January11,A Day in Historyواقعات بدل جاتے ہیں،مگر تاریخ کی گونج زندہ رہتی ہے۔,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
تاریخ وہ خاموش استاد ہے جو بغیر بولے انسانیت کو صبر، حوصلہ اور حقیقت کا سبق دیتی ہے۔
تاریخ کے اوراق میں وہ صدائیں محفوظ ہیں جو زمانوں کا رخ بدل دیتی ہیں۔
ماضی کی دھول میں چھپے واقعات آج کے فیصلوں کی روشنی بنتے ہیں۔وقت کے بہاؤ میں گم ہو جانے والے لمحے جب تاریخ بنتے ہیں تو آنے والی نسلوں کا مقدر بھی بدل دیتے ہیں۔تاریخ کا ہر صفحہ ایک آئینہ ہے،تتاریخ بتاتی ہے کہ ظلم کبھی قائم نہیں رہتا، اور سچائی ہمیشہ اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔تاریخ کی گونج ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔تو آئیے تاریخ میں جھانکتے ہیں
جنوری 11– پاکستانی تاریخ کے اہم واقعات
جنرل ضیاء الحق نے 11 جنوری 1982 کو اسلام آباد میں وفاقی کونسل (مجلس شوریٰ) کے پہلے اجلاس کا افتتاح کیا۔
مجلس شوریٰ 24 دسمبر 1981 کو ایک صدارتی حکم کے ذریعے قائم کی گئی تھی، جو صدر کے لیے ایک مشاورتی ادارے کے طور پر کام کرنے کے لیے ایک عبوری انتظام کے طور پر قائم کی گئی تھی جبکہ نمائندہ جمہوری اداروں کو مارشل لاء کے تحت معطل کر دیا گیا تھا۔ اس کے اراکین کو صدر نے نامزد کیا تھا اور اس نے سیاسی سرگرمی اور فوجی حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرنے کا کام کیا، حالانکہ اس کے پاس کوئی حقیقی طاقت نہیں تھی۔
گورنر جنرل غلام محمدکا یوم وفات
ملک غلام محمد پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل,ملک غلام محمد کی خراب صحت کے باعث نواب زادہ لیاقت علی خان نے انھیں ان کے عہدہ سے سبکدوش کرنے کا فیصلہ کیا مگر ان کی بے وقت شہادت نے ملک صاحب کے مقدر بدل دیے۔ اس طرح ملک غلام محمد پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل بنے۔ ان کا دورِ حکومت پاکستان میں بیوروکریسی کی سازشوں اور گٹھ جوڑ کا آغاز تھا۔ غلام محمد نے ہی طاقت کے حصول کے لیے بنگالی وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر کے مشرقی پاکستان کے عوام میں مغربی پاکستان کے خلاف بداعتمادی کا بیج بویا۔ یہ برطرفی غلام محمد اور فوج کے سربراہ ایوب خان کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں ممکن ہو سکی تھی,
بیماری وعلالت گورنر جنرل غلام محمد بلڈ پریشر، لقوے اور فالج کے مریض تھے ان کی کہی ہوئی باتیں سمجھنا مشکل اور دشوارتھا اس کے باوجود وہ اتنے بڑے عہدے پر رونق افروز تھے
پاکستان نے اس وقت تک عسکریت پسندوں کے تشدد کے لیے اپنے بدترین2009-10 کا سال
میں، پاکستان نے اس وقت تک عسکریت پسندوں کے تشدد کے لیے اپنے بدترین سال کا تجربہ کیا، 11 جنوری 2010 کی رپورٹوں کے مطابق، صرف دہشت گردانہ حملوں میں 3,000 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ ملک بھر میں پرتشدد ہلاکتوں کی کل تعداد، بشمول فوجی آپریشن، قبائلی جھگڑوں، اور سیاسی جھڑپوں، تقریباً 12,600 تک پہنچ گئی۔
عزیر جان بلوچ 11 جنوری 1979 کو لیاری، کراچی میں پیدا ہوئے
عزیر جان بلوچ، ایک پاکستانی گینگسٹر اور سابق کرائم لارڈ ہیں جن کا تعلق کراچی، پاکستان سے ہے, وہ کراچی انڈرورلڈ اور اپنے آبائی علاقے لیاری میں 2012 کے میں ہونے والی بدنام زمانہ گینگ وار کا ایک اہم شخصیت تھا۔ بلوچ قتل، بھتہ خوری، منشیات فروشی، دہشت گردی کے مختلف مقدمات میں ملزم ہے اور متعدد بار گرفتار ہونے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب اورمفرور بن گیا۔اپنے بااثر تعلقات کی وجہ سے، یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ بلوچ کو سیاسی سرپرستی حاصل تھی اور پی پی پی نے انھیں الزامات کا سامنا کرنے سے “محفوظ” کیا تھا لیکن بالآخر وفاقی حکام کی مداخلت کے بعد گرفتار کر لیا گیا
جنوری 11 – بین الاقوامی تاریخ کے اہم واقعات
جنوری 1989 -11کو، امریکی صدر رونالڈ ریگن کا قوم سےالوداعی خطاب
جنوری 1989 -11کو، امریکی صدر رونالڈ ریگن نے اوول آفس سے قوم کے نام اپنے الوداعی ٹیلیویژن خطاب میں، دو دہائیوں سے جاری “پہاڑی پر چمکتے شہر” کے تصور کو دہرایا۔ انہوں نے اسے ایک روشن، آزاد اور مہمان نواز امریکہ کے طور پر پیش کیا، جو سرد جنگ کے خاتمے اور عالمی اثر و رسوخ کے پس منظر میں ان کے دور صدارت کا ایک اہم نظریہ تھا۔
| اثر / نتائج | اہم شخصیات | واقعہ | عرصہ / سال |
|---|---|---|---|
| انسانی ترقی کا آغاز | ابتدائی انسان،معمار | تہذیبوں کی بنیادیں (میسوپوٹیمیا، وادیِ سندھ) | قدیم دور |
| ثقافتی تبادلہ اور نئی حکمرانی | سلاطین،علماء | فتوحات اورسلطنتوں کاعروج | قرونِ وسطیٰ |
| معاشی و سائنسی ترقی | سائنس دان،مخترعین | صنعتی انقلاب | جدید دور |
| عالمی سیاست کی نئی تشکیل | عالمی رہنما،فوجی کمانڈر | دو عالمی جنگیں | بیسویں صدی |
| دنیا کا تیزی سے جڑنا اور بدلاؤ | موجد، ماہرینِ آئی ٹی | ٹیکنالوجی کا دور | اکیسویں صدی |
ے 1972ء میں باضابطہ طور پر اپنا نام “بنگلہ دیش” (بنگال کا دیس) رکھا
دسمبر 1971ء کو سقوطِ ڈھاکہ کے بعد، مشرقی پاکستان نے پاکستان سے علیحدگی اختیار کر کے 1972ء میں باضابطہ طور پر اپنا نام “بنگلہ دیش” (بنگال کا دیس) رکھا۔ یہ ایک خونریز جنگِ آزادی کے نتیجے میں وجود میں آیا جس میں بھارت نے بھی مداخلت کی تھی۔
تاریخی پس منظر: 1947ء میں یہ حصہ مشرقی بنگال اور پھر مشرقی پاکستان کہلایا۔اعلانِ آزادی: 26 مارچ 1971ء کو آزادی کا اعلان کیا گیا۔سقوطِ مشرقی پاکستان: 16 دسمبر 1971ء کو پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈالے۔نئی شناخت: 1972ء میں یہ ایک الگ خودمختار ریاست کے طور پر مکمل طور پر بنگلہ دیش کے نام سے جانی گئی۔
اصل سر زمین چین میں کورونا وائرس کی وبا
نوری 11-2020ء مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ 31 دسمبر 2019ء کو، وائرس کی وجہ سے صوبہ ہوبئی کے دار الحکومت ووہان میں، محکمہ صحت کے حکام کو نامعلوم نمونیا کے واقعات کی اطلاع ملی تھی اور اس بیماری کی تحقیقات اگلے مہینے کے اوائل میں شروع ہوگئیں۔ ان متاثرہ افراد کی زیادہ تعداد کا تعلق، سمندری جانوروں کے ایک بازار سے تھا، جہاں زندہ جانوروں کا کاروبار ہوتا ہے، اسی وجہ سے یہ کہا جا رہا ہے کہ وائرس کی وجہ زونوٹک ( zoonotic) ہے۔2020 کے اوائل اور وسط جنوری میں، چینی کے دوسرے صوبوں میں بھی یہ وائرس پھیل گیا اور اس میں نئے چینی سال کی آمد نے اہم کردار ادا کیا، ووہان چین میں نقل و حمل کا مرکز اور ریلوے کا ایک اہم مقام ہے، جس وجہ سے متاثرہ افراد تیزی سے پورے ملک میں پھیل گئے۔ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 20 جنوری 2020ء تک 6،174 افراد میں پہلے ہی علامات ظاہر ہو چکیں تھیں

