Palestine is burning againامن یہاں سے روٹھ گیا فلسطینیوںکا خون پانی سے ارزاں,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

گزشتہ 3سال سے فلسطین کی مقتل گاہ آباد،مسلسل جاری نسل کشی کے عوض غزہ صفحہ ہستی سے مٹتا جا رہا،6 ہزار سے زائدلوگ لقمہ اجل، آبادیاں کھنڈرات میں تبدیل،بچوں کے کھلے زخموں کے لیے ادویات اور ہسپتال موجود نہیں، تباہی کی داستا ن براہیم رئیسی، اسمائیل ہنیہ سے حسن نصراللہ تک جا پہنچی،1997 میں حسن نصراللہ کا اٹھارہ سالہ بیٹا محمد ہادی لبنان میں شہید،24 20 میں ہزاروں ٹن وزنی بنکر شکن بمبوں سے اس عمارت کو نشانہ بنایا گیا جہاں شہید لیڈ ر حسن نصراللہ اپنی بیٹی اور دیگر ساتھیوں سمیت موجود تھے۔تینتیس افراد شہید،لیکن امت مسلمہ کے بیدار ہونے میں ابھی وقت لگتا ہے۔ امریکی پشتی بان کا ثمر کہیے کہ اسرائیل کا ظلم بڑھتے بڑھتے لبنان، ایران تک جا پہنچا،لبنان کا وہ حصہ جہاں آج آگ بھڑک رہی ہے حزب اللہ کا علاقہ ہے،لبنان ان علاقوں میں شامل ہے جس کی سرحدیں براہ راست اسرائیل سے ملتی ہیں، ہوائی حملے صرف جنوبی لبنان میں نہیں بلکہ اب بیروت میں بھی تواتر سے ہو رہے ہیں،شہادتوں کا سلسلہ ایک ہزار سے تجاوز کر گیا۔ایران کے ساتھ ہماری لمبی سرحد ہے اگر خدانخواسطہ ایران کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے آفٹر شاکس پاکستان میں بھی آئیں گے۔
ایک صدی کا قصہ ہے،دو چار برس کی بات نہیں،فلسطین سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا،صدیوں تک مسلمان، عیسائی،یہودی اور دیگر مذاہب کے لوگ اس سلطنت میں مذہبی آزادی کے ساتھ امن و سکون سے رہ رہے تھے،سب کے اپنے مقدس مقامات تھے،مذہبی منافرت کا آغاز پہلی جنگ عظیم کے شعلے ٹھنڈے پڑنے کے دوران ہی ہو گیا تھا، عربوں نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، مغربی اتحادی ممالک جرمنی،اٹلی اور ترکی کے خلاف برسرپیکار تھے،تاریخ گواہ کے کہ حریفوں کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے لیے داخلی انتشار پیدا کر کے حکمت عملی کو کمزور کیا جاتا ہے،اس طرح خطہ عرب کے وہ علاقے جو اب اردن اور سعودی عرب کے نام سے جانے جاتے ہیں میں ترکوں کے خلاف بغاوت شروع ہو گئی، عربوں کو جنگی رسد کی فراہمی،لشکری تنظیم سازی و رہنمائی کا فریضہ برطانیہ نے انجام دیا،فرانس جلتی پر تیل گرانے والوں میں شامل رہا۔جنگ کے خاتمے تک سلطنت عثمانیہ سکڑ کر موجودہ ترکی تک محدود ہو چکی تھی،مشرق وسطی کی تشکیل نو کا مرحلہ آیا تودنیائے عرب کی از سرنو تقسیم عربوں کی بجائے دو مغربی سفیروں نے کی ایک کا تعلق برطانیہ او ر دوسرے کا فرانس سے تھا،اردن اور سعودی عرب کی بنیاد پہلے ہی رکھی جا چکی تھی،شام اور عراق میں بادشاہت قائم کر دی گئی، یہ اس زمانے میں ہوا جب نو آبادیاتی ممالک میں لوگوں کے حقوق کی جنگ زوروں پر تھی لیکن عرب قوموں کا جذبہ سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کرنے میں استعمال ہوا،

اس سب کے دوران فلسطین کو بڑی قوموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا،اردن،عراق،سعودی عرب کی نسبت فلسطین زیادہ تعلیم یافتہ،منظم اور تاریخی اعتبار سے اہمیت کا حامل علاقہ تھا،اسکی سلطنت سب سے پہلے قائم ہونی چاہیے تھی لیکن منصوبہ کچھ اور تھا،انیسویں صدی کے آخر میں صیہونیت کی تحریک یہودی آبادیوں میں مقبول ہو رہی تھی،یہودی اپنی خودمختار ریاست تو نہیں بنا سکتے تھے،بڑی خفیہ منصوبہ بندی کے تحت عربوں اور فلسطینیوں سے زمینیں خرید کر اپنے لوگوں کو فلسطین میں آباد کرنا شروع کیا۔یہ سلسلہ پہلی جنگ عظیم کے دوران زور پکڑ گیابد قسمتی سے عرب قیادت سمجھ ہی نہ سکی۔یہ معاملہ بالفور معاہدے سے شروع ہوا جو اتحادی حکومتوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا اس معاہدے میں یہودیوں کی فلسطین میں قومی ریاست کے قیام کی حمایت کی گئی۔اس طرٖح فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے خدوخال نمایاں ہونے شروع ہوئے۔اس بربادی کی داستان کا سکرپٹ ایک صدی پہلے سے لکھا جا چکا تھا جس کی حساسیت کو فلسطین میں تعینات برطانوی فوج کے آفیسر Archibald Wavell نے پڑھ کر تاریخی الفاط کہے تھے؛جنگ کو ختم کرنے کے لیے جنگ؛کے بعداب وہ پیرس میں؛ امن کے نام پر امن کو ختم کرنے؛ میں کامیاب ہو گئے ہیں۔آنے والے دور نے اسکے الفاظ کو سچا ثابت کیا۔ فلسطین کے بارے میں مختصر جدول
| تفصیل | موضوع |
|---|---|
| مشرقِ وسطیٰ میں بحیرۂ روم کے مشرقی کنارے پر واقع | مقام |
| القدس (یروشلم) – فلسطینی دعویٰ | دارالحکومت |
| غزہ، رملہ، الخلیل، نابلس | اہم شہر |
| تقریباً 5 ملین سے زائد | آبادی |
| اسرائیلی قبضہ، غزہ محاصرہ، انسانی بحران | تنازع |
| حماس، الفتح، پی ایل او | اہم تنظیمیں |
| مسجد اقصیٰ، قبلہ اوّل | مذہبی اہمیت |
اس طرح اس خطے میں اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کی گئی، امن یہاں سے روٹھ گیا فلسطینیوں کا خون پانی سے ارزاں،مزاحمت ہر دور میں جاری رہی لیکن فلسطینی کبھی بھی مسلم ممالک کی عملی حمایت حاصل نہ کر سکے، اسرائیل کسی خوف سے بے نیا ز انسانی بستیوں پر لاشوں کے مینار کھڑے کر رہا ہے۔ یورپ،روس،چین کبھی ڈھکے چھپے تو کبھی بظاہر اسرائیل کے حمایتی ہیں،ان حالات میں مسلمانوں کے پاس کہاں اتنی سکت کے اسرائیل کے خلاف اٹھ سکیں،یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ حقائق فلسطین،ایران اور حزب اللہ کی قیادت کو معلوم نہیں،مسلمانوں کو آج ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اتحاد کے معنی جانتی ہو، جو بے خطر آتش نمرود میں کودنے کا درس دینے کی بجائے حکمت عملی ہر یقین رکھتی ہو،جس کی کتاب میں ایک باب فتح مندی، اور نصرت کا بھی ہو،کیا کبھی ہم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ عرب قیادت اس معرکہ آرائی سے غیر متعلق کیوں ہے،یہ اپنے عوام کو کسی ایسی آگ میں جھونکنا نہیں چاہتی جس سے ان کے اپنے دامن جل جائیں،ماضی میں عربوں نے فلسطین کی مدد کی لیکن اب اصل حقیقت یہ ہے کہ عرب قیادت حماس کی حکمت عملی سے متفق نہیں، جنگ رکوانا تو ایک طرف چند مسلم ممالک جن میں مصر(جس نے جنگ رمضان 1973 میں اسرائیل کو ناکوں چنے چبوائے تھے)، سعودی عرب اور اردن سر فہرست ہیں پانی اور کھانے پینے کی اشیا کی رسد کے لیے بھی سرائیل کے محتاج ہیں،، مسلم قیادت کو سوچنا ہو گا کہ انہیں قتل گاہیں آباد کرنی ہیں یا بستیاں، دشمن ہمیں واکی ٹاکی اور پیجر کے ذریعے لقمہ اجل بنا رہے ہیں مسلم دنیا کی حکومتیں،پالیسی ساز اور ماہرین خواب غفلت سے جاگیں لیکن محسوس ہوتا ہے کہ نیند بہت گہری ہے آنکھ تب کھلے گی جب موت اپنے دروازے پر دستک دے گی۔

تازہ ترین خبریں:حماس کے سیاسی بیورو کے عہدیدارباسم نعیم نے کہا ہےکہ حماس غزہ میں بااختیار فلسطینی حکومت کے قیام کے بعد دستبردارہونےکو تیار ہے۔باسم نعیم کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اپنے وعدوں سے مکر رہے ہیں، جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں سیکڑوں شہادتیں ہوچکی ہیں۔واضح رہے کہ غزہ میں 10 اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد سے 400 سے زائد فلسطینی شہید اور 1200 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں
رندان فرانسیس کا میخانہ سلامت،پر ہے مئے گل رنگ سے ہر شیشہ حرب کا
ہے خاک فلسطیں پر یہودی کا ہے اگر حق،ہسپانیہ پہ حق کیوں نہیں اہل عرب کا
مقصد ہے ملوکیت انگلیس کا کچھ اور،قصہ نہیں نارنج کا یا شہد و رطب کا