Site icon tazzakhabren.com

January,15 A Day in Historyتاریخ کے جھروکوں سے

January,15 تاریخ کے جھروکوں سے

January,15 A Day in History  تاریخ کے جھروکوں سے,ہمارے آج کے کالم کا موضوع  ہے

تاریخ انسان کا فکری سفرنامہ ہے، جس میں تہذیبوں کے عروج و زوال کے رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ ایک چراغ جو راستہ دکھاتا ہے، ایک آئینہ جو غلطیوں کا عکس واضح کرتا ہے۔جو قومیں اپنے ماضی کی گہرائیوں کو سمجھتی ہیں، وہی مستقبل کی بلندیوں کو چھو پاتی ہیں!

پاکستان کی تاریخ کے کئی قابل ذکر واقعات 15 جنوری کو پیش

1963- 15 جنوری کو: ذوالفقار علی بھٹو کااقوام متحدہ میں  معرکتہ الا آرا خطاب

اقوام متحدہ کی سلامتی میں وہ معرکتہ الا آرا خطاب کیاجسے پاکستان کی تاریخ کی بہترین تقریر تسلیم کیا جاتا ہے۔  انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں اورنہ ہی یہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ رہا۔ور بھارت کے درمیان متنازعہ علاقہ ہے حقیقت میں یہ بھارت سے کہیں زیادہ پاکستان کا حصہ ہے۔ کشمیر کے لوگ پاکستانیوں کا حصہ ہیں ہم ایک ہیں ہمارا تعلق خون کا تعلق ہے۔ ہم ایک جسم کی مانند ہیں ہمارا جینا مرنا ایک ساتھ ہے ہم ایک ہی خاندان اور قبیلہ ہیں۔الغرض ثقافت اور جغرافیےاورتاریخ ہر طرح اور ہر لحاظ سے کشمیری پاکستان کے عوام کا حصہ ہیں۔ ’’ہم ہزار سال تک جنگ لڑنے کیلئے تیار ہیں اوریہ ہماری بقاء کی جنگ ہے۔‘‘

پاکستان ٹیلی ویژن38 سے زائد ممالک تک رسائی حاصل کی

پاکستان ٹیلی ویژن نے اپنی نشریات کو جدت دیتے ہوئے 38 سے زائد ممالک تک رسائی حاصل کی، جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر پی ٹی وی ہوم، نیوز، سپورٹس اور گلوبل کی کوریج کو بڑھانا ہے۔

فائٹنگ فالکن طیاروں کی پہلی کھیپ 14-15 جنوری 1983 کو پاکستان پہنچی 

سرکاری شمولیت اور آمد کی تقریب کو 15 جنوری 1983 کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ ابتدائی بیچ: کل 6 طیارے پہلے بیچ میں تھے۔ وہ سرگودھا ایئر بیس (اب مصحف ایئر بیس) پر اترے تھے۔

الزبتھ اول کی تاجپوشی۔ الزبتھ ٹیوڈر کو ویسٹ منسٹر ایبی میں انگلینڈ اور آئرلینڈ کی ملکہ کا تاج پہنایا گیا۔

ایلزبتھ اول () انگلستان کی ملکہ جو ہنری ہشتم کی بیٹی اور مغل بادشاہ جلال الدین اکبر اور عباس اعظم کی ہمعصر تھی۔ اس کاعہد برطانیہ میں نشاۃ ثانیہ کا عہد ہے۔ برطانیہ کو اس کی فراست و تدبر سے عروج ہوا۔ ادب اور فنون کو ترقی ہوئی, برطانوی جہاز رانی کو فقید المثال کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ہسپانوی بیڑے کو تباہ کیا گیا۔ ہندوستان اور دیگر مشرقی ممالک میں تجارتی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ ان وجوہ کی بنا پر اس کے عہد کو(عہد زریں ) کہا جاتا ہے۔ 1559 الزبتھ ٹیوڈر کو ویسٹ منسٹر ایبی میں انگلینڈ اور آئرلینڈ کی ملکہ کا تاج پہنایا گیا۔

القذافی نے 1969 میں بادشاہت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا۔ اس کے بعد تقریباً 42 سال تک وہ لیبیا پر حکمران رہے۔ اس طویل دور میں انہوں نے لیبیا کو مغربی طاقتوں کے اثر سے آزاد رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔  ان کے دور میں لیبیا میں مفت تعلیم، مفت علاج، بجلی، پانی اور کم قیمت رہائش جیسی سہولتیں فراہم کی گئیں، جو اس بات کی علامت تھیں کہ وہ ملک کے وسائل کو عوام کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔

قذافی نے بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ 2011 میں جب بغاوت ہوئی تو انہیں ملک چھوڑنے کی پیشکش بھی ہوئی، مگر انہوں نے کہا کہ میں لیبیا کو نہیں چھوڑوں گا — اور آخرکار وہ اپنے ہی ملک میں مارے گئے۔

واقعہ (Event)سال (Year)
پیرس میں ایفل ٹاور سے طویل فاصلے کی پہلی ریڈیو نشریات بھیجی گئیں۔1908
ہیٹی اوفیلیا کیراوے پہلی خاتون بنیں جو امریکی سینیٹ میں منتخب ہوئیں۔1932
نیو یارک جیٹس نے سپر باؤل III میں تاریخی فتح حاصل کی۔1969
لیڈ زیپلن بینڈ نے اپنا پہلا البم جاری کیا۔1969
امریکی کانگریس نے عراق کو کویت سے نکالنے کا جنگی اختیار دیا۔1991
ہیٹی میں شدید زلزلہ آیا جس نے لاکھوں جانوں کو متاثر کیا۔2010

 عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود (ابن سعود) جدید سعودی عرب کے بانی اور پہلے بادشاہ تھے، جنہوں نے 1932ء میں مملکت قائم کی۔ وہ 15 جنوری 1877ء کو ریاض میں پیدا ہوئے،انہوں نے نجد و حجاز کو فتح کر کے متحد کیا ,ابن سعود نے طویل جدوجہد کے بعد جزیرہ نما عرب کے مختلف حصوں کو ایک پرچم تلے جمع کیا، جسے 1932ء میں باقاعدہ طور پر “مملکت سعودی عرب” کا نام دیا گیا۔ 

مارٹن لوتھر کنگ جونیئر (پیدائش: 15 جنوری 1929) امریکی شہری حقوق کی تحریک کے عظیم رہنما اور نوبل امن انعام یافتہ (1964) تھے، جنہوں نے پرامن جدوجہد کے ذریعے نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے کام کیا۔ ان کی یاد میں امریکہ میں ہر سال جنوری کے تیسرے پیر کو قومی تعطیل (مارٹن لوتھر کنگ ڈے) منائی جاتی ہے۔  4 اپریل 1968ء کو قتل کیا گیا۔

جمال عبدالناصرمصر کے دوسرے صدر  15 جنوری 1918ء کو مصر کے گاؤں بنی مور میں پیدا ہوئے۔ وہ مصر کے دوسرے صدر اور پین عرب (Pan-Arab) تحریک کے اہم رہنما تھے، جنہوں نے 1952ء کے انقلاب کے بعد اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے عرب اتحاد، یمن میں مداخلت، اور علاقائی سیاست میں مغربی اثر و رسوخ کے خلاف مزاحمت کی۔ 

Exit mobile version