The Funeral of Innocence تتلیوں کے پنکھوں پررکھ دیئے گئے پتھر،اے خدا تو گم ہے کہاں؟,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
بارود کی بو کا نوحہ تو ہم اکثر سنتے آئے ہیں اب کہ میں نوحہ لکھ رہی ہوں ہوس کا، اس درندگی کا جو میرے بام و در میں اتر آئی ہے، نوحہ ان معصوم تتلیوں کا جن کے نا زک پروں کو جنگل کے بھیڑیے نوچ گئے،نوحہ ہے ان گدِھوں کا جو گوشت کے لوتھڑوں پر جھپٹ پڑتے ہیں، ماتم ہے ان درندوں کا جو پنک بسیں دیکھتے ہی چیر پھاڑ پر اتر آتے ہیں
؛تیری میری کی ہندی اے،دھی تے سب دی دھی ہندی اے؛
The Funeral of Innocence
خبر: 22 جون بروز پیر سرگودھا میں سات سالہ بچی دوکان سے سامان لینے گئی،سیلز بوائے نے زیادتی کے بعد چھری سے گلا کاٹ کر قتل کر دیا………تتلیوں کے پنکھوں پررکھ دیئے گئے پتھر،اے خدا تو گم ہے کہاں؟ملزم کے بقول میں نے بچی کو بتایا جو چیز تم نے لینی ہے وہ اوپر پڑی ہے،وہاں میں نے ریپ کی کوشش کی شور مچانے پر میں نے بچی کا گلا چھری سے کاٹ دیا۔ملزم کا ارادہ تھا کہ رات پڑنے پر بچی کی لاش ٹھکانے لگا دے گا(ایک نہنی کلی جو بن کھلے مرجھا گئی)
کبھی کبھی ایک خبر صرف خبر نہیں رہتی بلکہ پورے عہد کا نوحہ بن جاتی ہے،سنا ہے کہ پولیس حرکت میں ہے گرفتاریاں ہو رہی ہیں،شواہد بولیں گے،عدالتیں قلم گھسیٹیں گی،قانون اپنا رستہ بنائے گا،ٹی وی چینلز چیخیں گے،سیاستدان بیانات داغیں گے، میڈیا بھی ماتم میں شریک ہو گا مگر پھر وقت اپنی گرد ان سب پر ڈال دے گا،مگر ایک ماں کی گود پر وقت اپنی گرد کبھی نہیں ڈالتا جہاں ہر صبح ایک سوال جنم لیتا ہے اور ہر رات ایک قبر آنکھوں میں اتر آتی ہے،اس ماں کی ساری زندگی آندھیوں کے بھنور میں پھنسی رہتی ہے……………………………………تتلیوں کے پنکھوں پررکھ دیئے گئے پتھر،اے خدا تو گم ہے کہاں؟وقت اس باپ پر اپنی گرد کبھی نہیں ڈالتا جو اپنی بیٹی کا جنازہ اٹھاتاہے،دراصل وہ کندھا دے رہا ہوتا ہے اپنے ناکردہ گناہوں،معاشرتی نا انصافیوں اور ہر روز بے موت مرنے کو
سینئر سیٹزنز کو یاد ہو گا (1977)جنرل ضیا کے دورِحکومت میں 12سالہ اعجازعرف پپو کو ان کے اپنے ڈرائیور نے پانچ ساتھیوں کی مدد سے اغوا، زیادتی اور پھر قتل کر دیا اس گھناؤنے جرم کی فوری تحقیقات کے بعد ملزمان پر ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلایا گیا تین ماہ کے قلیل عرصہ میں جرم ثابت ہونے پر فوجی عدالت نے 1978میں مرکزی مجرموں کو سزائے موت اور دیگر کوسخت سزا سنائی،ملکی تاریخ میں پہلی بار مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے اور عبرت کا نشان بنانے کی خاطر23 مارچ1978 کو لاہور کی کیمپ جیل کے باہر چوبرچی کے مقام پر تینوں مجرموں کو سرعامِ پھانسی دی گئی یہ پھانسی مشہور جلاد تارا مسیح نے دی اسکے بعد آنے والے پندرہ سالوں میں کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں ہوئی
The Funeral of Innocence
دنیا کی تاریخ کے سیاہ اورا ق میں بچوں کے ساتھ ہونے والی جرائم دہ سطریں ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں ان سطروں سے ٹپکنے والا لہو پوری انسانیت کے چہر ے سرخ پر نشان چھوڑ جاتا ہے۔وہ معاشرہ جو اپنی بیٹیوں کو محفوظ نہ رکھ سکے وہ اپنی روح کھو دیتا ہے،روح کے بغیر جسم اور انصاف کے بغیر معاشرہ اخلاق انسانیت اور تہذیب کے لیے سوہانِ روح ہے https://ur.wikipedia.org/wiki/بچوں_کا_جنسی_استحصال
The Funeral of Innocence
تتلیوں کے پنکھوں پررکھ دیئے گئے پتھر،اے خدا تو گم ہے کہاں؟
ریشمی لباسوں کو چیرتے ہیں کچھ خنجر،اے خدا تو گم ہے کہاں؟
کیا ریت چل پڑی ہے کیا آگ جل رہی ہے،کیوں چیختا ہے سرمئی دھواں؟
پنکھڑی کی بیٹی ہے کنکروں پہ لیٹی ہے،بارشیں ہیں تیزاب کی
نہ یہ اٹھ کے چلتی ہے نہ چتا میں جلتی ہے،لاش ہے یہ کس خواب کی

