Manmohan Singh گاہ” کا موہنا” ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
26 ستمبر 1932کو امرت کور اورگورمکھ سنگھ کوہلی کے ہاں ایک بالک کا جنم ہوا،جنم بھومی ضلع جہلم کی تحصیل چکوال کا گاؤں؛گاہ؛ جہاں کے پرائمری اسکول میں انکا ریکارڈ ابھی تک موجود ہے،ننھے سردار کا نام منموہن سنگھ رکھا گیا جوگاؤں میں موہنے کے نام سے بلایا جاتا،کم عمری میں موہنے کی ماتا سدیویں وچھوڑا دے گئیں تو دادی جمنا دیوی نے نکے سردار کی دیکھ ریکھ کی،میٹرک پشاور کے خالصہ اسکول سے کیا،47 کے دنگوں میں سردارگورمکھ سنگھ جہلم چھوڑ کر بھارت (امرتسر)منتقل ہو گئے جہاں سردار منموہن سنگھ نے پنجاب یونیورسٹی ہشیارپورسے گریجویشن اور1954 میں اکنامکس میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری لی،کیمبرج یونیورسٹی سے PHD اور آکسفورڈ سے ڈی فل کیا،پنجاب یونیورسٹی اوردہلی اسکول آف اکنامکس میں معاشیات کے استاد رہے،اسی دوران اقوام متحدہ میں ترقی اور تجارت کے مشیر مقرر ہوئے،جنیوا میں ساؤتھ کمیشن کے سیکرٹری رہے،1971 میں کامرس اینڈانڈسٹری کی وزارت میں اقتصادی مشیر مقرر ہوئے1972 میں بھارت کی وزارتِ خزانہ میں اقتصادی مشیر کی خدمات انجام دیتے رہے،ریزرو بنک آف انڈیا کے گورنر،1991 کے چناؤ میں آسام سے راجیہ سبھا کے نیتابنے،6سال تک بھارت کے خزانہ منتری رہے
ان چھ سالوں میں دھیمے مزاج اور شرمیلے سباؤ(طبیعت) والے ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بھارت کی معاشی کایا پلٹ کر رکھ دی،بھارت دنیا کی دوسری تیز ترین معیشت بن کر ابھرا،آج کا ہندوستان ترقی اور معاشی استحکام کی جس منزل کو چھو رہا ہے اس سب کے پیچھے ڈاکٹر منموہن سنگھ کا وژن ہے۔1992کا سال تھا، پاکستان اور بھارت کے اکاؤنٹ میں دو،دو ارب ڈالر کے ریزرو پڑے تھے ڈاکٹر منموہن سنگھ اسی روزپردھان منتری نرسیما راؤ سے ملے اس تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت اتنا بڑا ملک ہے جبکہ ریزرو دونوں ملکوں کے برابر ہیں،اس موقع پر ڈاکٹر منموہن سنگھ نے وزیر اعظم کو انڈیا کا 20 سال پر مشتمل معاشی پلان پیش کیا،خزانہ منتری نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن رہنماؤں کے ان دستاویزات پر دستخط بھی کروائے جائیں کہ حکومت چاہے کوئی بھی ہو کم از کم بیس سال تک انہی معاشی خطوط پر چلنا ہو گا اس بات کو 32 برس بیت گئے بھارت آج بھی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے بنائے ہوئے معاشی راستوں پر چل رہا ہے 1998 سے 2004 تک راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر رہے2004 میں کانگرس کی جیت کے باوجود جب سونیا گاندھی نے اچانک وزیر اعظم بننے سے انکار کیا تو منموہن سنگھ کانگرس کے پدَ پر پردھان منتری بنے،ان کی زندگی پر Accidental Prime Minister کے نام سے فلم بھی بنی2009 میں اقتدار کا ہمّا پھر سر پر بیٹھا،1958میں شادی کے پھیرے لیے،گرشرن کور دھرم پتنی بنیں،اکال پرکھ نے تین بیٹیوں سے نوازا،2009 اور2021 میں؛گاہ؛ کا موہنا پاکستان توضرور آیا لیکن گاہ اس کا رستہ تکتا رہا،موہنا کرتارپور ماتھا ٹیک کر واپس بھارت چلا گیا۔مشاہد حسین سید کے مطابق دہلی میں ایک ملاقات کے دوران انہوں نے پنجابی میں منموہن سنگھ سے کہا؛ہن دل وڈا کرو؛اس وقت کے وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین نے بھی درخواست کی کہ؛ہون وقت آ گیا اے کوئی ایگریمنٹ کریے،تسی وی اگے ودھو؛جس پر منموہن سنگھ نے ہنستے ہوئے جواب دیا؛تسی مینوں مروادینا اے؛ مشرقی پنجاب کے سابق خزانہ منتری منپریت بادل نے اپنے حالیہ مضمون میں لکھا ہے ایک مرتبہ میں نے منموہن جی سے کہا آپ بطور وزیر اعظم پاکستان جائیں تو آپ کا بھرپور سواگت کیا جائے گا جس پر ان کا جواب تھا؛یاداں بڑیاں تلخ نیں؛
منموہن سنگھ کی بیٹی دامن سنگھ اپنے ماتا پتا پر لکھی گئی کتاب میں لکھتی ہیں جب انکی بہن نے اباّ سے؛گاہ؛ جانے کے بارے میں سوال کیا تو منموہن سنگھ نے کہا ہر گز نہیں اس جگہ میرے دادا کو قتل کیا گیا تھا۔ موہنا خود تو؛گاہ؛ سے نکل آیا لیکن؛گاہ؛ تمام عمر دل سے نہ نکل سکا،موہنے کی یادوں میں بسی دھول مٹی سے اٹی؛ گاہ؛ کی تاریک گلیاں اب موہنے کی طرف سے لگوائے گئے برقی بلبوں سے روشن ہیں۔مٹی کی محبت کبھی پنڈ کی مساجد میں گیزر لگوانے پر مجبور کرتی تو کبھی عقیدت کی چنگاریاں 90 کروڑ کے ترقیاتی کام(بنیادی مرکز صحت، ویٹنری ڈسپنسری، ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ)شروع کرواتی،یہاں سے ہماری سرکاروں کا کمال شروع ہوتا ہے،تمام مراکز بن تو گئے لیکن آج تک آپریشنل نہ ہو سکے۔
ات سرکاروں کی چل ہی نکلی ہے تو کیوں نہ کچھ بات وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ بیان پر ہو جائے جو قبلہ نے پانچ سالہ اقتصادی منصوبے؛اڑان پاکستان؛ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمائی،؛آنجہانی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے نواز شریف کا اصلاحاتی ایجنڈا اپنا کر اپنے ملک کو ترقی دی؛وزیر اعظم کے اس بیان نے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخربڑے میاں صاحب کا وہ ایسا کون سا معاشی ایجنڈا تھا جو بھارت میں تو کامیاب ٹھہرا لیکن میاں صاحب کے اپنے ملک میں کوئی معاشی انقلاب برپا نہ کر سکا۔نواز شریف اور منموہن سنگھ کا موازنہ کسی طور ممکن نہیں،منموہن سنگھ حادثاتی طور پر وزیر اعظم بنائے گئے جبکہ میاں صاحب کی تمام سیاست ذاتی فائدوں اور اقتدار کے حصول اور طول پر مبنی رہی، تعلیمی استعداد میں زمین آسمان کا فرق،کہاں معاشیات میں پی ایچ ڈی اور کہاں واجبی سی تعلیم والے باؤ جی،سابق پردھان منتری کی معاشی اصلاحات میں سرمایہ کاری کا حصول سرفہرست رہا جبکہ ہم چین سے مسقط تک کی خاک چھان چکے کوئی ملک سرمایا لگانے پر تیار نہیں، موہنے کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہ تھا انہیں دنیا کا دیانت دار ترین وزیر اعظم کہا گیا،الیکشن کے اخراجات پورے کرنے کے لیے خشونت سنگھ سے دو لاکھ ادھار لیے،
من موہن سنگھ — مختصر جدول
| نمایاں کارنامے | عہدہ / کردار | اہم سال |
|---|---|---|
| معاشی اصلاحات، ایٹمی معاہدہ (امریکہ۔بھارت) | بھارت کے وزیر اعظم | 2004–2014 |
| لبرلائزیشن پالیسی متعارف | وزیر خزانہ | 1991 |
| RBI کے گورنر، منصوبہ بندی کمیشن کے رکن | معاشی ماہر | 1980s–1990s |
| راجیہ سبھا میں طویل سیاسی خدمات | پارلیمانی رہنما | مختلف سال |
ادھر حال یہ ہے کہ ہماری کرپشن کے قصے درسی کتب میں شائع ہو چکے ہیں، کہاں 15 کروڑ77 لاکھ (دو فلیٹوں سمیت)کل مالیت کے اثاثے چھوڑ نے والا گاہ کے ہٹی ّ والے کا بیٹا، کہاں ایون فیلڈ اور کئی براعظموں میں پھیلے کاروبار،کم ظرف موہنا نہ کسی بھائی کو نواز سکا نہ بیٹیوں کو اقتدار کے جھولے جھلائے،یہاں بانی اصلاحات کی چھپر چھایا میں کیا بھائی کیا بھتیجا، سمدھی سے بیٹی تک سب فیض یاب۔منموہن سنگھ نے معاشی زاویوں کی سمت درست کر کے بھارت کو ایشیا میں چین کے بعد سب سے زیادہ ترقی کرنے والا ملک بنادیاجبکہ باؤ جی کے وژن کے مطابق ہمارے کشکول کا سائز دن بدن بڑھ رہا اور ترقی کچھوے کی چال چل رہی ہے40% سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے چلی گئی۔ آخر میں صرف اتنا ہی کہنا ہے اس موازنے پرآج اگردھیمے لہجے میں بات کرنے والے منموہن سنگھ حیات ہوتے تو شہباز شریف کے اس بیان پر؛اووووووووو؛ کر کے احتجاج ضرور کرتے

