Ratan Tata: A Legacy Larger Than Wealth رتن ٹاٹا:صنعت، اصول اور بصیرت کا نام,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
انڈین ایئر لائنز کے ملازمین سے ایک حیرت انگیز سروے کیا گیا،دہلی سے بمبئی کی فلائیٹس کے دوران کس مسافر نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا سروے کے جواب میں رتن ٹاٹا کو سب سے زیادہ ووٹ ملے،وجہ جاننے پر معلوم ہوا کہ وہ واحد وی۔آئی،پی مسافر تھے جو اکیلے سفر کرتے ان کی فائلیں،بیگ اٹھانے والا کوئی ملازم نا ہوتا،وہ فضائی میزبانوں سے بہت کم چینی والی بلیک کافی طلب کرنے کے عادی تھے،28 دسمبر 1937 کو بمبئی میں پید ہونے والے ایک لائسنس یافتہ پائلٹ جو کبھی کبھار کمپنی کا طیارہ اڑاتے، انڈیا کے بزنس ٹائیکون رتن نیول ٹاٹا بروز بدھ86 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وقت کی پابندی کے حوالے سے جانے جاتے والے رتن ٹاٹا ٹھیک ساڑھے چھ بجے اپنے دفتر سے گھر کے لیے نکلتے،بمبئی میں ہوتے تو اپنا ویک اینڈ علی باغ میں اپنے فارم ہاؤس پر گزارتے اس دوران انکے پالتوشیفرڈ کتے ٹیٹو اور ٹینگو انکے ساتھ ہوتے۔نا سفر کے شوقین تھے نا تقریروں کے،نمائشی دنیا سے بہت دور رہتے،والد نیول ٹاٹا کی طرح ضدی جانے جاتے، آپ انکے سر پر بندوق رکھ دیں تو وہ یہی کہیں گے مجھے گولی مار دیں لیکن میں اپنے راستے سے نہیں ہٹوں گا، پرانے دوست نصلی واڈیا کے مطابق پیچیدہ،گہرا اور تنہا۔رتن ٹاٹا کی عمر جب دس سال ہوئی تو انکے والدین میں طلاق ہو گئی رتن جب 18 سال کو ہوئے تو انکے والد نے ایک سوئس خاتون سیمون ڈونئیرسے شادی کر لی رتن کی پرورش انکی دادی لیڈی نواز بائی ٹاٹانے کی۔
سر رتن نے کارنیل یونیورسٹی سے فن تعمیر اور انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی،ساری زندگی غیر شادی شدہ رہے،1962 میں جمشید پور سٹیل مل میں ایک عام ورکر کی طرح کام شروع کیا،جس کی بنیاد انکے دادا نے ایک صدی پہلے رکھی تھی یہاں چھ سال تک مقیم رہے اپنی انٹرن شپ ایک دوکان میں فلور ورکر کے طور پر نیلے رنگ کا لباس پہن کر کی اسکے بعد انہیں پروجیکٹ مینیجر بنا دیا گیا بعد میں وہ مینیجنگ ڈائریکٹر ایس۔کے۔ نانا وتی کے اسپیشل اسسٹنٹ بن گئے۔

انکے کام کی لگن کی خبریں جب بمبئی پہنچیں تو انکے چچا جے۔آر۔ڈی ٹاٹا نے انہیں بمبئی بلا لیا۔ایک سال تک انہوں نے اسٹریلیا میں کام کیاجے۔آر۔ڈی ٹاٹا نے انہیں خسارے میں چلنے والی دو کمپنیوں سنٹرل انڈیا ملز اور نیلکو کی ذمہ داری سونپی۔رتن ٹاٹا کی تین سال کی لگاتار محنت سے خسارہ منافع میں بدلنے لگا1981 میں رتن کو کمپنی کا سربراہ بنا دیا گیا۔صحافی دوست لکھتے ہیں کہ ایک دوستانہ،مہذب،غرور سے کوسوں دور انسان،اپنا فون خود سنتے،کوئی بھی ان سے مل سکتا۔کمبلا پہاڑیوں پر مکیش امبانی کی 27 منزلہ انٹیلیا کی چمک سے دور کولابہ میں سمندر کے سامنے والارتن کا گھر انکے مزاج کی طرح سادہ اور پر وقار ہے۔

انہوں نے دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے نمک بنانے سے لے کر سافٹ ویئر بنانے والے ٹاٹاگروپ کی قیادت کی، آج کے دن تک انکی کمپنی میں چھ لاکھ سے زائد ملازمین کام کرتے ہیں،انکی کمپنی کا سالانہ ریونیو 100ارب ڈالر سے زائد ہے۔ٹاٹا گروپ ایک کارپوریشن ہے جو سٹیل،مہمان نوازی،ٹیکنالوجی،ماحول دوست اور آٹو موٹیو جیسی صنعتوں میں کام کرتی ہے،اسکی تاریخ 1868کی ہے۔اس کمپنی نے 2000 میں برطانوی چائے کی کمپنی کو 432 ملین ڈالر اور اینگلو ڈچ سٹیل میکرکورس کو 2007 میں 13 بلین ڈالر میں خریدا
| تفصیل | پہلو |
|---|---|
| رتن نول ٹاٹا | پورا نام |
| 28 دسمبر 1937 | پیدائش |
| بھارتی | شہریت |
| سابق چیئرمین، ٹاٹا گروپ | عہدہ |
| 1991 تا 2012 | مدتِ قیادت |
| ٹاٹا نینو، جگوار لینڈ روور کا حصول | نمایاں کارنامے |
| اصولی، سادہ، دور اندیش | قیادت کا انداز |
| تعلیم، صحت، دیہی ترقی میں نمایاں کردار | سماجی خدمات |
| پدما بھوشن، پدما وبھوشن | اعزازات |
| کاروبار سے بڑھ کر انسان دوستی | پہچان |
رتن ٹاٹا1991میں کمپنی کے چیئر مین بنے اور 2012 تک اس عہدے پر فائز رہے۔انکی قیادت میں ٹاٹا گروپ نے عالمی سطح پر ترقی کی۔انکی قیادت میں ٹاٹا گروپ نے؛نینو؛ دنیا کی سب سے سستی گاڑی تیار کی۔آج بھی انڈیا میں ٹرک مالکان اپنے ٹرک کے پیچھے اوکے۔ٹاٹا لکھواتے ہیں تاکہ ظاہر ہو سکے کہ یہ ٹرک ٹاٹا کا ہے اور قابل اعتماد ہے۔

ہندوستان کے غریبوں میں 102 بلین ڈالر عطیہ کرنے والاصدی کا سب سے غریب دوست انسان رتن ٹاٹا کا نقطہ نظر قیادت کی طرف عاجزی،دیانتداری اور ہمدردی کے احساس کے گرد گھومتا ہے،آپ نے کاروبار اور لوگوں کی مدد دونوں میں حیرت انگیز کام کیے،جب انڈیا میں کرونا کی وبا پھیلی تو رتن ٹاٹا نے ٹرسٹ سے 500 کروڑ روپے اور ٹاٹا کمپنیوں کے ذریعے 1000 کروڑ روپے دیے تاکہ اس وبا سے نمٹا جا سکے،آپ پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنے لگثری ہوٹلوں کو ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکرز کی رہائش کے لیے استعمال کرنے کی پیشکش کی۔ انہیں ہندوستان کا دوسرا سب سے بڑے شہری ایوارڈ پدم بھوشن اور کارنیگی میڈل آف فرانتھراپی جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔اس عظیم پارسی کے کھو جانے پر مہارشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اعلان کیا کہ رتن ٹاٹا کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائیں گی،جمعرات کو سوگ اور سرکاری دفاتر میں پرچم سرنگوں رہے گا۔وزیر اعظم مودی کے لاؤس روانہ ہو جانے کی وجہ سے وزیر داخلہ امیت شاہ آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔
نہ گور سکندر نہ قبر دارا،مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
کرے جس قدر شکر نعمت وہ کم ہے،زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے