Shaheed-e-Azam Bhagat Singh: Voice of Youth and Resistanceبھگت سنگھ: حب الوطنی، انقلاب اور شہادت,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
دور کہیں تاریخ میں جھانکتے ہیں،20 صدی کے ہندوستان میں جلیانوالہ باغ (13 اپریل 1919)اور تحریک عدم تعاون جیسے سانحے رونما ہو چکے تھے، قرب و جوار میں انقلابی دور کی بازگشت سنائی دیتی،سینکڑوں جانیں اس انقلاب میں کام آئیں۔ 1907فیصل آباد کا گاؤں بنگہ،سردار کشن سنگھ کے گھر ایک بچے کا جنم ہوا جو تایا اجیت سنگھ (انقلابی لیڈر) کا پرتو ثابت ہوا، ملک پر جار ی ریاستی تشدد، ناانصافی،ظلم و بربریت نے انقلابی خون میں تلاطم برپا کیا 1921تعلیم کا سلسلہ ترک کر کے انگریز سرکار کے خلا ف مزاحمت کا علم بلند کیا،چھ سال بعد دسہرہ بم کیس میں گرفتار کر کے شاہی قلعہ میں پابند سلاسل کر دیا، ضمانت ملی باہر آ کر؛نوجوان بھارت سبھا؛ کے جھنڈے تلے دوبارہ جدوجہد کا آغاز کیا،ان دنوں دہلی میں مرکزی اسمبلی کا اجلاس چل رہا تھا (باتو کشور دت) کے ساتھ مل کر انقلاب زندہ باد کے نعروں کی گونج میں اسمبلی ہال پر بے ضرر سا بم پھینک دیا ساتھ ہی سینکڑوں اوراق ہوا میں اچھال دیے جن پر تحریر درج تھی
؛بہروں کو سنانے کے لیے بہت بلند آواز کی ضرورت ہوتی ہے؛
مشہور نیشنلسٹ لیڈر لالہ لاجپت رائے پولیس لاٹھی چارج سے زخمی ہو کر چل بسے انکی موت کا بدلہ پولیس افسرجیمز سکاٹ سے لینےکا ارادہ بنایا لیکن غلطی سے1928 کو لاہور کا اے.ا یس.پی سانڈرس گولی کا نشانہ بن گیا حوالدار چنن سنگھ نےانکا تعاقب کیا تواسے بھی گولی سے اڑا دیا،حلیہ تبدیل کرنے کے بعد لاہور کی کشمیر بلڈنگ میں پناہ لی،خان بہادر شیخ عبدالعزیز نےعمارت پر ریڈ کیا جس کے نتیجے میں اسکی گرفتاری عمل میں آئی، لاہور کی سینٹرل جیل میں مقدمہ چلا 23 مارچ1 193کو اسے(23 سال عمر)اور اسکے ساتھی راج گرو، سکھ دیو کو پھانسی دے دی گئی،انکی ٹکڑے ٹکڑے کی گئیں نعشیں فیروزپور کے قریب جلا کر راکھ کو دریائے ستلج میں بہا دیا گیا، تاریخ اسے ہندوستان کا پہلا انقلابی اور؛انقلاب زندہ باد؛جیسے نعرے کا موجد کہتی ہے اس انقلابی کا نام بھگت سنگھ تھا۔61 روزہ مرن برت رکھے بھگت سنگھ نے پھانسی گھاٹ میں بسنتی چولا پہننے سے 16دن پہلے یہ شعر کہے اسے یہ فکر ہے ہر دم،نیا طرز جفا کیا ہے۔ہمیں یہ شوق ہے،دیکھیں ظلم کی انتہا کیا ہےکوئی دم کا مہماں ہوں اے اہل محفل۔چراغ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں
یادش بخیر 2018 میں مشرقی پنجاب میں ارویند کیجریوال کی جماعت عام آدمی پارٹی کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان اسی نعرے؛انقلاب جندہ باد؛کے ساتھ اقتدار میں آئے،حلف برداری کی تقریب کھٹکرکلاں میں رکھی گئی،گورمکھی رسم الخط میں؛ز؛ کو؛ ج؛ پڑھا جاتا ہے)اور ابھی 21 نومبر 2024 کو مشرقی پنجاب میں ہونے والے نتیجہ میں؛انقلاب جندہ باد؛کا نعرہ اور بھگت سنگھ کی آئیڈیالوجی ایک مرتبہ پھر گونجی اور چار میں سے تین نشستیں (گدڑ باہا، ڈیرہ بابا نانک اور چھبے وال) عام آدمی پارٹی جیت گئی،جبکہ کانگرس صرف برنالہ کی ایک سیٹ جیت پائی۔ظلم و نا انصافی او ریاستی جبر کے خلاف؛انقلاب زندہ باد؛ کے جس نعرے کو کو بھگت سنگھ اپنی دس سالہ سیاسی زندگی میں لگاتا رہا،آج 94 سال گزرنے کے باوجود طاقت کے ایوانوں میں گونج رہا ہے۔ بھگت سنگھ کی پھانسی پر خیبر سے راس کماری تک احتجاج کا نہ رک سکنے کا سلسلہ شروع ہو گیا،سرکاری تنصیبات جلائی گئیں،ان جلسے جلوسوں کے دوران جواہر لال نہرو نے تاریخی الفاظ کہے انکے بقول؛بعض آپریشن محض آپریشن اور بعض نعشیں صرف نعشیں نہیں ہوتیں کچھ نعشیں اور کچھ آپریشن قوموں کی زندگی میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوتے ہیں اور انکی بنیادوں سے ایسے انقلاب جنم لیتے ہیں جو آگے چل کر قوموں کا جغرافیہ بدل دیتے ہیں۔نہرو کا کہنا تھا کہ بھگت سنگھ ایسی نعش ہے جو ہزاروں سال تک انگریزوں اور ہندوستانیوں کے درمیان پڑی رہے گی اور جب بھی ہندوستانیوں اور انگریزوں میں بہتری کے آثار پیدا ہونے لگیں گے یہ نعش زندہ ہو جائے گی،بھگت سنگھ کی نعش نے ثابت کر دیا کہ اب انگریزوں کو ہندوستان سے جانا ہو گا، بھگت سنگھ کی پھانسی کو 14 برس لگے تھے کہ جواہر لال نہروکی بات سچ ثابت ہوئی۔بھگت سنگھ کی پھانسی کی شام سبھاش چندر بوس نے ایک بڑےعوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھگت سنگھ آدمی نہیں ایک علامت تھا اس کے انقلابی ولولے نے پورے برصغیر کو اپنے حصار میں لے لیا ہے۔
اگر ہم کرہ ارض پر رونما ہونے والی تحریکوں اور مہذب قوموں کی زندگیوں کا بغور مشاہدہ کریں تو یہ بات ہمارے مطالعے میں اضافے کا باعث بنے گی کہ قوموں کی ترقی و آزادی،تحریکوں کی کامیابی کے پیچھے کوئی نہ کوئی بھگت سنگھ ضرور ہوتا ہے جو تاریخ کا دھارا موڑ دیتا ہے،جس کے جذبے سے ایک نیا شعور جنم لے،جو اپنی قوم کو ایک نئی اورروشن صبح کی نوید سنائے،جو اپنے نظریے کی طاقت سے قوم کو سوئے منزل لے چلے۔بھگت سنگھ جیسے سورما خاموش زبانوں کو آواز،رکے قدموں کو جنبش عطا کرتے ہیں، ان جیسوں کی قربانیوں سے کئی انقلابی جلا پاتے ہیں،معاشرتی ناانصافی،دھائیوں سے جاری ظلم و لا قانونیت کے ماحول میں بھگت سنگھ جیسے لوگ بھوسے کے ڈھیر پر چنگاری کی طرحٖ گرتے ہیں،انہی کے فیض سے تنی رگوں سے انقلاب کے نعرے پھوٹتے ہیں، جیل کی کال کوٹھریاں ان کی قوت بنتی ہیں۔بھگت سنگھ،لا لہ لاجپت رائے،چندر شیکھر آزاد،رام پرساد بسمل جیسے کئی نام ہیں جو ظلم و زیادتی اور ریاستی جبر کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے،پھانسی کے پھندے پر جھول گئے لیکن بعد میں آنے والوں کے لیے آزادی کی راہ متعین کر گئے،رام پرساد بسمل تختہ دار پر پہنچا تو لبوں پر یہ شعر تھے
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے۔دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
ہاتھ جن میں ہے جنون کٹتے نہیں تلوار سے۔سر جو اٹھ جاتے ہیں جھکتے نہیں للکار سے

