“11 February,When History Whispered Change”ماضی کی گونج,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
تاریخ ریت پر لکھی وہ صدا ہے جو مٹتی نہیں،وقت کے طوفان بھی جسے خاموش نہیں کر سکتے
اس میں بادشاہوں کے خواب بھی دفن ہیں،اور مظلوموں کی آہیں بھی امر ہو چکی ہیں
تاریخ وقت کی عدالت ہے، جہاں ہر سلطنت، ہر حکمران اور ہر قوم کو اپنا حساب دینا پڑتا ہے
یہ صرف گزرے ہوئے دنوں کی کہانی نہیں، بلکہ آنے والے زمانوں کے لیے انتباہ ہے
(ماضی کی گونج)ہندستان میں 11 فروری کو پہلی بار اخبارات کی اشاعت شروع ہوئی
دہلی میں اردو صحافت کی تاریخ کم و بیش پونے دو سو سال پرانی ہے۔ دلی کا پہلا اردو اخبار ۱۸۳۶ء میں”دہلی اردو اخبار“کے نام سے جاری ہوا۔ جس کے مدیر مولوی محمدباقر تھے۔

صحافت کی تاریخ کو اور پیچھے کی طرف لے جانا چاہیں تو یہ سلسلہ عہد اشوک تک پھیلا ہوا ہے۔ مگر عوامی صحافت کا عہد طباعت کی ترقی کے عہد سے وابستہ ہے۔ یہ دن بھارتی میڈیا کی تاریخ میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

(ماضی کی گونج)مارگریٹ تھیچر برطانیہ11 فروری1975 میں کنزرویٹو پارٹی کی لیڈر منتخب ہوئیں
مارگریٹ ہلڈا تھیچر برطانیہ کی معروف سیاست دان اور وزیر اعظم تھیں۔ 1975ء میں جماعت کی سربراہ منتخب ہوئیں۔ مئی 1979ء میں جماعت کی فتح کے بعد وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئیں۔ اور 1990ء تک اس عہدے پر فائز رہیں۔ اور وہ کسی بھی برطانوی سیاسی پارٹی کی پہلی خاتون سربراہ بنیں

(ماضی کی گونج) مغل بادشاہ جہانگیر 11 فروری1613 کوایسٹ انڈیا کمپنی کو سورت میں کارخانہ لگانے کی اجازت دی
آج ہی کے دن، 11 جنوری 1613 کو شہنشاہ جہانگیر نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے ایسٹ انڈیا کمپنی کو سورت میں تجارتی مراکز (فیکٹریاں) قائم کرنے کی اجازت دی۔ لیکن سورت میں فیکٹری کی باقاعده تعمیر 1615 میں تھامس ایلڈ ورتھ کی زیرِ نگرانی تب ہی ممکن ہو سکی جب سر تھامس رو نے جہانگیر سے تجارتی لائسنس حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ اگلے سو سال اور چند دہائیوں میں یہی ایسٹ انڈیا کمپنی برصغیر میں اپنے قدم جمانا شروع کر دے گی۔
| مختصر وضاحت | پہلو |
|---|---|
| ماضی کے واقعات کا ریکارڈ | تاریخ |
| عروج و زوال سے سیکھنے کا ذریعہ | سبق |
| حال کی رہنمائی، مستقبل کی سمت | اہمیت |
| طاقت عارضی، انجام مستقل | پیغام |

(ماضی کی گونج)نیلسن منڈیلا کی رہائی (1990)
وہ 11 فروری 1990 کا دن تھا۔مقامی وقت کے مطابق شام چار بج کر 12 منٹ پر نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کی ’وکٹر ورسٹر جیل‘ سے اپنی اُس وقت کی اہلیہ وینی کا ہاتھ تھامے 27 برس کی قید کاٹنے کے بعد جیل سے باہر نکلے تھے۔حکومت نے قید کے دوران اس امید کے ساتھ اُن کی کوئی تصویر جیل سے باہر نہیں نکلنے دی تھی کہ اُن کی سزا کے بعد انھیں ملنے والی مقبولیت کو دبایا جا سکے اور لوگوں کے ذہنوں سے ان کی شبیہ کو محو کیا جا سکے۔
ان تمام تر اقدامات کے باوجود سزا ملنے کے بعد وہ نسلی امتیاز برتنے والی ریاست کے خلاف ایک مزاحمت کی علامت بن گئے تھے جو جنوبی افریقہ کی سیاہ فام آبادی پر ظلم کرتی تھی۔ سنہ 1990 تک انھیں تقریباً ایک افسانوی مقام مل چکا تھا۔یوں نسل پرستی کے خلاف لڑنے والے نیلسن منڈیلا 27 سال قید کے بعد 11 فروری 1990 کو رہا ہوئے

(ماضی کی گونج)ایران میں اسلامی انقلاب 11 فروری 1979 کو ایران میں شاہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا
روح اللہ خمینی ایران کے پہلے رہبرِ معظم 1979 سے 1989 تک ,آیت اللہ روح اللہ خمینی ایران کے عظیم مذہبی رہنما اور سیاست دان تھے، جنہوں نے 1979 سے 1989 (وفات) تک ایران کے پہلے رہبرِ معظم کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی اور انقلابِ ایران کے روحِ رواں تھے، جس نے محمد رضا شاہ پہلوی کی شہنشاہیت کا تختہ الٹ کر ملک میں اسلامی نظام قائم کیا۔ نظریاتی طور پر آپ کا تعلق شیعہ مکتبِ فکر سے تھا اور آپ کے سیاسی و مذہبی افکار کو “خمینیت” کے نام سے جانا جاتا ہے

مقبول بٹ کی شہادت 11 فروری (ماضی کی گونج)1984
کشمیر کی آزادی کے لیے لڑنے والے رہنما مقبول بٹ کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔پاکستان اور آزاد کشمیر میں 11 فروری کو کشمیری رہنما مقبول بٹ کی برسی کے طور پر منایا جاتا ہے، یہ دن تحریک آزادی کشمیر میں قربانیاں دینے والوں کی یاد اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں منایا جاتا ہے۔

(ماضی کی گونج) مغل بادشاہ جہانگیر 11 فروری1613 کوایسٹ انڈیا کمپنی کو سورت میں کارخانہ لگانے کی اجازت دی
آج ہی کے دن، 11 جنوری 1613 کو شہنشاہ جہانگیر نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے ایسٹ انڈیا کمپنی کو سورت میں تجارتی مراکز (فیکٹریاں) قائم کرنے کی اجازت دی۔ لیکن سورت میں فیکٹری کی باقاعده تعمیر 1615 میں تھامس ایلڈ ورتھ کی زیرِ نگرانی تب ہی ممکن ہو سکی جب سر تھامس رو نے جہانگیر سے تجارتی لائسنس حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ اگلے سو سال اور چند دہائیوں میں یہی ایسٹ انڈیا کمپنی برصغیر میں اپنے قدم جمانا شروع کر دے گی۔

(ماضی کی گونج)سابق وزیراعظم لال بہادر شاستری کا11 فروری1966 کو تاشقند میں انتقال
بھارت کے دوسرے وزیر اعظم لال بہادر شاستری کا انتقال 11 جنوری 1966ء کی رات تاشقند، سوویت یونین (موجودہ ازبکستان) میں ہوا۔ وہ پاکستان کے صدر ایوب خان کے ساتھ ‘تاشقند معاہدے’ پر دستخط کرنے کے محض چند گھنٹے بعد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔ ان کی موت کو لے کر کئی سازشی نظریات بھی پیش کیے جاتے ہیں۔

(ماضی کی گونج)عاصمہ جہانگیر، 11 فروری 2018معروف پاکستانی وکیل کا یوم وفات
1987 میں عاصمہ جہانگیر نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی مشترکہ بنیاد رکھی اور اس کے سیکرٹری جنرل بنیں 1993 میں انھیں کمیشن کی چیئرپرسن کے طور پر ترقی دی گئی۔نومبر 2007 میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد انھیں دوبارہ گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ وکلا تحریک کے رہنماوں میں سے ایک کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد، وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر کے طور پر خدمات انجام دینے والی پاکستان کی پہلی خاتون بن گئیںانھیں 90 دن کے لیے نظر بندرکھا گیا، محترمہ عاصمہ جہانگیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ جنرل مشرف نے ‘اپنا سنگ مرمر کھو دیا’۔عاصمہ جہانگیر 66 برس کی عمر میں اتوار 11 فروری 2018ء کو دل کی دھڑکن کے رک جانے کی وجہ سے لاہور میں انتقال کر گئیں۔

(ماضی کی گونج)جاپان کا قومی دن 11 فروری
جاپان کا قومی دن، جسے “یومِ تاسیسِ ریاست” کہا جاتا ہے، ہر سال 11 فروری کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن 660 قبل مسیح میں جاپان کے پہلے شہنشاہ، جمو کی تاجپوشی کی روایتی تاریخ کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ روایات کے مطابق، 660 قبل مسیح میں پہلے شہنشاہ جمو نے تخت سنبھالا۔ یہ ایک سرکاری تعطیل کا دن ہے، جس میں پرچم لہرائے جاتے ہیں اور مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ یہ دن جاپان کی قدیم ثقافت اور شہنشاہی روایات سے ان کی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے