“The Story of Pakistan”پاکستان کی کہانی ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
مغل سلطنت کی تخت و تاج سے محرومی اور 1857 کی جنگ آزادی میں شکست کے بعد مسلمانان ہند
کے سامنے کسی واضح منزل کا نقشہ نہ تھا،سر سید احمد خان کا دیا شعور،علامہ اقبال کے دکھائے گئے خواب کو محمد علی جناح نے تعبیر میں بدل دیا دو صدیوں کے عظیم لیڈر قائد اعظم نے پاکستان کا مقدمہ اس جانفشانی سے لڑا کہ جان کے لالے پڑ گئے بطور گورنر جنرل سارے وسائل انکی دسترس میں تھے لیکن نہ تو علاج کے لیے ملک سے باہر گئے اور نہ ہی ریڈیو پاکستان پر دعائیہ کلمات کی تشہیر کی۔ برطانوی سامراج کے ہندوستان سے انخلاء کے بعد قائم ہونے والی مملکتِ خداداد؛پاکستان؛ کو بہت سے تکلیف دہ دستوری تجربات سے گزرنا پڑا،جمہوری،نیم جمہوری،فوجی،نیم فوجی آمریتوں اور مارشل لاؤں کے تابع حکومتوں نے پاکستان کو اپنے اپنے تجربات کی بھٹی میں جھونکے رکھا ،مقتدرہ حلقے خود تو کندن بن گئے جبکہ عوام بیچاری بھٹی کا ایندھن ہی بنتی رہی۔قدرت کی طرف سے عطا ہونے والے بیش بہا خزانوں، ترقی کے لاتعداد میسر مواقعوں کے باوجود کوتاہ پستیاں،عالمی تنہائی اور مجروع ہوتی عزت نفس ہمارے مقدر میں لکھی جا چکی ہے تو اس گناہ میں شامل تمام ہوس پرست طالع آزما، بدعنوان کند ذہن سیاستدان، سازشی موقع پرست افسر شاہی، دست کش نا انصاف منصف قرار واقعی سزا کے مستحق ہیں۔ پاکستان کراچی سے شروع ہو کر خنجراب تک جاتا ہے اس کے ایک کونے میں زاہدان ہے تو دوسرے کونے میں خشک چشمہ، پاکستان کی کہانی ان درخشندہ روایتوں کی امین ہے،
“The Story of Pakistan”پاکستان کی کہانی
اگست1945 کو دوسری جنگ عظیم میں جاپان نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں (برطانیہ، یورپی ممالک) کے سامنے شکست تسلیم کی تھی، اتحادی اس دن کو یوم فتح کے طور پر مناتے تھے،ہندوستان کا آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن چاہتا تھا کہ بھارت اور پاکستان بھی 15 اگست یوم فتح کے طور پر منائیں اس تجویز پربھارت رضا مند ہو گیا لیکن قائد اعظم نے یہ کہ کر انکار کر دیا ہم کسی کی تکلیف کے دن آزادی کا جشن نہیں منا سکتے جاپان آج بھی امریکہ کو اس جنگ میں ناکامی پر تاوان ادا کرتا ہے پاکستان کا اس تاوان میں چھٹا حصہ تھا قائد اعظم نے جاپان کو اپنا تاوان بھی معاف کر دیا پاکستان نے جاپان کی نقد امداد بھی کی جاپانی آج تک اس احسان کو نہیں بھولے ہم نے 1950میں جرمنی کو 5 کروڑ قرض دیا،پولینڈ کے متاثرین کو امداد فراہم کی، ماؤزے تنگ کو ذاتی استعمال کے لیے جہاز فراہم کیا،ہم نے الجزائر مراکو تیونس کی آزادی میں مرکزی کردار ادا کیا،استنبول میں پہلا بوئنگ طیارہ اتارا،شاہ ایران ہر دوسرے مہینے پاکستان کا دورہ کرتے اور ہماری ترقی کو حیرت کی نگاہ سے دیکھتے،چین اور امریکہ (رچرڈ نکسن اور ہنری کسنجر کا پہلا دورہ چین)کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے والا بھی پاکستان ہی تھا، سعودی عرب میں 1970تک ذکوٰۃ پاکستان سے جاتی تھی، فلسطین کے حق میں گونجنے والی پہلی آواز بھی پاکستان کی تھی
| واقعہ | دور / سال |
|---|---|
| قراردادِ پاکستان منظور، علیحدہ وطن کا مطالبہ | 1940 |
| قیامِ پاکستان، آزادی اور ہجرت کا عظیم مرحلہ | 1947 |
| پاکستان کا پہلا آئین نافذ | 1956 |
| صدارتی آئین اور سیاسی تبدیلیاں | 1962 |
| سقوطِ ڈھاکا، مشرقی پاکستان کی علیحدگی | 1971 |
| متفقہ آئینِ پاکستان کی منظوری | 1973 |
| سیاسی، معاشی اور آئینی جدوجہد | آج |
“The Story of Pakistan”پاکستان کی کہانی
ہم دنیا کی واحد اسلامک نیوکلئیر پاور، چوتھی بڑی اور منظم فوج، انسانی آبادی کاپانچواں بڑا ملک،6 ٹریلین ڈالر کاپر اور سونے کے ذخائر،30 بلند چوٹیاں، دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام،ہمارے پاس ریکوڈیک اور سینڈک جیسی معدنیات کا خزانہ ہے،دنیا کا بہترین نمک خدا نے ہمیں تحفہ میں دیا ہے،تین صوبوں میں تیل اور گیس کے ذخائر ہیں 1100کلومیٹر لمبی ساحلی پٹی بھی ہماری قسمت کے بند تالے نا کھول سکی،تین غیر الہامی مذاہب بدھ مت، ہندو مت اور سکھ ازم کی جائے پیدائش ہمارا ملک ہے،ان مذاہب کے پیروکاروں کے لیے راستے کھول کر ہم اربوں ڈالر کا زر مبادلہ کما سکتے ہیں،زراعت کا پوٹینشل40 بلین ڈالر سالانہ سے زائد ہے

1000کلومیٹر کی کوسٹل لائن جس پر ہم کراچی جیسے تین نئے شہر کھڑے کر سکتے ہیں اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود ہم دنیا کے چوکوں چوراہوں پر کشکول لیے کھڑے ہیں اور دنیا ہمیں نفرت اور غرور سے دیکھ رہی ہے 40 چھوٹے بڑے دریا ہیں اور ہم پانی کو ترس رہے ہیں UAE کی ترقی میں پاکستان کا اہم کردار ہے دنیا کی چوتھی بہترین ایئرلائن ایمریٹس کا کوڈ EK ہے K کراچی سے ماخوذ ہے سنگاپور ایئر لائن اور پورٹ پاکستان نے بنائیں ملائیشیا اور انڈونیشیا کی اشرافیہ کے بچے پاکستان میں تعلیم حاصل کرتے تھے ملائیشیا کا آئین پاکستانی وکلا نے لکھا۔پاکستان کی کہانی سیاست کے بغیر ادھوری ہے،ملک کا سر چشمہ عوام اور قانون کا سرچشمہ ملک کا آئین ہوتا ہے وطن عزیز میں دو مرتبہ آئین بنائے گئے پہلا1956جبکہ دوسرا 17سال بعد 1973میں، 1958,77,99آئین شکنی کے سال تھے جس نے پاکستان کی مانگ میں دو لختی، دہشت گردی اور آمریت کے موتی پروئے16اکتوبرپاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کوقتل کر دیا گیا

دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین انتہائی شریف النفس انسان اور کمزور ترین سیاستدان تھے انکی وزارتِ عظمیٰ سے برطرفی کا واقع انتہائی دلچسپ ہے گورنر جنرل غلام محمد نے انہیں پیغام بھیجا کہ کسی دن تشریف لائیں چائے پیتے ہیں خواجہ صاحب تیار ہو کر خوشی خوشی گورنر ہاؤس پہنچے ابھی چائے کا آدھا کپ ہی پیا تھا کہ غلام محمد نے کہا خواجہ صاحب آپ کو وزارت عظمی ٰ سے برطرف کیا جاتا ہے بعد میں ان پر سمگلنگ روکنے اور غذائی بحران پر قابو پانے میں ناکامی کا الزام عائد کیا گیا،پاکستان کے تیسرے وزیر اعظم غلام محمد بوگرہ گورنر جنرل کے اختیارات کم کرنے کی خواہش میں مبتلا ہوئے ہی تھے کہ غلام محمد نے ان کا فارمولہ انہی پر پلٹ دیا اور انہیں وزارت عظمیٰ کے عہدے سے علیحدہ کر دیا گیا اب باری آتی ہے پاکستان کے چوتھے وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کی جن کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا نہایت قابل وکیل اور زیرک سیاستدان،مغربی پاکستان کی اشرافیہ اور افسر شاہی ان سے نالاں تھی، اسکندر مرزا کے عتاب کا نشانہ بنے اور عہدے سے ہٹا دیے گئے

ایوب خان نے 1958 میں آئین منسوخ کر کے مارشل لا لگایا تو حسین شہید کی برطرفی کو ایک سال کا عرصہ گزر چکا تھا ایوب خان نےایبڈو کے تحت نا صرف انہیں نا اہل کیا بلکہ ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رکھا مایوس ہو کر حسین شہید بیروت چلے گئے۔جنرل ضیا نے ذولفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کر کے ملک میں مارشل لا لگا دیا اور خود کو امیر المومنین مقرر کر دیا اپنے پیش رو جنرل ایوب کی طرحٖ آئین کو منسوخ تو نہ کیا لیکن معطل کر دیا ضیا نے آٹھویں اور مشرف نے17 ویں آئینی ترمیم کو بطور ہتھیار استعمال کیا (جیسے آجکل 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کالے ناگ کا زہر نکال دیا گیا ہے) محمد خان جونیجو کو آئین کے آرٹیکل58(2B) کے تحت برطرف کیا گیا ان کا جرم صرف اتنا تھا کہ انہوں نے جنرل ضیا کی منشا کے بغیر جنیوا معاہدے پر دستخط کر کے افغانستان کی جنگ بندی کی کوشش کی تھی 58(2B) کی دو دھاری تلوار سے صدر اسحاق خان نے پہلے بینظیر اور پھر نواز شریف کے تخت کا تاج اڑایا پہلی خاتون وزیر اعظم نے اوجڑی کیمپ حادثے کی تحقیقات کا اعلان کرنے کی جسارت کی تھی پھر قوم نے باریوں کی سیاست کا مزہ بھی چکھا، عمران خان کا ساڑھے تین سالہ دور اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہوا PDM ون اور ٹو کے کرتب قوم کو ازبر ہیں 8 فروری کا الیکشن ہمارے زخموں پر پھاہا تو نہ رکھ سکا الٹا ان زخموں میں پیپ پڑ گئی اور مسلسل خون رس رہا ہے،

جاتے جاتے احمد ندیم قاسی یاد آئے۔۔
خدا کرے میری ارض پاک پہ اترے وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے کھلا رہے صدیوں یہاں سے خزاں کو گزرنےکی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے ہمیشہ سبز رہے وہ ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوج و کمال کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے میرے ایک بھی ہم وطن کے لیے حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو