Site icon tazzakhabren.com

Pakistan Steel Mills Amid Crisis ‘sternly sick organization’پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثے چوری ہونے لگے

Pakistan Steel Mills Amid Crisis 'sternly sick organization'پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثے چوری ہونے لگے

Pakistan Steel Mills Amid Crisis ‘sternly sick organization’پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثے چوری ہونے لگے,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

میرے پاکستانیو! میں آج میں آپ کو اپنی آپ بیتی سناتی ہوں۔میری عمر لگ بھگ 50سال، کراچی میری جائے پیدائش اور میرے والدین کا تعلق روس سے ہے۔سبق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو نے میرا نام رکھا، پاکستان میں میرا وسیع حلقہ احباب ہے۔منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئی، ۰۱ لاکھ ٹن وزن، 19500ایکڑ رقبہ جس کی مالیت 500 ارب سے زائد، میری ملکیت،۱۱ سال کی عمر میں شعور کی سیڑھی پر پہلا قدم رکھا(یعنی پیداوار کا آغاز)جوانی آتے آتے میرے حسن اور دولت کو چار چاند لگ گئے۔ میرا اپنا ایگریکلچر ایریا جس میں وافر مقدار میں پھل، سبزیاں،ریشم کے کیڑے دستیاب،میرے جنگلات جن کی سالانہ کروڑوں میں نیلامی ہوتی،125میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والا اپنا بجلی گھر،7000 گھروں کے علاوہKESC کو بجلی کی سپلائی،15سے20 ہزار کیوبک فٹ آکسیجن پیداکرنے والا پلانٹ جہاں ضرورت سے زائد آکسیجن کراچی کے سرکاری ہسپتالوں کو مفت سپلائی کی جاتی، 10 ملین گیلن پانی ذخیرہ کرنے والا فلٹر پلانٹ میری خو بصورتی میں اضافہ کرتا۔14000ایکڑ رقبہ سوزوکی، یاماہا(کار مینوفیکچرنگ کے ادارے)کے سپرد، ٹرانسپورٹ کارگو، ریلوے جیسے ادارے میرے نیاز مندوں میں شامل

پورٹ قاسم پر میری اپنی جیٹیاں، سامان کی ترسیل کے لیے 7 کلومیٹر پر محیط ایشیاکی سب سے بڑی کنور بیلٹ،۰۰۱ بیڈ کا ہسپتال،چرچ،سکول، قبرستان،ہنر مندوں کی ٹریننگ کا ادارہ، کیڈٹ کالج وغیرہ سب میرے تصرف میں،اگرچہ ذولفقار علی بھٹو نے مجھے چلنا سکھایا لیکن جنرل ضیا ء الحق کے مارشل لا سے لے کر 90 کی دہائی کے اوائل تک کا دور میری بھرپور جوانی کا دور تھا،پورے ملک میں میری دھوم، فوجی حکومتیں مجھے خوب راس آئیں،میں نے کھل کر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا،معیشت کو استحکام ملا،2004-2006 (جنرل مشرف کی حکومت)میں نے18۱ ملین پاکستان کو نفع کی مد میں دیے، 6ملین ٹیکس ادا کیا۔پیارے پاکستانیو! اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود 10 ارب روپے میرا بینک بیلنس،12 ارب کا سامان میرے تصرف میں تھا۔

سدا نہ باغیں بلبل بولے، سدا نہ موج باغ بہاراں سدا نہ ماں پے حسن جوانی، سدا نہ صحبت یاراں

تفصیلپہلو
1970 کی دہائی میں قومی صنعتی منصوبہقیام
ملک کو فولاد میں خود کفیل بنانامقصد
ابتدائی برسوں میں کامیاب پیداوارسنہری دور
بدانتظامی اور سیاسی مداخلتزوال کی شروعات
شدید بیمار قومی ادارہموجودہ حالت
ادارے وژن سے بنتے ہیں، غفلت سے بکھرتے ہیںتاریخی سبق

کے مصداق2008: کے مفاہمت کے دور نے میری صحت پر کاری ضرب لگائی ایک سال کے اندر اندر 126 ارب روپے دوا دارو پر لگ گئے لیکن صحت تھی کہ گرتی ہی گئی،معین آفتاب شیخ،رحمن ملک، ریاض لال جی، وسیم احمد(صدر زرداری کے نیاز مند) جیسے کئی معالج دستیاب لیکن مرض تھا کہ بڑھتا ہی گیاجوں جوں دوا کی۔
ملک میں معروف تاجر و صنعت کار میاں نواز شریف وزیر اعظم بنے تو امید کی کرن جاگی کہ شائد وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر مجھے زندگی کی طرف لوٹا دیں کیونکہ جدہ میں میرا جیسا مریض ان کی زیر سایہ مکمل شفایاب،علاج تو دور کی بات 2015 میں میاں صاحب نے حیرت انگیز طور پر میری تمام دوائیں بند کر دیں اور میں اپنی موت آپ مر گئی۔میرے وجود پر بڑھاپا اپنے پنجے مضبوطی سے اپنے پنجے گاڑھ چکا،پور پور قرض میں ڈوب گیا، کورٹ کچہری کے معاملات الگ جان کا روگ،سوئی نادرن کے 22 ارب،نیشنل بنک کے 32-42 ارب قرض، کل ملا کے 230 بلین کی مقروض۔

نئے پاکستان کاخواب بوڑھی آنکھوں نے دیکھا لیکن 2025 آنے تک 55ارب کا مزید ٹیکہ لگایا گیا۔9350 گھریلو ملازمین کو اونے پونے واجبات ادا کر کے رخصت کر دیا, فارم 47 کے نسخہ کیمیا سے فیضیاب ملک پر تجربہ کاروں کی حکومت، میرے پاکستانیو! بوجھو میں کون ہوں؟جی ہاں میں آپ کی سٹیل مل ہوں، جھکی کمر،نڈھال سانسوں، اجڑے بالوں والی۔کیا آپ جاننا چاہتے ہیں میرا دشمن کون ہے، کون ہے جو مجھے نوچ نوچ کر کھا گیا؟ جی ہاں آپ کے ملک کا جمہوری حکمران

جنوری29-2026 کی خبر کے مطابق: اسلام آباد:  پاکستان اسٹیل ملز  سے  متعلق  قومی  اسمبلی کی ذیلی کمیٹی صنعت و پیداوار کے اجلاس کو  حکام  نے  بتایا کہ  اسٹیل ملز  کی 11 کے  وی کی بجلی کی تاریں تک  چوری ہو چکی ہیں، چوری کے بڑھتے  خطرات کے  باعث بعض اثاثے نیلام کیے جا  رہے ہیں۔

وفاقی حکومت نے اس مسئلے کا بہترین حل نکالا ہے کہ چوری روکنے کی بجاے اثاثے نیلام کر دیتےہیں۔درج بالا کالم اسی خبر کے تناظر میں لکھا گیا ہے

Exit mobile version