Site icon tazzakhabren.com

“The Life and Legacy of Nawaz Sharif in Pakistani Politics” تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہ چکے لیکن کبھی بھی اپنی مدت پوری نہ کر سکے 

"The Life and Legacy of Nawaz Sharif in Pakistani Politics" تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہ چکے لیکن کبھی بھی اپنی مدت پوری نہ کر سکے

“The Life and Legacy of Nawaz Sharif in Pakistani Politics” تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں لیکن کبھی بھی اپنی مدت پوری نہ کر سکے ,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

 بے پناہ ذہانت،فراست و معاملہ فہمی، تاریخ کا گہرا شعور  حال کا ادراک  مستقبل کے لیے ذہن سازی،ہر لمحہ بدلتے وقت کے تقاضوں سے آگہی،معیشت کی حرکیات، مفاہمت مزاحمت کے مفادات،سیاسی تنظیم سازی،خطابات کا فن، جلسے جلوس دھرنے لانگ مارچ کے بیچ کا فرق،گرفتاری  رو پوشی کی آنکھ مچولی،دلیل کا ہنر، سفارت کے آداب،تقریر اور مکالمے کی ہیئت کے ساتھ  سیاست دنیا کا مشکل ترین پیشہ ہے۔
ایک ریاستی اہلکار جب اپنی مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائر ہوتا ہے ایک سیاستدان اتنے عرصے میں کارکن سے مدبرّ کے درجے پر پہنچتا ہے ونسٹن چرچل 65  برس کا ہوا تو برطانیہ کا وزیر اعظم بنا،جواہر لال نہرو 58  کے پیٹے میں بھارت کے پہلے پردھان منتری بنے، جوبائیڈن کو یہاں تک پہنچنے میں 79 سال لگے، ہمارے دستور چونکہ دنیا سے الگ ہیں  اس لیے ہماری تاریخ بھی الگ ہے بھٹو جیسا عظیم لیڈرعدالتی قتل کے نتیجے میں 51  سال کی عمر میں تختہ دار پر چڑھا دیا  انکی بیٹی  54 کو پہنچی تو خاک و خون میں نہلا دی گئی،حسین شہید سہروردی 66  کے ہوئے تو ایوب کے عتاب کا نشانہ بنے،56 سالہ لیاقت علی خان کو راولپنڈی لیاقت باغ میں اندھی گولی نگل گئی

پاکستانی سیاست اور نواز شریف

نواز شریف پہلی مرتبہ 41  سال پھر 48  اور تیسری مرتبہ 64 سال کی عمر میں ملک کے بارھویں، چودھویں اور بیسویں وزیر اعظم بنے،21اکتوبر 2023 میں جب نواز شریف وطن واپس لوٹے تو انکی عمر 73 سال ہو چکی تھی، معزولی  جلاوطنی  قید  عمر عزیز کے 24 سال کھا گئی۔جیسے سونے کو کندن بننے میں ماہ و سال لگتے ہیں ایسے ہی سیاست کے پودے کو تدبر کا درخت بننے میں سالوں کی ریاضت درکار ہوتی ہے،ہماری آفت طبع طبیعت میں انتظار کہاں!دیوان کھیم چند کی 25 کلومیٹر پر واقع لاہو شہر کی پہلی جدید اور منظم بستی ماڈل ٹاؤن سے اپنی سیاست کا آغاذ کرنے والے نواز شریف دولت بذریعہ سیاست اور سیاست بذریعہ دولت پر یقین رکھتے،جمہوری ڈکٹیٹر کا خواب دیکھنے والے محمد نواز شریف کو ملک کی قسمت بدلنے کے سب سے زیادہ مواقع ملے، اپنے ووٹ بنک کو37 سالوں میں مسلسل بڑھایا،وہ پرانی وضع کا سیاستدان،ٹھنڈا ٹھنڈا چلتا ہے مگر اسکی سیاست کی ٹائمنگ کمال کی، فی الحال بیٹی اور بھائی کی وجہ سے مفاہمتی بیانیے کو جاری رکھے ہوئے تھے،میاں جاوید لطیف نے بتایا ہے کہ اب باہر جا کر مزاحمتی ہوں گے،ایک ایسا سیاسی سوداگرکہ جن کی کک بیکس، کمیشنوں پر گوروں نے اپنی کتابوں میں خراج تحسین پیش کیا،مرکز اورپنجاب میں اپنی حکومت کے باوجود میاں صاحب اداس اور ناراض ہیں،دم سادے بیٹھے، مسکن یا تو جاتی امرا کے محلات ہیں یا مری کے ایوان بالا،آخر لندن سے تازہ ہوا کا جھونکا نصیب ہوا، دو مرتبہ وزیر اعلیٰ تین مرتبہ وزیر اعظم لیکن نصیب ایسے کہ اپنے ملک میں ایک بھی ڈاکٹر دستیاب نہ ہوا کہ میاں صاحب کا علاج کر سکے اور ایک وہ سشما سوراج کہ گردے فیل ہونے پر بیرون ملک علاج کے مشورے پر جواب؛میں علاج باہر سے کرواؤں گی تو میرے ملک کے لوگوں کا اپنے ڈاکٹروں، ہسپتالوں سے اعتبار اٹھ جائے گا مزید پیچھے دیکھیں تو قائد نظر آئیں ٹی۔بی  جان کا روگ،بستر مرگ پر،بیرون ملک علاج کی سہولت کے باوجود علاج اپنے ملک سے ہی کرواتے رہے۔

 نواز شریف تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں لیکن کبھی بھی اپنی مدت پوری نہ کر سکے پہلی دفعہ انہیں صدر غلام اسحاق خان نے بر طرف کر دیا دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنے تو محترمہ بینظیر کی مدد سے صدر کا اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم کر دیا لیکن اس مرتبہ جنرل مشرف نے آئین توڑ کر  انہیں حکومت سے نکال دیا تیسری بار ان کے خلاف سپریم کورٹ کو استعمال کیا گیا۔بینظیر کو دو مرتبہ اقتدار سے نکال گیا  دونوں مرتبہ سویلین صدور کا نشانہ بنیں انہیں فوج نے اقتدار سے علیحدہ نہیں کیا  جبکہ میاں نواز شریف دونوں مرتبہ فوج کے ہاتھوں اقتدار سے فارغ کیے گئے پہلی مرتبہ جنرل آصف نواز سے اختلافات ہوئے اور جنرل عبدالوحید کاکڑ نے انہیں اقتدار دے علیحدہ کر ادیا، دوسری مرتبہ پرویز مشرف کا نشانہ بنے، ہمیشہ فوج کا ٹارگٹ بنتے ہیں  فوج کی مدد سے اقتدر میں آتے ہیں لیکن مسند اقتدر پر بیٹھتے ہی فوج کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیتے ہیں 1990 میں الیکشن لڑا،جنرل اسلم بیگ کے حکم پر ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل نے آ ئی ایس آی  بنائی تھی جنرل اسد درانی نے باقاعدہ (14 کروڑ)رقمیں تقسیم کیں، نیازمند مثلث کی کاوشوں کے نتیجے میں نواز شریف وزیر اعظم بنے اور مختصر عرصہ ہی گزرا کہ انکے جنرل اسلم بیگ سے اختلافات شروع ہو گئے ان اختلافات کی بنا پر میاں صاحب نے جنرل اسلم کی ریٹائر منٹ سے دو ماہ پہلے ہی جنرل آصف نواز جنجوعہ کو آرمی چیف تعینات کر دیا،چھ ماہ  کے بعد جنرل آصف نواز سے بھی اختلافات کی خبریں آنا شروع ہو گئیں اختلافات اس قدر بڑھ گئے کہ جنرل آصف نے پارٹی کے 35  ارکان اپنے ساتھ ملا لیے، جنرل صاحب نواز شریف کو ہٹا کر بلخ شیر مزاری کو وزیر اعظم بنانا چاہتے تھے؛ان ہاؤس؛ تبدیلی سے پہلے جنرل صاحب ہارٹ اٹیک کے باعث انتقال کر گئے(فیملی نے جنرل صاحب کے بال لے کر ایک ٹیسٹ امریکہ سے کروایا جس کی رپورٹ کے مطابق موت کی وجہ خوراک میں سنکھیا کی اعلیٰ مقدار بتائی گئی)

اب میاں صاحب نے جنرل عبد الوحید کاکڑ کو آرمی چیف بنایا لیکن اسی کاکڑ نے چھ ماہ بعد نواز شریف سے ایوان صدر میں استعفیٰ لے لیا،جنرل جہانگیر کرامت نواز شریف کے پسندیدہ تھے لیکن ان سے بھی نبھ نہ سکی ان سے استعفیٰ لے لیا گیا اگلی باری جنرل پرویز مشرف کی تھی میاں شریف انہیں بیٹا کہتے بیٹے نے منہ بولے بھائیوں کو قید میں ڈال دیا،خودی کے نشے میں دو صدر مملکت،ایک چیف جسٹس اور ایک آرمی چیف کو آسانی سے پچھاڑ نے والی عقل نے دامن چھوڑا ہی تھا کہ 12  اکتوبر 1999  طلوع ہوا، مقدر میں جیل اور قید تنہائی کا ساتھ،اوسان تو خطا ہونے ہی تھے، 

پہلوتفصیلمدت / تاریخاضافی معلومات
مکمل ناممحمد نواز شریف25 دسمبر 1949لاہور، پاکستان میں پیدا ہوئے
سیاسی شروعاتپنجاب کی صنعت و کاروبار سے سیاست میں قدم1980sوالد محمد شریف ایک کامیاب کاروباری شخصیت تھے
وزیراعظم کی مدتتین بار پاکستان کے وزیراعظم1990–1993، 1997–1999، 2013–2017عدلیہ، فوج، اور سیاسی بحرانوں سے متاثر
اقتدار سے برطرفیعدلیہ اور پاناما لیکس کیس کے بعد نااہل2017عدلیہ نے بدعنوانی کے الزامات پر نااہلی دی
سیاسی جماعتپاکستان مسلم لیگ (ن)1985–حالپاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک کی قیادت کی
وفاتزندہ2026 تک سیاسی سرگرمیوں میں ملوث

سختی جھیلنا اور سختیوں میں ثابت قدم رہنا بڑے رہنماؤں کا طریق ہوتا ہے (کانوں کے کچے مگر دھن کے پکے قیدی804 ثابت کر دیا)فرانس کا نپولین  یاد آیا؛واٹر لو؛ میں آخری  ذلت آمیز شکست کے بعد جزیرے سینٹ ہیلنا میں قید تھا جیل کے انچارج نے اس کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے کہا کہ اگر تم مجھے درخواست لکھ دو تو میں جیل حکام سے تمہارے لیے  رعایت لے دوں گا، نپولین نے تاریخی جملہ کہا؛ حکمران درخواست نہیں دیتے وہ حکم دیتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں؛  خیر 10  دسمبر 2000 کی سرد خنک رات  گیارہ کا وقت اور پرویز مشرف کی ادائے خسروانہ  نواز شریف جدہ روانہ، سرور پیلس کو رونق بخشی، مقام قیام ٹھہرا،جلا وطنی میں مفاہمتی رہے، 2007 میں میاں صاحب پرویز مشرف دور میں آٹھ سال بعد وطن لوٹے  بھائی خادم اعلیٰ خود سیاست کے مزے لیتے رہے، اگلی دفعہ وزارت عظمیٰ کے تخت پر براجمان ہوئے پر ہونی ہو کر رہی دوسری بار نکالے گئے،جنرل راحیل شریف کے ساتھ بھی اختلافات اتنے شدید تھے کہ دونوں کے مابین رابطہ منقطع رہتا، جنرل باجوہ آرمی چیف بنے تو انہیں اور جنرل زبیر محمود کو پہلی ملاقات کے لیے بلایا  دفتر میں خود وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھے اور دونوں جرنیلوں کو میز کی دوسری جانب جگہ ملی تاثر یہ قائم کرنا تھا کہ میں  ؛باس؛ ہوں  سیاسی ماہرین  دہائیوں کی عرق ریزی کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ میاں صاحب کے فوج کے ساتھ اختلافات کی وجہ یہ ہے کہ وہ فوج کو پنجاب پولیس اور آرمی چیف کو آئی جی بنانا چاہتے ہیں میاں صاحب کا دل کرتا ہے کہ کور کمانڈر انکی مرضی کا ہو،جب چاہیں فارغ کر دیں اور جہاں چاہیں تعینات کریں لیکن پاک فوج اس طرز عمل پر کسی صورت راضی نہیں۔میاں صاحب اقتدار اور اختیار دونوں کے متمنی ہیں۔

ہنری کسنجر نے اپنی کتاب  میں چھ ایسے ورلڈ لیڈرز کے بارے میں لکھا جنہوں نے مشکل حالات میں مشکل فیصلے کر کے اپنے ممالک کو بہتری کی طرف دھکیلا اس فہرست میں شامل فرانس کے صدر ڈیگال نے دس سال کے مختصر عرصہ میں جدید فرانس کی بنیاد رکھی، مارگریٹ تھیچر برطانیہ کی آئرن لیڈی اپنے کارناموں کی بدولت کہلائیں مثلاً  فاک لینڈ کی جنگ میں فوری فتح،معاشی لبر لائزیشن کے پروگراموں کے ذریعے معاشی جمود کا خاتمہ، امریکہ کے متنازعہ صدر نکسن کی امریکہ چین کے درمیان سرد جنگ ختم کرنے کی کاوشیں، ہتھیاروں کا کنٹرول اور تخفیف اسلحہ کے اقدامات بڑھانے کے لیے مذاکرات،مصر کے انور سادات  جنہوں نے اسرائیل کے خلاف یوم کپور جنگ میں مصر کی قیادت کی،اسرائیل کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت سینائی کے 60,000  مربع کلومیٹر کے رقبے پر قبضہ کیا نیز انسانی زندگیوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچانے پر نوبل انعام کے حقدار ٹھہرے،سنگاپور کے وزیر اعظم  لی کوان یو، 1965 میں ملائیشیا سے سنگاپور کی بیدخلی کے بعد خودمختارریاست کے سربراہ بن گئے، معاشی و سلامتی کی نازک صورتحال سے ملک کو نکال کر صنعتی ترقی کے ساتھ پورے ایشیا میں سیاسی و اقتصادی ترقی کا ماڈل بنا دیا، جرمن چانسلر کونرنے جنگ کے بعد تباہ شدہ جرمنی میں بڑی عمر میں اقتدار میں آئے ملک میں معاشی معجزہ اور مستحکم جمہوریت کی بنیاد رکھی ہنری کسنجر نے انکی تعریف  ایک ایسے شخص کے طور پر کی جس نے مشکل حالات سے نکل کر جرمنی میں ایک نئی سیاسی روایت قائم کی۔لیڈر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ یہ اپنی غیر معمولی ذہانت  اور صلاحیتوں کے باعث مسائل کے سامنے ڈٹ جاتا ہے،عوام میں رہتا ہے اور عوام کے لیے سوچتا ہے

Exit mobile version