“Mark Teli and the Art of Credible Broadcasting at BBC”بھٹو کی پھانسی کی کوریج کرنے والا صحافی

“Mark Teli and the Art of Broadcasting at BBC”بھٹو کی پھانسی کی کوریج کرنے والا صحافی, ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

مارک ٹلی 25 برس تک بی بی سی کے ساتھ وابستہ رہا، اُن کا شمار جنوبی ایشیا کے ممالک کی کوریج کرنے والے بڑے صحافیوں میں ہوتا تھامارک ٹلی نے بھٹو کی پھانسی اور بابری مسجد کے انہدام جیسی سینکڑوں کہانیاں لوگوں تک پہنچائیں

مارک ٹلی کا شمار دُنیا کے معروف صحافیوں میں ہوتا تھا ,اُنھیں انڈیا میں ’بی بی سی کی آواز‘ سمجھا جاتا تھا۔

“Mark Teli and the Art of Credible Broadcasting at BBC”بھٹو کی پھانسی کی کوریج کرنے والا صحافی

مارک ٹلی سنہ 1935 میں کولکتہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے والد ایک تاجر تھے جبکہ اُن کی والدہ کی پیدائش بنگال میں ہوئی تھی۔اُن کا خاندان کئی نسلوں سے انڈیا میں کاروبار سے منسلک تھا۔مارک ٹلی کی پرورش ایک انگریز آیا نے کی، جنھوں نے ایک مرتبہ اُنھیں خاندانی ڈرائیور کی نقل کرتے ہوئے ہندی میں گنتی سنانے پر ڈانٹ کر کہا کہ ’یہ تمہاری نہیں بلکہ ملازموں کی زبان‘ ہے۔لیکن آخر کار وہ روانی سے ہندی بولنے لگے اور اُن کا شمار روانی سے ہندی بولنے والے غیر ملکی صحافیوں میں ہونے لگا۔

روانی سے ہندی بولنے کی وجہ سے وہ انڈیا میں تیزی سے مقبول ہوئے اور اُنھیں ’ٹلی صاحب‘ کے نام سے پکارا جانے لگا۔انڈیا کے لیے ان کی محبت نے انھیں ملک کے سیاست دانوں، ایڈیٹروں، سماجی کارکنوں اور اعلی عہدے داروں کے قریب کیا۔

“Mark Teli and the Art of Credible Broadcasting at BBC”بھٹو کی پھانسی کی کوریج کرنے والا صحافی
بی بی سی میں سفر کی داستان انتطامی افسر سے مایہ ناز نامہ نگار تک

دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد نو سال کی عمر میں اُنھیں تعلیم کے لیے برطانیہ بھیجا گیا۔ اُنھوں نے کیمبرج میں تاریخ اور مذہب کی تعلیم حاصل کی۔اُنھیں 1965 میں بی بی سی کے لیے انڈیا بھیجا گیا۔ پہلے وہ ایک انتظامی معاون کے طور پر کام کرتے رہے لیکں وقت کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے رپورٹنگ بھی شروع کر دی۔

اُن کے بولنے کا انداز غیر معمولی تھا، لیکن انڈیا کے ساتھ اُن کے تعلق نے بہت جلد اُنھیں ترقی کی نئی منازل تک پہنچایا۔سنہ 2016 میں اُنھوں نے ایک انڈین اخبار کو بتایا کہ ’اس ملک کے سیکولر کلچر کو اہمیت دینا، ہر مذہب کو پنپنے کی اجازت دینا واقعی اہم ہے۔ ہمیں ہندو اکثریت پر اصرار کر کے اسے خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔‘

“Mark Teli and the Art of Credible Broadcasting at BBC”بھٹو کی پھانسی کی کوریج کرنے والا صحافی

مارک ٹلی نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف عدالتی کارروائی کی بھی کوریج کی تھی

مارک ٹلی کے بقول ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے پہلے اور بعد کے معاملات کی کوریج نے اُنھیں بہت شہرت دی۔ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی کوریج سے متعلق اُن کا کہنا تھا کہ ’ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے جڑے واقعات میری کہانی نہیں تھی، یہ بھٹو کی کہانی تھی۔ لہٰذا جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ میں بہت بڑا صحافی ہوں تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں میں مغرور نہ ہو جاؤں۔‘

“Mark Teli and the Art of Credible Broadcasting at BBC”بھٹو کی پھانسی کی کوریج کرنے والا صحافی

اپنے کریئر کی سب سے بہترین سٹوری سے متعلق پوچھے گئے سوال پر مارک ٹلی کا کہنا تھا کہ ’میں نے بی بی سی کے لیے کراچی سے درہ خیبر تک ٹرین کے سفر کے بارے میں ایک فلم بنائی۔ پشاور سے درہ خیبر تک تاریخی ریلوے لائن کئی سالوں سے بند تھی۔ ہم نے پاکستان ریلوے سے اسے دوبارہ کھولنے کی درخواست کی اور اُنھوں نے اس پر اتفاق کیا۔‘

مارک ٹلی خبر کی تلاش میں پاکستان اور بنگلہ دیش کا بھی تواتر سے سفر کرتے تھے۔

اُنھوں نے دہلی میں بی بی سی کے بیورو کے سربراہ کے طور پر 20 سال سے زیادہ عرصہ گزارا، جس میں نہ صرف انڈیا بلکہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سے رپورٹنگ بھی اُن کی ذمے داریوں میں شامل تھی۔

اُنھوں نے بنگلہ دیش کے قیام، پاکستان میں فوجی حکمرانی کے ادوار، سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کی بغاوت اور افغانستان میں سوویت یونین کے حملوں کے دوران بھی رپورٹنگ کی۔

تفصیلاہم کام / خصوصیاتپہلو
مارک ٹیلیبی بی سی کے اینکرنام
صحافی / نیوز اینکرمعتبر رپورٹنگ اور تجزیہپیشہ
بین الاقوامیبی بی سی نیوز پر عوامی اعتمادشہرت
واضح بیان، سنجیدہ رپورٹسخبروں کی درستگی اور شفافیتخصوصیات
“Mark Teli and the Art of Credible Broadcasting at BBC”بھٹو کی پھانسی کی کوریج کرنے والا صحافی
جب مشتعل ہجوم نے بابری مسجد کے انہدام کے دوران ٹلی کو یرغمال بنا لیا

دسمبر 1992 میں مارک ٹلی کو اُس وقت مشکل صورتحال سے گزرنا پڑا جب ہندو کار سیوک تاریخی بابری مسجد کو گرانے کے لیے جمع ہونا شروع ہوئے۔

مارک ٹلی بھی کچھ دیگر غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ ہندو انتہا پسند ویشوا ہندو پریشد اس معاملے پر بی بی سی کی کوریج سے خوش نہیں تھی۔ہجوم میں شامل کچھ افراد نے ’مارک ٹلی مردہ باد‘ جیسے نعرے بھی لگائے اور اُنھیں دھمکیاں بھی دی گئیں۔کارسیوکوں کے ایک گروپ نے دشرتھ محل مندر کے قریب مارک اور دیگر صحافیوں کو گھیر لیا اور اُنھیں یرغمال بنا لیا۔ خوش قسمتی سے مندر کا پجاری مارک کو جانتا تھا، جو کارسیوکوں کو انھیں رہا کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب رہا۔

امریش پوری کے ساتھ فلم کی خواہش

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں مارک ٹلی کا کہنا تھا کہ وہ انڈین فلموں کے شوقین ہیں جبکہ اوم کارہ اور تارے زمین پر اُن کی پسندیدہ فلموں میں شامل ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’جب مجھے نائٹ کا اعزاز ملا تو صحافیوں نے مجھ سے پوچھا کہ میری اور کیا خواہشات ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں ہندی فلم میں ایک چھوٹا سا کردار کرنا چاہتا ہوں، لیکن اس میں امریش پوری کو ہونا چاہیے۔‘مارک ٹلی کے بقول کچھ روز بعد اُنھیں امریش پوری کا فون آیا اور اُنھوں نے کہا کہ آپ کی خواہش جلد پوری ہونے والی ہے۔ لیکن افسوس کہ اس کے فوری بعد امریش پوری وفات پا گئے۔

مارک ٹلی کو ملنے والے دو بڑے اعلی سول اعزازات 

مارک ٹلی کو انڈیا کے دو بڑے اعلی سول اعزازات پدما شری اور پدم بھوشن سے نوازا گیا۔ سنہ 2002 میں اُنھیں صحافتی خدمات پر برطانوی حکومت نے نائٹ ہڈ ایوارڈ سے بھی نوازا۔

’بی بی سی کی آواز مارک ٹلی 90 برس کی عمر میں وفات پا گئے

Leave a Comment