January 27: When Time Paused to Write Historyتاریخ کے اوراق میں رقم ایک دن

January 27: When Time Paused to Write Historyتاریخ کے اوراق میں رقم ایک دن,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے

تاریخ ,یہ وقت کی آنکھ میں ٹھہرا ہوا خواب نہیں۔یہ تخت و تاج کے قصّے، یہ مٹی کی صدائیں،یہ ظلم کے اندھیروں میں جلتی ہوئی وفائیں۔کبھی یہ فاتح کے ہاتھ میں شمشیر بن گئی کبھی یہ مظلوم کی آنکھ میں تفسیر بن گئی۔جو سمجھ سکا اس نے راہِ فردا سنوار لی جو بھول بیٹھا، اس نے اپنی خطا دہرا لی۔

عظیم انقلابی تیتو میر کی پیدائش

بنگال کے مشہور حریت پسند سید میر نثار علی، جو تیتو میر کے نام سے مشہور ہیں، اسی دن 27جنوری 1782پیدا ہوئے۔

انھوں نے برطانوی راج اور استحصالی زمینداروں کے خلاف کسانوں کی تحریک کی قیادت کی تھی۔ اگرچہ ان کا تعلق بنگال سے تھا، لیکن تحریکِ آزادیِ ہند میں ان کی خدمات کو پاکستان کی تاریخ کے تناظر میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

نازی کیمپ کی آزادی

27 جنوری 1945 کو سوویت فوجیوں نے پولینڈ میں واقع نازیوں کے سب سے بڑے حراستی کیمپ ‘آشوٹز-برکیناؤ’ کو آزاد کرایا  جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 10 لاکھ یہودیوں سمیت 15 لاکھ انسانوں کا قتل نازیوں نے کیا گیا تھا۔۔ اس دن کو اب عالمی سطح پر ہولوکاسٹ کی یاد میں بین الاقوامی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

علی ابن ابی طالب قتل

چوتھے خلیفہ راشد اور اہل تشیع کے پہلے امام علی بن ابی طالب پر خارجی ابن ملجم نے 26 جنوری 661ء بمطابق 19 رمضان، 40ھ کو کوفہ کی مسجد میں زہر آلود تلوار کے ذریعہ نماز کے دوران میں قاتلانہ حملہ کیا۔ اس حملہ کی وجہ سے علی زخمی ہوئے، اگلے دو دن تک آپ زندہ رہے لیکن زخم گہرا تھا، چنانچہ جانبر نہ ہو سکے اور 21 رمضان 40ھ کو وفات پائی۔[1] آپ تیسرے خلیفہ تھے جن کو خلافت کے دوران قتل کیا گیا، آپ سے پہلے عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان کو قتل کیا جا چکا تھا۔

اسماء جہانگیر کی پیدائش 

پاکستان کی معروف انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل اسماء جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں ملک جیلانی کے گھر پیدا ہوئیں۔انہوں نے کنیئرڈ کالج سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ عاصمہ جہانگیر آمریت، انسانی حقوق کی پامالی اور عدلیہ کی بحالی کے لیے بے باک جدوجہد کے لیے جانی جاتی ہیں۔ وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی حقوق انسانی کے لیے بلند آواز سمجھی جاتی تھیں ,وفات 11 فروری 2018 (لاہور)

خلاصہاہمیتمثالعنوان
ماضی کے واقعات کا ریکارڈقوموں کو شعور اور سمت دیتی ہےقدیم تہذیبیںتاریخ
کامیابیوں اور ناکامیوں سے سیکھنامستقبل کی منصوبہ بندی میں مددجنگیں، معاہدےسبق
ثقافت، زبان اور روایات کی منتقلیشناخت اور پہچان کا ذریعہتاریخی عمارتیںوراثت
پرانے شواہد کا مطالعہحقائق جاننے کا ذریعہآثارِ قدیمہتحقیق

Leave a Comment