Rise and fall of Abbasid Caliphate :ہر کمالے را زوال کی تاریخ
عباسیہ کا عروج 524 برس دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کرتا رہا،تیسری صدی ہجری کا آغاز ہو چکا تھا، دوسری صدی کے آٹھویں عشرے میں پانچویں مشہور ترین عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی زندگی میں ہی چیف جسٹس امام ابو یوسف کا انتقال کر گئے،ہارون الرشید کی وفات کے بعد اگلے پانچ سال خلیفہ امین الرشید تخت پر جلوہ افروز رہا 813 ء سے 833 ء مامون الرشید نے بیس سال تک بھائی کے چھوڑے ہوئے تخت کو رونق بخشی،مون الرشید کی تخت نشینی کے 6 سال بعد امام شافعی کا انتقال ہوا تو مسند فقہ پر اما م احمد بن حنبل جلوہ فگن ہوئے، اس دور میں نئے مذہبی مباحث کا آغاز ہوا فتنہ خلقِ قرآن ابھرا (یعنی قرآن اللہ کی مخلوق ہے)علما کو مجبور کیا گیا کہ وہ اس عقیدہ کو مانیں جو قائل نا ہو سکے ان پر قید و بند، شدد جلاوطنی جیسے بھیانک حربے آزمائے گئے

مام ا حمد بن حنبل اور محمد بن نوح نیشا پوری نے سلطان کے سامنے کلمہ حق بلند کیا اور اپنے موقف پر ڈٹےرہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اللہ کی مخلوق نہیں مامون کی ریشہ دوانیاں جاری تھیں کہ دام اجل نے لبیک کہا 833ء کو موجودہ ترکی کے شہر طرسوس میں چل بسا، 833ء تا 842 ء آٹھویں عباسی خلیفہ محمد کا دور اقتدار لقب معتصم باللہ اور کنیت ابو اسحاق، خلیفہ تو بدل گیا لیکن ریاستی ہرکاروں کا نقطہ نظر نا بدل سکا ایک ہاتھ میں اختیار اور قوت اور دوسرے ہاتھ میں تلوارہو تو انسان جبر کے راستے پر چل پڑتا ہے اسی راستے کا انتخاب کر کے معتصم باللہ اور اس کے چیف جسٹس ابن ِابی داؤد نے امام احمد بن حنبل پر مصیبتوں کےپہاڑ توڑ دیے اور پھر چشم فلک نے وہ منظر دیکھا۔

بغداد کا شہر اور معتصم باللہ کا دربار جبر کا عالم،فرد واحد کی حکومت،علما محدثین اور صاحب فکر سہمے بیٹھے،درباری لالچ دھونس سے مہر بہ لب، انصاف کا ترازو ابن ابی داؤد کے ہاتھ میں، قیاس، قانون، استنباط،اخلاق، اجماع اور اجتہاد سب کچھ ان دو عالیٰ مرتبت ہستیوں کی ذات میں سمٹ چکا تھا، بیڑیوں میں جھکڑے 54 سالہ امام حنبل کو دربار میں پیش کیا گیا،بادشاہ کا حکم صادر ہوا اسے پکڑو کھینچو اور اسکے بازو اکھیڑ دو امام حنبل کی مشکیں اس زور سے کسیں گئیں کہ ہاتھ بازو سے اکھڑ گیا پھر اسی اکھڑے ہوئے ہاتھ پر 70 کوڑے برسائے گئے ضربیں اتنی شدید کہ پہلا جلاد دو کوڑے مار کر پیچھے ہٹ جاتا پھر اسکی جگہ دوسرا بلایا جاتا اسی حالت میں فرمان شاہی جاری ہوا کہ بغیر سہارے کے اونٹ پر سوار ہوں تاکہ طرطوس کے قید خانے میں ڈال دیا جائے،30 ماہ تک قید کاٹی دورانِ قید علما کی ایک جماعت کو بھیجا گیا اور حدیثِ مبارکہ(جان کے خوف سے چپ رہنے کی اجازت دی گئی ہے) کی روشنی میں قائل کرنے کی کوشش کی گئی
امام نے ان علما سے سوال کیا تمہارا اس حدیث کے بارے میں کیا خیال ہے جب صحابہ اکرام نے رسولﷺ سے مشرکین کے مظالم کی شکایت کی تو آپﷺ نے فرمایا؛ تم سے پہلے ایسے لوگ بھی تھے جن کے سروں پر آرا چلایا جاتا اور انکے جسموں کو لکڑی کی طرح چیر دیا جاتا مگر وہ حق بات کہنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے؛ درباری علما نے خفت مٹانے کے لیے سوال کیا تمہارے ساتھیوں نے تو تمہارے جتنی استقامت نہیں دکھائی وہ تو تھوڑی سختی پر ہی بھاگ گئے تو امام حنبل نے جواب دیا مجھ سے میرے ساتھیوں کا گلہ نہ کرو بلکہ اپنی دلیل کا جواز قرآن اور حدیث کی روشنی میں نکال کر دکھاؤ درباری علمامایوسی کے عالم میں واپس لوٹ گئے،امام حنبل کے جنازے میں 8لاکھ افراد نے شرکت کی آپ کی وفات کے دن 20 ہزار عیسائیوں یہودیوں اورموغیوں نے اسلام قبول کیا جبکہ دوسری طرف یکم محرم کو معتصم باللہ کی بیماری کا آغاز ہوا حالت نزاع میں یہ آیات پڑھتا حتی ازا فارحو بما اوتو اخذنا ھم بغتتۃ (ترجمہ) تمام حیلے جاتے رہے اب کوئی باقی نہیں رہا آیات پڑھتا

آخری دعا جو اس نے کی۔الہ العالمین! تو خوب جانتا ہے میں تجھ سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے ڈرتا تھا،تجھ سے امید رکھتا تھا اپنے آپ سے نہیں،معتصم کا بیٹامتوکل خلیفہ بنا تو اس نے قرآن کو مخلوق قرار دینے کے حکم پر پابندی لگا دی اور یوں امام احمد حنبل کی استقامت کے سامنے معتصم باللہ کی بربریت،چیف جسٹس ابن ابی داؤد کی قانون شکنی کوڑے دان کی زینت بنیں، امام احمد بن حنبل نے اپنے عہد کی سب سے بڑی بادشاہی کا تنہا مقابلہ کیا،ارشادِ باری تعالیٰ ہے اور بیشک خدا تمہارے درمیان دنوں کو پھیرتا ہے
میرے تن کے زخم نہ گن ابھی،میری آنکھ میں ابھی نور ہے,میرے بازؤں پہ نگاہ کر جو غرور تھا،وہ غرور ہے
ابھی رزمگاہ کے درمیاں،ہے میرا نشان کھلا ہوا,ابھی تازہ دم ہے میرا فرس،نئے معرکوں پہ تلا ہوا
مجھے دیکھ قبضہ تیغ پر،ابھی میرے کفت کی گرفت ہے,بڑا منقسم ہے میرا لہو،یہ میرے نصب کی سرشت ہے
وہ میرے غنیم نہ بھول تو،کہ ستم کی شب کو زوال ہے,تیرا جبر ظلم بلا سہی،میرا حوصلہ بھی کمال ہے
تجھے ناز جوشن و گرز پر،مجھے ناز زخم بدن پہ ہے,یہی نامہ بر ہے بہار کا،جو گلاب میرے کفن پہ ہے