Site icon tazzakhabren.com

Traitor”Et tu, Brute?” This literally means “And you, Brutus?”وفادار رفعتیں پاتے ہیں جبکہ بے وفائی، خیانت اورغداری کی گٹھری طعن و ملامت سے بوجھل رہتی ہے

Traitor"Et tu, Brute?" This literally means "And you, Brutus?"وفادار رفعتیں پاتے ہیں جبکہ بے وفائی، خیانت اورغداری کی گٹھری طعن و ملامت سے بوجھل رہتی ہے

Traitor”Et tu, Brute?” This literally means “And you, Brutus?”وفادار رفعتیں پاتے ہیں جبکہ بے وفائی، خیانت اورغداری کی گٹھری طعن و ملامت سے بوجھل رہتی ہے,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

انسانی تاریخ حیران کن کرداروں سے بھری پڑی ہے انسانی جبلت ہزاروں سالوں میں ذرا بھی تبدیل نہیں ہوئی لہذا نتائج بھی وہی نکلتے ہیں جو ہزاروں سال پہلے نکلے تھے،وقت کے فرعونوں کے آگے سر جھکانے سے بہتر سر کٹانے کے اس سفر میں وفادار رفعتیں پاتے ہیں جبکہ بے وفائی، خیانت اورغداری کی گٹھری طعن و ملامت سے بوجھل رہتی ہے،چند مثالیں  

چودہ سو سال پہلے اہل کوفہ کی دعوت پر حضرت امام حسین ؓنے مسلم بن عقیل کو حالات کا جائزہ لینے کے لیے کوفہ روانہ کیا،یزید بن معاویہ کی جانب سے گورنر کی تبدیلی کی دیر تھی کہ کوفہ والے اپنے عہد سے پھر گئے، غریب ِ کوفہ کو سزا کے طور پر؛دارالامارتہ؛کی چھت سے نیچے گراکر شہید کر دیا گیاسر کاٹ کر یزید کو دمشق بھجوا دیا جبکہ جسم کو کوفہ کے قصابوں کے بازار میں دار پر لٹکا دیا تاکہ آئیندہ کوفہ کے لوگ بنو ہاشم کی حمایت نا کریں،اسی غداری نے چار دن بعد کربلا کی زمین کواہل بیعت کے خون سے سیراب کیا(شاہ ہست حسین،بادشاہ ہست حسین)

 44 قبل مسیح مملکتِ روما کے سب سے طاقت ور حکمران؛جولیس سیزر؛نے گال کو فتح کر نے کا جو کارنامہ سر انجام دیا باقی جرنیل یا حکمران اس کے بارے میں صرف سوچ ہی سکتے تھے جولیس کے عروج سے خوفزدہ ہو کروسط مارچ، سینیٹ کے اجلاس کے دوران اسکے اپنے قریبی دوست بروٹس نے ساتھی سینٹروں کے ساتھ مل کر اسے قتل کر دیا خون میں لت پت جولیس سیزر کے منہ سے یہ تاریخی الفاظ نکلے؛بروٹس تم بھی؛۔

 شیر میسور ٹیپو سلطان برطانوی سامراج کے خلاف مضبوط مزاحمت کی علامت تھے میسور کی آخری جنگ کے دوران جب سرنگا پٹم کی ٹیم کی شکست یقینی ہو چکی تھی سلطان نے انگریز فوج کو قلعہ بند کر دیا لیکن غدار ساتھیوں جن کا سربراہ؛ میر صادق؛ تھا نے قلعہ کا دروازہ کھول دیا بارود کے ڈھیر کو آگ لگ جانے سے مزاحمت کمزور پر گئی ٹیپوسلطان کو شہید کر دیا گیا اس موقع پر ایک فرانسیسی سپاہی نے ٹیپو سلطان کو بھاگ جانے کا مشورہ دیا جس پر سلطان نے یہ تاریخی الفاظ ادا کیے؛شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے؛  

بنگال کا نواب بننا میر جعفر کا خواب تھا شاطر انگریز نے اس کفیت کو بھانپ لیا بنگال کی راجدھانی کے وعدے کے عو ض میر جعفر نے پلاسی کی جنگ کے دوران سراج الدولہ کو انگریزوں کے حوالے کر دیا سراج الدولہ کی شکست اور اسکے نتیجے میں پھانسی کے بعد میر جعفر کو اس غداری کا انعام تخت کی صورت میں ملا۔آنے والے وقتوں میں میر جعفر کے ہزاردواری محل کو؛نمک حرام دیوڑی؛کا نام دیا گیا،میر جعفر کی بیوہ جب پنشن کے لیے دفتر جاتی تو آواز پڑتی؛غدار حاضر ہو؛

پاکستانی ریاست نے حب الوطنی اور غداری کے ایسے معیارات بنا رکھے ہیں جو وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں مادر ملّت اپنے بھائی کی زندگی میں محب وطن تھیں لیکن جب ڈکٹیٹر ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑا تو بھارتی ایجنٹ کہلائی لیکن تاریخ نے واضح کیا کہ اصل غدار مولانا بھاشانی تھے جنہوں نے ایوب خان سے 40 لاکھ لیکر مادر ملت کا سودا کر لیا شیخ مجیب نے ڈھاکہ،چٹاکانگ سے فاطمہ جناح کو جتوا دیا جبکہ بھاشانی نے اپنے زیر اثر علاقوں میں انتخابی مہم کو ٹھنڈا کر دیا بعد میں مولانا بھاشانی نے تسلیم کیا کہ میں نے چو این لائی کی درخواست پر ایوب خان کی مدد کی تھی(بحوالہ داستان خواندہ میاں محمود علی قصوری)

پاکستان کے سیاسی اور انتظامی منظرنامے میں اس خبر کے ساتھ کہ عمران خان کی ہدایت پر خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے استعفیٰ کا اعلان کیا ہے، بھونچال کی کیفیت برپا ہے نئے وزیر اعلیٰ کے لیے سہیل آفریدی کا نام سننے میں آرہا ہے۔جماعت کے اندرونی اختلافات،انتظامی امور، تنظیم سازی،گورنس کی نا کامی،صوبے میں امن و امان کی ناقص صورتحال اور سب سے بڑھ کروکٹ کے دونوں جانب کھیلنے کی کرشمہ ساز صلاحیت،کارکنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر پر اسرار گمشدگی اور بارہ اضلاع کی خاک،خان صاحب کی رہائی کے معاملے میں قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے، علیمہ خانم پر سنگین قسم کے الزامات گنڈا پور کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئے۔قرب ِ قیامت کی نشانی، سہیل آفریدی نے ابھی اعتماد کا ووت لیا نہیں کہ وفاقی وزیر نے نیام سے سارے تیر نکال بھی لیے ہیں فرما رہے تھے کہ؛پاکستان کی سکیورٹی پالیسی اسلام آباد میں بنتی ہے کابل میں نہیں؛ 

احمد فراز کا شعر۔۔۔۔آشنا ہاتھ ہی اکثر میری جانب لپکا،میرے سینے میں سدا اپنا ہی خنجر اترا  

Exit mobile version