: جاپانی قوم رات کی جنگ میں ماہر تھی،سوویت یونین کے ساتھ تصادم کی توقع میں جن کے ٹینکوں،طیاروںاور توپ خانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی،جاپانیوں نے بھاری دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے؛ سرخ کتابیں؛ کے نام سے تربیتی کتابچے شائع کیے جن میں رات، شام اور فجر کے وقت حملہ کرنے کے فوائد پر زور دیا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران محوری طاقتیں خاص طور پر فضائی کاروائیوں میں اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن کے خلاف اچانک حملے شروع کر دیے

دوسری جنگ عظیم کے بعد 1986 میں الفا کی پہلی جنگ: ایران عراق جنگ کے آخری مراحل میں داخل ہو چکے تھے ایرانیوں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے والے عناصر میں ایک؛ڈگ ان انفینٹری؛کا استعمال تھا جو صرف رات کے وقت حرکت کرتی تھی،ایرانی فوج کو جنگ سے قبل رات کی جنگ کی تربیت دی گئی۔

26th November, Black day in Pti History:تاریخ کا سیاہ دن

اسلامی تاریخ میں خالد بن ولید کے ماتحت مسلم افواج رات کے وقت دشمن پر حملہ کرنے بارے مشہور ہیں خاص طور پر جنگ زومیل جیسی لڑائیاں جہاں میسوپوٹیمیا میں 633 عیسوی میں مسلمانوں نے ساسانی سلطنت کی وفادار عیسائی عرب افواج پر تین مختلف اطراف سے حملہ کیا،عیسائی عرب افواج مسلمانوں کے حیرت انگیز حملہ کا مقابلہ نہ کر سکیں جلد منتشر ہو گئیں زومیل کی اس جنگ میں پوری عیسائی افواج کو خالد بن ولید کے دستوں نے ذبح کر دیا۔
زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ابھی کل کی بات ہے،1965کاسال ستمبر کی 6 تاریخ، بزدل اور کمزور دشمن بھارت نے رات کی تاریکی کا سہارا لے کر پاکستان پر حملہ کر دیا۔

ہم سے تعزیت کرو لوگو،بچھڑنے والا بڑا قریبی تھا،لٹا سکو تم بھی جاں تو آؤ
کہ ہم سوئے کربلا چلے ہیں،وہ راستہ حق کا راستہ ہے،جدھر ہم اہل وفا چلے ہیں

درج بالا تمام حوالہ جات اس بات کی دلیل ہیں کہ اندھیرے کی آڑ میں متعدد اطراف حملہ، دشمن کیخلاف اسٹر ٹیجک فوائد حاصل کرنے میں کارگر ثابت ہوتا ہے لیکن اب کہ المیہ یہ ہوا کہ مقابل میں نہ دشمن تھا اور نہ مقبوضہ علاقے،26 نومبر دلوں پر ایک اور داغ چھوڑ گیا

رفو گروں نے شکم کی خاطر وطن کی چادر کو چھید ڈالا

کہ ہم لٹیروں سے بچ کہ نکلے،تو پھر لٹیروں کی زد میں آئے

ہماری آنکھوں کا مسئلہ بھی نظام شمسی سے کم نہیں ہے

جو خواب محور سے ہٹ کے دیکھے تو سب اندھیروں کی زد میں آئے

پاکستان مکان اک بن گیا اے ،اتے سعد وسدے روندے چور ہیٹھا ں
اک نواں حسا ب میں ویکھیا اے ،رین سینکڑ ے اتے تے کروڑ ہیٹھا ں
لوکی چن تے پونچ کے آ گے نے ،تے اسی گے زمین دے توڑ ہیٹھا ں
پج پج کے وکھیاں چور ہویاں ،پون چوں کے ویکھیاکھوتی بوڑ ہیٹھا ں (استاد دامن )

Leave a Comment