,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے,UNGA 80th Session: A Crucial Moment for Global Diplomacyعالمی منظرنامے کی تشکیل کا فیصلہ کن مرحلہ
1945میں چھ بنیادی مراکز کے ساتھ اقوام متحدہ کا ادارہ تشکیل دیا گیا نمبر1: جنرل اسمبلی جس کا سالانہ اجلاس ستمبر میں ہوتا ہے اس میں سبھی رکن ممالک اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہیں 2 سلامتی کونسل جس میں ویٹو رکھنے والے پانچ ارکان کے علاوہ دس غیر مستقل ارکان شامل ہیں 3: معاشی اور سماجی کونسل4: عالمی عدالت انصاف5: اقوام متحدہ کا نیویارک میں صدر دفتر جس کا سربراہ سیکرٹری جنرل ہوتا ہے۶: اور ٹرسٹی شپ کونسل،ان چھ کے چھ اداروں کی بنیاد میں تاریخ کا یہ شعور کارفرما تھا کہ کوئی بھی ملک اپنی اندرونی سیاست، بیرونی جارحیت، سماجی تبدیلیوں کو نا سمجھ پانے اور کسی معاشی کمزوری کی بنا پر دنیا کے امن کے لیے خطرہ ثابت نہ ہو نے پائے،اقوام متحدہ کی قوت نافذہ امریکہ کے پاس ہے جو چین کے علاوہ اقوام متحدہ کے اخراجات اٹھانے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
امریکہ اسی ادارے کے ذریعے دنیا بھر میں محدورد تنازعات پیدا کر کے اپنے اسلحہ ساز کارخانوں کے پیٹ کا ایندھن پورا کر رہا تھا،اس نظام کی خاصیت یہ تھی کہ یہ کسی بھی تصادم کو حدود میں رکھتا تھا اس نظام نے شمالی اور جنوبی کوریا کی جنگ ایک خاص جگہ پر روک دی،پاک بھارت جنگوں پر حد نافذ کی،افریکی ممالک میں کئی تنازعات کو ہوا دی لیکن آگ کو بڑھکنے سے روکے رکھا،اسرائیل فلسطین کا مسئلہ الجھائے رکھا لیکن اسے خلیج فارس تک نہیں پھیلنے دیا،اسرائیل کو ہر ممکن مدد فراہم کی لیکن عرب ممالک کو اس کی لو سے بچائے رکھا لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیا ہوا کہ اسرائیل نے امریکی اڈوں کی موجودگی کے باوجود قطر پر حملہ کر کے امریکہ کی عالمی حیثیت کو کمزور کر دیا، روس اور یوکرین کی جنگ امریکہ کی ہر کوشش کے باوجود ختم نہیں ہو رہی،وہی اقوام متحدہ جہاں امریکی طاقت کے فیصلے حرف آخر سمجھے جاتے تھے جہاں اسرائیل کے خلاف پیش ہونے والی قراردادیں بار بار نیٹو ہوتیں رہیں اسی عمارت کی دیواریں فلسطین کے حمایت میں علم ِحق بلند کر رہی ہیں،
درج ذیل سطور اطمینان کا باعث ہیں کہ جلد یا بدیر ہی سہی غزہ کے حق میں عالمی ضمیر نے کروٹ تو لی وہیں دنیا اخبار کے نمائیندہ حسن رضا جو اس کانفرنس کی کوریج کے لیے خود وہاں موجود تھے بقول انکے؛اس سارے تاریخی منظر کے پیچ پاکستان کا طرز عمل شرمندہ کر دینے والا تھا،سپیکر کی فہرست میں پاکستان کا نام شامل نہیں تھا،پاکستان جو ہمیشہ فلسطین کے مقدمے کا وکیل رہا اس موقع پر مکمل طور پر غائب تھا
نائب وزیراعظم قبلہ محترم اسحاق ڈار بار بار کوریڈورز میں آتے جاتے دکھائی دیے،کبھی ایک دروازے سے نکلتے اور دوسرے میں داخل ہوتے،ٹیم بھی ان کے نقش قدم پر قدم سے قدم ملا رہی تھی کسی کے ہاتھ میں موبائل تو کسی کے ہاتھ میں پانی کی بوتل لایعنی نقل و حرکت،نہ کسی کے ہاتھ میں کوئی ایجنڈہ،نا تقریر اور نا ہی ملاقات کا شیڈول،بے مقصد چہل قدمی اس بات کا ادراق تھا کہ اپنی جگہ تلاش کر رہے ہیں،کانفرنس اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکی تھی کہ50 رکنی وفد کے ہمراہ وزیر اعظم شہبار شریف کا طیارہ نیویارک کی سرزمین پر اترا،دنیا تاریخ کے پتھر پر اپنی گزارشات کنندہ کر رہی تھی اور ہمارے نمائیندے باہر غلام گردشوں میں گھوم پھر رہے تھے اس منظر نے وہاں موجود غیر ملکی صحافیوں کو ششدر کر دیا ہر لب پر سوال تھا کہ پاکستان جو ہمیشہ فلسطین کا حامی رہا ہے اس موقع پر خاموش کیوں ہے؟کیا یہ محض انتظامی کوتاہی تھی یا کسی پالیسی کا حصہ لیکن جواب ندادر!
اس موقع پر شہباز شریف کا بیان آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہے موصوف فرماتے ہیں کہ؛قیام امن میں امریکہ صدر کا کردار کلیدی ہے،ڈونلڈ ٹرمپ امن کے داعی ہیں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے انکا شکریہ ادا کرتے ہیں؛ عالمی اجلاس کے اختتام پر وزیر اعظم شہباز شریف کی نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ہمراہ امریکی صدر کے ساتھ 36سیکنڈ کی ملاقات دن بھر ملکی اخبارات کا پیٹ بھرتی رہی،مقام شکر ہے کہ ملاقات کا دورانیہ اگر 37 سیکنڈ ہوتا تو تقسیم میں برابری نا رہتی، اب تو پھر 18,18سیکنڈدونوں کو مل گئے ہیں،ٹرمپ تیرا انصاف زندہ باد
| تفصیل | عنوان |
|---|---|
| اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی | ادارے کا نام |
| 1945 | قیام |
| سالانہ اجلاس | اجلاس کی نوعیت |
| نیویارک، امریکہ | مقام |
| 193 ممالک | رکن ممالک |
| عالمی امن، سلامتی، انسانی حقوق اور ترقی پر غور | مقصد |
| عالمی رہنما، سربراہانِ مملکت، وزرائے خارجہ | شرکت |
| عالمی مسائل پر مشترکہ فیصلے اور قراردادیں | اہمیت |

