Site icon tazzakhabren.com

Terrorist Prince Imran Khan:آج ایک اوردہشتگرد شہزادہ اڈیالہ کا مکین ہے

Terrorist Prince Imran Khan:آج ایک اوردہشتگرد شہزادہ اڈیالہ کا مکین ہے

Terrorist Prince Imran Khan:آج ایک اوردہشتگرد شہزادہ اڈیالہ کا مکین ہے,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
 راجہ انور کی کتاب؛دہشتگرد شہزادہ؛زیر  ِمطالعہ ہے۔ راجہ انورراولپنڈی کا ایک سرگرم طالب رہنما،جامعہ پنجاب میں جہانگیر بدر اور جاوید ہاشمی کی طرح پیپلز پارٹی کا جیالا، ذوالفقار علی بھٹو کے ابتدائی دور کا ساتھی،پیپلز پارٹی کی بنیادوں میں انکی محنت،لگن،جوش اور رہنمائی شامل ہے بھٹو حکومت میں بطور مشیر خدمات بھی انجام دیتے رہے ضیائی مارشل لا دور میں پرویز رشید،قاضی انور کے ساتھ مل کر النصرت تنظیم بنائی جس کے مظاہروں میں 8 جیالوں نے خودسوزی کی،جیالوں کا خون بھی بھٹو کی زندگی کی کھیتی کو سیراب نہ کر سکا،بھٹو دار پر جھول گیا،خاندان کا شیرازہ بکھرا،دونوں بیٹے انتقام کی آگ میں جلتے کابل میں روس نوازڈاکٹر نجیب اللہ کی گود میں پناہ لینے پر مجبور ہو ئے، بھٹو صاحب کی پھانسی قتل تھی جس میں امریکہ سے جنرل ضیا تک اور وکلاء سے جج تک سب کے ہاتھ رنگے ہیں۔ذوالفقار بھٹو تیسری دنیا کے ایک طلسماتی لیڈر بن کر ابھرے،اسلامی بم سے اسلا می سربراہی کانفرنس جیسے انقلابی اقدامات ہوں یا؛اسٹیٹس کو؛ کے قلعوں کو عوامی طاقت سے پاش پاش کرنا ہو سب بھٹو کی بصیرت کا فیض تھا، لیکن طاقت کے آگے کہاں کوئی ٹھہرا ہے77 کی عسکری آندھی بھٹو کے خیمے اکھاڑ کر لے گئی۔میجر طارق رحیم بھٹو صاحب کے اے۔ڈی۔سی تھے،1974 میں قبائلی علاقے میں جلسہ گاہ پر دھماکہ ہو گیا،طارق رحیم اس موقع پر بھٹو صاحب کو دھکہ دے کر ان پر لیٹ گئے وہ خود زخمی ہو گئے لیکن بھٹو صاحب محفوظ رہے اس واقع کے بعد بھٹو صاحب ان کا اور زیادہ خیال رکھنے لگے۔

الیکشن سے قبل بھٹو صاحب نے اپنے سٹاف کو بلایا او ر پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ حالات بتا رہے ہیں کہ شائد میں کچھ دن تک وزیر اعظم نہ رہوں اگر آپ کہیں اور اپنا تبادلہ کروانا چاہتے ہیں تو بتا دیں بھٹو صاحب میجر طارق رحیم کی خواہش سے آشنا تھے کہ وہ فارن آفس جانا چاہتے ہیں،لیکن سٹاف نے یہ کہہ کر بھٹو صاحب کو انکار کر دیا کہ سر ان حالات میں ہم آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ جنرل ضیا نے مارشل لا لگا دیا 5 جنوری 1977کوبھٹو کو گرفتار کر کے مری ریسٹ ہاؤس میں نظر بند کیا تو کچھ دن بعد جنرل صاحب بھٹو کو ملنے کے لیے مری آئے اور پیشکش کی کہ اگر کچھ نا مکمل کام آپ مکمل کرنا چاہتے ہیں تو بتا دیں اگرچہ یہ ملاقات اچھی ثابت نہیں ہوئی پھر بھی بھٹو صاحب نے درخواست کی کہ طارق رحیم اور اے۔ڈی۔سی خالد کو فارن سروس میں پوسٹ کر دیں جنرل ضیا نے فورا حامی بھر لی اور اگلے ہی دن دونوں کو فارن آفس پوسٹ کر دیا گیا۔

بھٹو کے عدالتی قتل کا بدلہ لینے کے لیے میر مرتضیٰ بھٹو نے اپنے چھوٹے بھائی شاہنواز بھٹو کے ساتھ مل کر کابل میں؛الذوالفقار؛کی بنیاد رکھی،مارچ 1981 میں اسلام اللہ ٹیپو کی سربراہی میں پی آئی اے کا جہاز ہائی جیک کر کے کابل لے جایا جاتا ہے میجر طارق رحیم اس وقت تہران کے سفارت خانے میں تعینات تھے اور بدقسمتی سے اسی جہاز میں سوار تھے جس کو الذوالفقار نے ہائی جیک کیا تھا میجر طارق رحیم نے جہاز سے مرتضیٰ بھٹو کو خط بھی لکھا اور اسے اپنا پرانا تعلق یاد کروایا لیکن اس کے باوجود6 مارچ کواسلام ٹیپو نے طارق رحیم کو گولی مار کراسکی نعش جہاز سے نیچے پھینک دی اس منظر کو پوری دنیا نے ٹی وی کی سکرینوں پر دیکھا،بھٹو صاحب کا محسن اور بیگناہ شخص اس اندھی نفرت کا نشانہ بن گیا جس کا بیج ریاست نے میرمرتضیٰ بھٹو کے دماغ میں بویاتھا۔آکسفورڈ کا فارغ التحصیل، شہزادوں جیسی زندگی گزارنے والا میر مرتضیٰ کب مزاحمت کا استعارہ بن گیا، بغاوت،دہشت گردی اور قتل جیسے کئی مقدمات میں مطلوب ٹھہرا،ریاست نے اسے دہشتگرد قرار تو دے دیا لیکن دہشتگرد ثابت کرنے میں ناکام رہی،یہی دہشت گرد شہزادہ الیکشن لڑ کر منتخب ہو کر اسمبلی پہنچا او ر  1996 کی کسی اداس شام ایک اندھی گولی کا نشانہ بن کرریاست کے سینے میں ٹھنڈ ڈال گیا۔راجہ انور کی کتاب ایک ایسے شہزادے کی کہانی ہے جس کا نام تو بدلتا رہتا ہے لیکن اسکا کردار وہی رہتا ہے کبھی یہ شہزادہ اعظم ہوتی ہوتا ہے تو کبھی اجمل خٹک

Terrorist Prince Imran Khan:آج ایک اوردہشتگرد شہزادہ اڈیالہ کا مکین ہے

آج ایک اوردہشتگرد شہزادہ اڈیالہ کا مکین ہے جب پوری حکومتی مشینری چیف مارشل کے سامنے گھٹنوں تک آ کر قصیدہ خوانی میں مصروف ہے اس دہشت گرد شہزادے کا بیا ن کہ؛ چیف مارشل بادشاہ سلامت ہی بن جاتے کیونکہ ملک میں جنگل کا قانون ہے؛ اپنے اندر بہت سے معنے سموئے ہوئے ہے۔ ہر دور میں ریاست کی پالیسیوں کے خلاف کوئی نہ کوئی دہشت گرد شہزادہ جنم لیتا ہے ریاست کو ان پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہو گی جو پہلے خود دہشت گرد شہزادے پیدا کرتی ہے اور پھر انکی سرکوبی کے لیے ساری ریاست ہی داؤ پر لگا دیتی ہے۔ 

اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے,کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے

تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے,تو یہ جواب ہے میرا مِرے عدو کے لیے

کہ مجھکو حرصِ کرم ہے نہ خوفِ خمیازہ,اسے ہے سطوتِ شمشیر پہ گھمنڈ بہت

Exit mobile version