The Legacy of Fatima Jinnah – Mother of the Nationقوم کی ماں (فاطمہ جناح), ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
سنبل کی طرح نرم، رعد کی طرح گرم، بانی پاکستان کی نشانی، ایک حصار جس کی قربت سے حشمت کا احساس ہوتا ہو اور جس کی دوری سے عقیدت نشونما پاتی ہے، بھائی شہنشاہ بہن بے پناہ(آغا شورش کاشمیری) 9 جولائی کو محترمہ فاطمہ جناح کو ہم سے بچھڑےستاون سال ہو جائیں گے۔زندہ قومیں اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں، مادر ملتّ کی یاد میں آئیے ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے ان پر اپنی عقیدتوں کے پھول نچھاور کریں۔
The Legacy of Fatima Jinnahقوم کی ماں (فاطمہ جناح)
کراچی کے نیو نہام روڈ پر واقع ایک عمارت میں 30 جولائی 1893 کو جناح بائی پونجا اور مٹھی بائی کے ہاں ساتویں بچے(لڑکی) نے جنم لیا،ایسی بچی جو آنے والے دور کی مکتی نیتا کہلائی،جس نے وقت کے آمر کے سامنے کلمہ حق بلند کیا اور جمہوریت کے پرچم کو اپنے ناتواں کندھوں کے سہارے بڑی مضبوطی سے تھامے رکھا۔بانی پاکستان سے 17برس چھوٹی فاطمہ جب 2 برس کی ہوئیں تو بھائی بندے علی کی پیدائش کے وقت ان کی والدہ مٹھی بائی انتقال کر گئیں، اب ننھی فاطمہ کی تربیت و پرورش کی تمام ذمہ داری بڑی بہن مریم کے کندھوں پر آگئی،اس زمانے کے رواج کے مطابق دینی تعلیم کا انتظام گھر پر ہی کیا گیا، 1902 میں والد کے انتقال کے بعد فاطمہ جناح کے تعلیمی معاملات کو دیکھتے ہوئے قائد اعظم نے آپ کا داخلہ باندرہ کا نونٹ اسکول میں کروا دیا،اس زمانے میں مسلمان بچیوں کے لیے انگریزی تعلیم کا تصور ناممکنات میں شامل تھا،1906میں سینٹ پیٹرک اسکول کھنڈوالر میں داخل ہوئیں اور یہیں سے میٹرک کا امتحان اعزازی نمبروں سے پاس کیا، 1913 میں سینئر کیمرج کا امتحان پاس کیا، 1919میں ہندوستان کے واحدعلی محمد ڈینٹل کالج میں داخل ہوئیں یہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے فوری بعد بمبئی کی عبد الرحمان سٹریٹ میں اپنے ڈینٹل کلینک کا آغاز کیاجہاں آپ ضرورتمند مریضوں کا مفت علاج کرتیں،20فروری 1929۱ کو قائد اعظم کی اہلیہ رتی بائی کا انتقال ہوا تو آپ نے اپنی زندگی قائد کی خدمت اور تحریک پاکستان کے لیے وقف کر دی، کلینک کو بند کر دیا گیا
آپ نے قائد اعظم کی سربراہی میں ملک گیر دورے کیے،مادر ملّت نے 1937میں پہلے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں شرکت کی جو لکھنؤ میں منعقد ہوا،1938 میں بمبئی میں صوبائی مسلم لیگ کی رکنیت حاصل کی،1939میں آل انڈیا مسلم لیگ کی رکن بنیں،تحریک پاکستا ن کے ابتدائی ایام میں قائد نے خواتین سے رابطے کی ذمہ دار ی فاطمہ جناح کو سونپ دی،کسی بھی لالچ سے بے نیاز فاطمہ جناح نے برصغیر کی سیاست میں ایک نیا باب رقم کیا،آپ نے خواتین میں آزادی کی ایک نئی روح پھونک دی، آپ نے اپنے دوپٹے کو پرچم بنایا اور مردوں کے شانہ بشانہ میدان عمل میں اتریں، 1947کے بعد مہاجرین کی آبادکاری کے سلسلے میں آپ کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں،آپ لٹے پٹے مہاجرین کی خود مرہم پٹی کرتیں، کھانے پینے کے سامان کو اپنی نگرانی میں مہاجر کیمپوں میں پہنچاتیں،آپ سیاسی بصیرت میں قائد اعظم کی حقیقی جانشین ثابت ہوئیں، قائد اعظم نے اپنے سیکرٹری کرنل برنی سے اپنی بہن کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ؛وہ اپنی بہن کی سالہاسال کی خدمات اور مسلمان خواتین کے لیے ان کی انتھک جدوجہد کی وجہ سے ان کے انتہائی مقروض ہیں۔مادر ملّت قائد اعظم کے ہمراہ 19سال رہیں یعنی 1929سے 1948۱تک اور قائد کی وفات کے بعد بھی اتنا ہی عرصہ زندہ رہیں یعنی1946 سے 1967تک۔
لیکن دوسرے دور میں فاطمہ جناح کی شخصیت اور افکارو کردار اس طرح نکھر کر سامنے آئے کہ عصری سیاست پر انکی ذہنی گرفت ناقابل یقین حد تک مکمل اور مضبوط تھی۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد اپنے پہلے ریڈیو خطاب میں فاطمہ جناح نے اس عزم کا ارادہ کیا کہ جس طرح وہ قائد کی زندگی میں قوم کی خدمت کر رہی تھیں انکے بعد بھی خدمت کا سفر اسی طرح جاری رہے گا،آپ جمہوریت کی قائل تھیں جن کی تربیت قائد نے کی ہو وہ کیسے گوارا کر لیتیں کہ لیاقت علی خاں کے قتل کے بعد انگریز نواز نوکر شاہی اقتدار پر قبضہ کر کے جمہوریت کے خلاف سازش کریں
آپ نے ایوب خان کی فوجی آمریت کے خلاف میدان میں نکلنے کا ارادہ کیا اور جمہوریت کو ایک نئی زندگی دی،کونسل مسلم لیگ فاطمہ جناح (لالٹین کے انتخابی نشان)کو ایوب خان(پھول کے انتخابی نشان) کے مقابلے میں اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیا،دو اور امیدوار بھی میدان میں اترے،یہ براہ راست انتخاب نہیں تھا، BD80,000 ممبران کا انتخاب ہونا تھا،اور پھر ان BD ممبران نے صدارتی امیدوار کا انتخاب کرنا تھا، عوامی لیگ کے شیخ مجیب الرحمان،کنونشن مسلم لیگ کے ممتاز دولتانہ، جماعت اسلامی کے ابو اعلی مودودی،نیشنل عوامی پارٹی کے خان عبد الولی خان جیسے جیدّسیاستدانوں نے اپنے ذاتی اختلافات اور پارٹی کے مفادات سے اوپر اٹھ کے قائد اعظم کی بہن کا ساتھ دیا،مغربی پاکستان میں حکومت کی پوری کوشش رہی کہ مادر ملتّ الیکشن ہار جائیں،دھن، دھونس، دھاندلی سے ممبران خریدے جا رہے تھے،مغربی پاکستان کے گورنر ملک امیر محمد خان اور اس وقت کے کراچی کے کمشنر روئیداد خان (حالیہ انتقال ہوا ہے)نے پوری سرکاری مشینری استعمال کی لیکن پھر بھی کراچی سے مادر ملت جیت گئیں مولانا بھاشانی بھی اسی چمک کا شکار ہو گئے،بظاہر فاطمہ جناح کیساتھ لیکن درپردہ ایوب خان کی حمایت کی،ادھر مشرقی پاکستان میں فاطمہ جناح کو مکمل سپورٹ حاصل تھی، شیخ مجیب مادر ملت کے پولنگ ایجنٹ تھے، مشرقی پاکستان کے گورنر عبد المنعم خان نے بھی ایوب خان کی کامیابی کے لیے ہر ہربہ استعمال کیا لیکن ڈھاکہ اور چٹاکانگ کی اکثریتی ڈویژنوں میں لالٹین نے میدان مار لیا۔ہفتے کے دن انتخاب ہوئے جنوری کی 2تاریخ کو (اتوار) اخباریں اس سرخی کے ساتھ چھپیں کہ فیلڈ ماشل ایوب خان بھاری اکثریت سے الیکشن جیت گئے ہیں۔ایوب خان کی اس جیت نے ملک کو وہ زخم لگائے جن سے ابھی تک خون رس رہا ہے،عوام کے مینڈیٹ کا احترام نا کیا گیاجس سے ملک میں سیاسی بحران نے جنم لیا
قائد کے بعد جس شخصیت کو سب سے زیادہ عزت و احترام سے نوازا گیا، قوم نے جن کو مادر ملت کا خطاب دیا راتوں رات غدار وطن،بھارتی ایجنٹ، امریکی پٹھو جیسے ناموں سے پکاری گئیں ا،اخبارات میں انکی کردار کشی کی گئی، مادر ملت کی ہار پر سینئر صحافی مجید نظامی نے تحریر کیاکہ آج ایوب خان نے اپنے زوال کی پہلی اینٹ رکھ دی ہے،مادر ملت نے 1965 کے انتخاب کے موقع پر فرمایا؛ایوب خان فوجی معاملات کا ماہر تو ہو سکتا ہے لیکن سیاسی فہم و فراست میں نے قائد سے براہ راست حاصل کی ہے اور یہ ایسا سفینہ ہے جس میں آمر مطلق نا بلد ہے۔ شرمناک تاریخ کا تسلسل ابھی جاری ہے ۴ جنوری کو ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب نے اپنے والد کی فتح کا جشن منانے کا فیصلہ کیا،جلوس میں مسلح جتھے ہوائی فائرنگ کرتے آگے بڑھ رہے تھے فائرنگ کا رخ مہاجروں کی ان بستیوں کی طرف تھا جنہوں نے فاظمہ جناح کو ووٹ دیا تھا، 30 سے زائد لوگ مارے گئے،کراچی کی گلیوں میں خون کی ہولی کھیلی گئی یوں سیاسی اختلاف کو نسلی اور لسانی اختلاف میں بدلا گیا،جس کی سزا کراچی آج تک بھگت رہا ہے۔۸ اور ۹ کی درمیانی شب فاطمہ جناح سابق وزیر اعلیٰ حیدر آباد دکن لائق علی کی صاحبزادی کی شادی سے شرکت کے بعد گھر واپس تشریف لائیں، گھریلو ملازم نے کھانے کا پوچھا فاطمہ جناح نے کھانے کا انکار کیا،کچھ پھل کھائے اور بالائی چھت پر سونے کے لیے تشریف لے گئیں،مادر ملت کا اصول تھا کہ وہ روز صبح چابیاں نیچے پھینکتی تاکہ ملازم کمروں کے دروازے کھول سکیں لیکن اس دن ایسا نہ ہوا، اب وقت اجل آ پہنچا ہے حق و صداقت کی آواز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی،۹ جولائی کوجب سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ان کا جسد خاکی قصر فاطمہ سے پولو گراؤنڈپہنچا تو عوام کا ایک سیلاب امڈ آیا،12 بج کر35 منٹ پر ایچ خورشید اور ایم۔کے۔ایچ اصفہانی نے لرزتے ہاتھوں کے ساتھ آپ کی میت کو لحد میں اتارا،اس وقت تک لوگوں کی تعداد 6 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔
وصیت کے مطابق آپکی قبر قائد اعظم کے مزار کے احاطہ میں سردار عبد الرب نشتر اور لیاقت علی کی قبروں کے درمیان اور قائد کی قبر سے 120فٹ کے فاصلے پر ہے۔
اب رہیں گے چین سے بیقرار زمانے والے،سو گئے خواب سے لوگوں کو جگانے والے
مر کے بھی مرتے ہیں کب مادر ملت کی طرح، شمع تاریک فضاؤں میں جلانے والے
| اہم واقعہ | نمایاں کردار / خدمات | اثرات / نتائج | عرصہ / سال |
|---|---|---|---|
| کراچی میں پیدائش | ابتدائی تعلیم اور خاندانی تربیت | سیاسی شعور اور خدمتِ خلق کے جذبے کی بنیاد | 1893 |
| ڈینٹل سرجری کی تعلیم مکمل | برصغیر کی اولین خواتین دندان سازوں میں شامل | خواتین کی تعلیم و پیشہ ورانہ کردار کے لیے مثال قائم | 1919 |
| قائداعظم کے ساتھ سیاسی جدوجہد | مسلم لیگ کی سرگرم رکن، مشیر و ساتھی | تحریکِ پاکستان کو مضبوط بنانے میں اہم کردار | 1930–1947 |
| عوامی خدمت اور سیاست میں سرگرمی | آئینی حقوق کی آواز، 1965 کے انتخابات میں حصہ لیا | فاطمہ جناح بطور “مدر آف دی نیشن” ابھریں، جمہوریت کی علامت بنیں | 1948–1967 |

