Site icon tazzakhabren.com

Muslims of India-چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا

Muslims of India-چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا

Muslims of India- چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا, ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

  موضوع ہے بھارت کا مسلمان آج کس حال میں ہے  اس کا سادہ جواب ہے کہ جب ہمارے ڈی این اے میں دشمنی ہے تو ہم کیسے نارمل رہ سکتے ہیں کئی موقع آئے جب ہم اس دشمنی کو ختم کر سکتے تھے لیکن کبھی جرنیل نہ مانے تو کبھی حکمران ڈٹ گئے اور کبھی سب ایک پیج پر آگئے تو جمہور نے تلواریں نیاموں سے نکال لیں،سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے 1989 میں بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو پاکستان بلوایا تو ان پرسکیورٹی رسک کا الزام لگا دیا گیا،مودی رائیونڈ آئے تو بینظیر کا صاحبزادہ الیکشن میں نعرے لگوا رہا تھا؛مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے؛  1999میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی بس لے کر لاہور آئے یہ مفاہمت کا بہترین موقع تھا لیکن مشرف ڈٹ گئے  2007 میں منموہن سنگھ کو اسلام آباد آنا تھا کشمیر کے حل کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے، مشرف نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو برطرف کر دیا تحریک چل گئی ایک کمزور حکومت کے ساتھ بھارت کو معاہدہ کر کے کیا ملتا،لیکن کیا کریں اس خطے کی قسمت میں نارمل رہناہے ہی نہیں 2021  میں جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے بھارت کے ساتھ بیک ڈور چینلز اوپن کیے،بھارتی وزیر اعظم مودی اس بات پر راضی ہو گئے تھے کہ دس دن کے لیے پاکستان آئیں گے بلوچستان میں ہندؤں کے مقدس مقام پر کچھ دن گزار کر وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ پاک بھارت دشمنی ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کریں گے کشمیر کا معاملہ بیس سال کے لیے فریز،کشمیر بارڈر کو ایزی کر دیا جائے گا تاکہ لوگ آسانی سے آ جا سکیں  بھارت پاکستان کے راستے  افغانستان اور سنٹرل ایشین منڈی کے ذریعے اپروچ حاصل کر سکے گا لیکن اس بار سیاستدان ڈٹ گئے شاہ محمود قریشی نے وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دیا کہ ہم پر کشمیر بیچنے کا الزام لگ جائے گا،کبھی خان صاحب کی جانب سے امید ظاہر کی گئی کہ مودی الیکشن جیت جائیں تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا  اور پھر اسی مودی کے خلاف ٹویٹ کر دیا کہ بڑے عہدوں پر چھوٹے لوگ بیٹھے ہیں،نتیجہ یہ نکلا ہماری طرف سے بار بار فون کرنے کے باوجود مودی نے ہمارا فون نہ لیا،

حالیہ دنوں میں جب شنگھائی تعاون تنظیم کا 23 واں اجلاس جاری، اس اجلاس میں تنظیم کے دس ممالک میں سے نو کی نمائندگی اسکے وزیر اعظم یا اس عہدے کے مساو ی رہنما شرکت کر رہے ہیں صرف بھارت کی نمائندگی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کر رہے ہیں جو ایک ملٹی لیٹرل کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے ہیں  پاکستانی حکام سے دو طرفہ معاملات پر ملاقات انکے  ایجنڈے میں شامل نہیں اس سب کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جاری رہنے والی پانچ سالہ سرد مہری میں سبرامنیم کی شرکت کو ہوا کا تازہ جھونکا سمجھا جا رہا ہے،گزشتہ روز سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان میں موجودبھارتی صحافی برکھا دت کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان مودی کی دوبارہ آمد اور دونوں ملکوں کے درمیان خوش گوار تعلقات کا حامی ہے لیکن قارئین کی دلچسپی کے لیے یہ بات بتانا ضروری ہے کہ چند ماہ بیشتر جب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما رؤف حسن کی بھارتی میڈیا پرسن کرن تھاپر سے بات کرنے کی آڈیو لیک ہوئی تو ان پر ملک دشمن، غدار اور بھارت نواز جیسے الزامات لگائے گئے۔ان حالات میں یہ طے ہے کہ بھارت اور پاکستان کبھی ایک دوسرے کے دوست نہیں بن سکتے،اس خطے کے لوگوں کو دوست نہیں ایک دوسرے کا دشمن بنا کر ہی دونوں جانب کے حکمران سیاست کر سکتے ہیں۔

پانچ ہزار سالہ تہذیب کے امین بھارت کا مسلمان عرصہ 1947 سے آزمائش میں،بھارت دہکتے جہنم کی ماند، سرحد پار مسلمان کس اذیت میں زندگی گزار رہے ہیں اس کا ہمیں اندازہ ہے اور نہ ہی اندازہ کرنے کی ضرورت کیونکہ ہم آزاد ہیں بھارتی مسلمان پاکستانی مسلمانوں کے دل اور جگر کا حصہ ہیں جو وہاں رہ گئے ہیں،تاریخ جیسے تھم گئی ہو،یہ دہلی کا مضافاتی علاقہ ہے ایک شخص کو ہجوم پیٹ رہا ہے  ناک،منہ سے خون جاری، وہ ایک تبلیغی جماعت سے واپس آیا ہے،ہجوم کی طرف سے الزام ہے کہ یہ جہاد میں شریک تھا،

مہاراشٹر،کرناٹک،مدھیاپردیش ریاستوں میں ایسے پوسٹر جا بجا نظر آرہے ہیں جس میں مسلمانوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے راجستھان سے حکمران جماعتکے سرکردہ رکن گیان دیو آہوجہ نے فخریہ بتایا کہ اس نے گائے کشی  کے جرم میں پانچ مسلمانوں کو قتل کر دیا ہے،یوگی ادیتیہ ناتھ ایک پیشہ ور پنڈت جو امیت شاہ کے بعد مودی کے سب سے قریب مانا جاتا ہے،اس کا حکم ہے کہ مسلمان جہاں نظر آئیں گرفتار کر لو 23 خصوصی جیلیں مسلمانوں کے لیے تیار کیں،مسلمانوں کے صدیوں سے بسائے ہوئے شہر انکے نام تبدیل کیے جا رہے ہیں الہ آباد  پریاگ راج میں بدلا تو آگرہ  آگروان کہلایا جا رہا ہے،حد تو یہ ہے کہ آج کے بھارت میں مسلمان اداکار شاہ رخ،سلمان خان بھی اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں،

 کیا مسلمان شہری،کیا اداکار مودی کے ظلم سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہا بات اب تو مسلمان سیاستدانوں کے قتل عام تک آگئی ہے،اندرا گاندھی کے بھارت میں 1972 میں صرف ایک مسلمان سیاستدان  منظور الحسن خان (کمیونسٹ ا نڈیاپارٹی) چتراپور، جھارکھنڈ میں قتل ہوئے، آج کے اقلیت کش مودی کے بھارت میں صرف 2023-24  کے درمیانی عرصے میں چار بھاری مسلم مینڈیٹ رکھنے والے سیاستدان شہید کر دیے گئے،نئی دہلی 15 اپریل2023 کو سابق بھارتی پارلیمنٹیرین 60  سالہ عتیق احمد اور انکے بھائی ارشد کو  اس وقت گولیاں مار کے قتل کر دیا گیا جب وہ رات گئے طبی معائنے کے لیے پریاگ راج پولیس کی زیر نگرانی ہسپتال جا رہے تھے صحافیوں کے بھیس میں شوٹروں نے ؛جے شری رام؛کے نعروں میں متعدد گولیاں برسائیں، ایک ڈھٹائی کا حملہ لائیو ٹیلی وژن پر دیکھا گیا، اس سال مارچ  2024میں اتر پردیش  غازی پور سے  رکن پارلیمنٹ جیل میں بندسینئر مسلمان سیاستدان مختار انصاری28 مارچ کو بندہ کے ہسپتال میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تاہم انکے اہل خانہ کے مطابق انہیں جیل میں سلو پوائزن دیا جا رہا تھا جس کی وجہ سے انکی موت واقع ہوئی جیل میں چالیس روز قبل بھی مختار انصاری کو زہر دیا گیا، انڈیا کے شہرممبئی کے مصروف علاقے  باندرہ میں مسلمان سیاستدان کے قتل کے بعدپورے ملک میں خوف کی لہر دوڑ اٹھی،

ریاست مہاراشٹر میں اتحادی حکومت کے رکن، بالی وڈ کے صف اول کے اداکاروں سے دوستی کی وجہ سے مشہور، رمضان میں افطار پارٹیوں کے روح رواں،کرونا وبا کے دنوں میں انتہائی مطلوبہ ادویات کا بڑے پیمانے پر بندوبست کرنے والے،بہار کے گوپال گنج کے رہائشی 66 سالہ بابا ضیاء الدین صدیقی کو اس وقت گولیاں ماری گئیں جب وہ  اتوار کی رات اپنے بیٹے کے دفتر سے گھر کے لیے نکل رہے تھے،انہیں شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے، گرمیل سنگھ سمیت دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن کا تعلق لارنس بشنوئی گینگ (سدھو موسے والا کے قتل میں ملوث)سے ہے جس کا سرغنہ لارنس بشنوئی گجرات کی ہائی سکیورٹی جیل میں قید ہے، گھڑی ساز کے بیٹے سے وزیر بنبے تک کا سفر طے کرنے والے بابا صدیقی نے80 کی دہائی میں طالب علمی کے زمانے سے کانگرس میں شمولیت اختیار کی،یوتھ ونگ کے سربراہ،لوکل کونسل کی سیاست میں نام کمایا،مسلسل تین بار مہاراشٹر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے رواں سال فروری میں تقریبا  اڑتالیس سال بعد کانگرس سے اپنی راہیں جدا کر کے نیشلسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے  پارٹی چھوڑنے پر اپنے جواب میں صرف اتنا کہا؛کچھ چیزیں ان کہی رہ جاتی ہیں، میرا سفر اندرا،راجیو اور سنجے کے ساتھ تھا؛ 

بھارت میں مسلمان سیاستدانوں کا قتل سیاسی تاریخ کا سیاہ باب ہے اس قتل عام کو روکنے کے لیے مسلم امہ کے اتحاد کی اشد ضرورت ہے لیکن  سوال یہ ہے کہ امہ کہاں ہے؟بھارت کے بڑھتے مظالم پر مسلم امہ کو ڈھونڈنے والوں کی خدمت میں عرض ہے کہ غزہ کے مسلمانوں کے لیے امہ نے کیا کیا،یمن شام عراق  امہ کے انتظار میں آج کس دوزخ میں جل رہے ہیں،ایرانیوں عربوں کے درمیان کیا چل رہا ہے، بھارت مسلمان طاقتوں کی آنکھ کا تارا ہے کروڑوں اربوں کے اقتصادی معاہدوں کے لالچ میں کہیں مودی کو خوش کرنے کے لیے مندر تعمیرہو رہے ہیں تو کہیں تمغے دیے جا رہے ہیں یہ ممالک اگر ہلکا سا اشارہ بھی کریں تو بھارت،بھارتی مسلمانوں کے لیے اپنا رویہ تبدیل کرنے میں دیر نہیں کرے گا لیکن شاید؛ خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک؛ اقبال فرماتے ہیں!

چین وعرب ہمارا ہندوستاں ہمارا  مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا

 توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے، آساں نہیں مٹانا نام ونشاں ہمارا

Exit mobile version