Site icon tazzakhabren.com

The Illusion of Economic Takeoff اعدادوشمار کا گورکھ دھندا اورمعیشت کی اڑان

The Illusion of Economic Takeoff اعدادوشمار کا گورکھ دھندا اورمعیشت کی اڑان

The Illusion of Economic Takeoff اعدادوشمار کا گورکھ دھندا اورمعیشت کی اڑان,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

معیشت کی اڑان‘ کے دعوے لیکن حقیقت کیا ہے,جانیے 
گذشتہ کئی مہینوں سے حکومتی وزرا کا دعویٰ رہا ہے کہ ملک اقتصادی طور پر مستحکم ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں اور روپے کی قدر برقرار ہے۔وزیراعظم شہباز شریف  کے  دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ شاید مستقبل میں پاکستان کو کبھی آئی ایم ایف کا دروازہ نہیں کھٹکھٹانا پڑے گا، ساتھ ساتھ اسلام آباد کا سات ارب ڈالر قرض کا معاہدہ ابھی جاری ہے
لیکن اقتصادی ماہرین  کی نظر  میں حقائق کیا ہیں؟ 
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستانی معیشت کے ڈیفالٹ کا خطرہ ٹلنے کے بعد مہنگائی کم ہوئی ہے اور بظاہر اقتصادی اعداد و شمار یا خسارے وغیرہ میں بھی کمی آئی ہے  تاہم اقتصادی استحکام کے باوجود عام لوگوں یا کاروباروں کی حالت نمایاں بہتری نہیں آئی , مہنگائی میں کمی یا افراطِ زر کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ قیمتیں کم ہوئی ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اشیا کی قیمتیں بڑھنے کی رفتار کم ہوئی ہے۔ ایسے میں آمدن نہ بڑھنے سے لوگوں کی قوتِ خِرید سکڑ چکی ہے۔
پبلک پالیسی کے ماہر خاقان نجیب کے مطابق آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہونے کے سبب مائیکرو اکنامک استحکام یعنی خساروں میں کچھ کمی ضرور ہوئی ہے لیکن یہ اقتصادی استحکام ’خوشحالی نہیں لا سکتا۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اقتصادی ترقی حاصل کرنے کے لیے جو ماڈل بنایا گیا ہے ’وہی صحیح نہیں کیونکہ صرف ٹیکس کی شرح بڑھانے سے آمدن نہیں بڑھے گی بلکہ اُس کا دائرہ کار بڑھانا ہو گا۔اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام نے عوام کو غربت میں دھکیل دیا ہے اور غربت اور بے روزگاری نے افرادی قوت کی صلاحیت کو کم کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہیومن ڈوپلیمنٹ انڈیکس کے مطابق عوام کو ملنے والی معیارِ زندگی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے 193 ممالک کی فہرست میں 168 ویں نمبر پر ہے۔اس انڈیکس کے تحت پاکستانی عوام کی معیار زندگی یا ترقی جنوبی ایشیائی ممالک میں صرف افغانستان سے بہتر ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں افغانستان پاکستان سے پیچھے ہے اور فہرست میں باقی سب افریقی ممالک پاکستان سے نیچے ہیں۔

پاکستان کے ہر شہری پر کتنا قرض ہے؟رپورٹ 

ہر پاکستانی شہری پرقرضے کابوجھ گزشتہ مالی سال کے دوران 13 فیصد اضافے کے بعد 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک پہنچ گیا، یہ انکشاف وزارتِ خزانہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی سالانہ فِسکل پالیسی اسٹیٹمنٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں فی کس قرضہ 2 لاکھ 94 ہزار 98 روپے تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے ہوگیا۔مالی سال 2024-25 میں سرکاری قرضہ 80.5 کھرب تک پہنچ گیا، وزارت خزانہ

اس طرح ایک سال کے دوران ہر پاکستانی پر قرضے میں تقریباً 39 ہزار روپے کا اضافہ ہوا، یہ حساب ملک کی 24 کروڑ 15 لاکھ آبادی کو مدِنظر رکھ کر لگایا گیا ہے۔

ڈیوس میں ’ورلڈ اکنامک فورم‘ کے دوران پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان زراعت، صنعت، کان کنی، مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں ’اڑان بھرنے والا ہے‘
پاکستان زراعت میں تو اڑان بھر بھی  چکا ہے …….. آلو کی جو بوری پیچھلے سال 5ہزار کی تھی اس سال13سو کی بک رہی ہے۔کسان رہنما خالدحسین باٹھ
پاکستان صنعت: وزیراعظم کی ڈیووس میں کی گئی تقریر سے چند روز قبل ہی وفاقی چیمبر آف کامرس کے صدر ایس ایم تنویر نے کہا تھا کہ ’پچھلے ڈیڑھ سے دو سال میں 140 سے 150 بڑے ٹیکسٹائل یونٹ بند ہو گئے ہیں، یہ یونٹس بڑے پیمانے پر ملازمتیں دیتے تھے۔ زیادہ کاروباری لاگت کے سبب ایس ایم ای یونٹس (یعنی چھوٹی صنعتیں) کباڑ خانے میں تبدیل ہو گئیں اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر زمین بوس ہو گیا۔ وزیراعظم سے اپیل ہے کہ جلد فیصلے کریں۔‘
Exit mobile version