,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے,Is Regime change possible in Iranکیا ایران میں رجیم چینج ممکن ہے
سی۔آئی۔اے ریاستہائے متحدہ امریکہ کا جاسوسی کا ادارہ ہے جو اندرون اور بیرون ملک ریاست کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے1947 میں قا ئم ہونے والا یہ خود مختار ادارہ صدر یا کانگرس کو جواب دہ نہیں،سابق امریکی صدر جان ایف کینڈی نے بیان دیا تھا کہ وہ سی۔آئی۔اے کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہوا میں اڑا دینا چاہتا ہے ٹھیک ایک ماہ بعد کینڈی کو گولی مار کر مار ڈالا گیا یہ تنظیم بیرون ملک کئی عقوبت خانے چلاتی ہے۔
طاقت کا اصل سرچشمہ عوام کے ساتھ جمہوری نظام کسی بھی معاشرے کا حسن کہلاتا ہے لیکن اس نظام میں بنیادی خرابی یہ ہے کہ کبھی کبھی عوام ایسے حکمران کا انتخاب کر لیتی ہے جو اپنے ملک کے وسائل کوعالمی سرمایہ دارانہ چنگل سے چھڑا کر حریت، خود مختاری اور وقار کا درس دینے لگتا ہے،ایسا لیڈر بہت جلد نا صرف اپنے ملک کے حکمرانوں بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی چیلنچ بن جاتا ہے اس صورت میں امریکہ اور دوسری عالمی طاقتیں اس کے خلاف متحد ہو کر اسے بدلنے کا اعلان کرتیں ہیں،بوٹوں کی دھمک،سیاسی عہدوں کا لالچ یہاں تک کہ اربوں ڈالر کرنسی اس رجیم چینج آپریشن میں جھونک دی جاتی ہے۔بعض صورتوں میں امریکہ کو اپنی فوج بھی اس ملک میں اتارنی پڑے تو گریز نہیں کیا جاتا
امریکہ بہادر سی۔آئی۔اے کے فیصلے کے پیش نظر جب بھی کسی ملک میں قائم حکومت کو ختم کرنے کی کوششوں کا آغاز کرتا ہے تو پوری ریاستی مشینری کو اعتماد میں لیا جاتا ہے،جمہوری نمائندوں کو باور کروایا جاتا ہے کہ چونکہ امریکہ اپنی راستبازی اور اصول پسندی کی وجہ سے سپر پاور کا درجہ رکھتا ہے نیز اس کے فرائض میں شامل ہے کہ فلاں ملک کا موجودہ حکمران جو عالمی امن کے قیام اور امریکی معیشت کے استحکام کی راہ میں رکاوٹ کا باعث ہے فی الفور تبدیل کر دیا جائے سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہماری کارپوریشنوں کو اپنے ملک میں پیدا ہونے والی معدنیات بیچنے سے انکا ر کر رہا ہے اگر وہ ایسا کرے گا تو امریکی معیشت ڈوب جائے گی،لاکھوں لوگ بیروزگار ہو جائیں گے، نامزد کردہ گستاخ حکمران کی تبدیلی کے اعلان پر نہ صرف جمہوری اراکین کانگرس ڈیسک بجا کر حمایت کا اعلان کرتے ہیں بلکہ کٹر عیسائی رجحانات رکھنے والے امریکی سینیٹر اس کاروائی کا جواز انجیل مقدس کی آیات سے نکالتے رہتے ہیں
Is Regime change possible in Iran کیا ایران میں رجیم چینج ممکن ہے
تاریخ کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ جاسوسی کے ادارے کا آغاز 1893 میں ہوا جب امریکہ نے پڑوسی جزیرے ہوائی میں اپنی فوجیں اتاریں ملکہ لیلوکلانی اس جیم چینج آپریشن کا پہلا ہدف بنیں۔پانچ سال بعد1898 میں ہمسایہ ملک پورٹوریکو میں سپین سے آزادی کے نام پر شب خون مارا گیا اور پھر اگلے ہی سال اسی ترتیب کو لے کر امریکی فوجیں سپین میں داخل ہو گئیں 1908 کے آتے آتے تین اور ممالک ہیٹی،دومینکن ریپبلک اور نکاراگوا میں رجیم چینج آپریشن کے ذریعے حکومتیں بدلی گئیں۔ اب تک تقریبا 72 کے قریب ممالک میں امریکہ رجیم چینج آپریشن کے ذریعے حکومتوں کی تبدیلی کا شوق پورا کر چکا ہے۔
حکومت کی تبدیلی کی جدید مثالوں میں 2001 میں ملا ّعمر کی طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے بیس سال تک افغانستان کے درودیوار خون میں ڈوبے رہے بد ترین شکست کے بعد عالمی قوتیں بوریا بستر سمیٹ کر رخصت ہوئیں۔یکم نومبر 2000 میں صدام حسین نے اعلان کیا کے اگلے ماہ سے اپنا تیل ڈالر کی بجائے یورو میں فروخت کرے گا یعنی ملک میں ڈالر کی حکمرانی ختم، اس گستاخی کی سزا 2003 میں عراق پر حملے اور پھر صدام حسین کی پھانسی کی صورت میں دی گئی،لیبیا کے صدر معمر قزافی نے عالمی سودی نظام کے برعکس اپنے ملک کی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا دریا بنانے کے لیے133 ارب ڈالر کا سرمایہ لیبیا کے سنٹرل بینک سے بغیر سود کے قرضے کے طور پر فراہم کرنا ہی اسکا سب سے بڑا جرم ثابت ہوا،فرانس کے صدر سرکوزی نے قزافی کو وہی دھمکی دی جو ہنری کسنجر نے بھٹو کو دی تھی؛ہم تمہیں نشان عبرت بنا دیں گے؛نیٹو کے طیاروں نے اریگیشن سسٹم تباہ کر دیا،کرنل قزافی کی لاش کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا،2022 میں پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کا جو عمل دہرایا گیا اس میں ان تمام عوامل کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا جن کا آغاز 1893 میں ہوا
Is Regime change possible in Iranکیا ایران میں رجیم چینج ممکن ہے
https://tazzakhabren.com/latest-updates-about-the-joint-us-israel-attack-on-iran/تازہ صورتحال کی بات کریں تو اسلامی ممالک میں ایران پہلا ایسا ملک تھا جو 1953 میں امریکی ہدف کا نشانہ بنا اس عرصے میں ملک میں تیل دریافت ہو چکا تھا شاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے ایک اینگلوایرانی کمپنی کو تیل کے کنویں سے تیل نکالنے کی اجازت بھی دے رکھی تھی،جب امریکی اور برطانوی کمپنیاں تیل کے ذخائر پر قابض ہونے کے خواب دیکھ رہی تھیں تو ایرانی عوام کو مصدق کی شکل میں ایک ایسا لیڈ ر میسر ہوا جو مغربی طاقتوں سے نہ مرغوب تھا نہ انکے زیر سایہ حکومت کرنے کا خواہشمند،اقتدار میں آکر اینگلو ایرانی کمپنی کو قومی ملکیت میں لے لیا جائے گا کے نعرے کے ساتھ 1951 میں 12 کے مقابلے میں 79 ووٹوں سے وزیر اعظم منتخب ہوا حلف اٹھانے کے دو دن بعد تیل کمپنیوں کو قومی ملکیت میں لے لیا گیا جس نے امریکہ اور یورپ کو غضبناک کر دیا بیشمار فلاحی منصوبوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔امریکی وزیر خارجہ جان فاسٹر ڈلس اور CIA کے سربراہ ا یلن ڈلس دو سگے بھائی تھے مارچ 1953 میں وزیر خارجہ نے اپنے بھائی کو حکم دیا کہ مصدق کو راستے سے ہٹایا جائے،امریکی صدر روزویلٹ کا پوتا کریمٹ روز10 لاکھ ڈالر لے کر تہران پہنچا،رضا شاہ پہلوی اور دوسرے حکمرانوں کو سرمائے سے خریدنا شروع کر دیا تا کہ مصدق کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا جائے، شاہ کی بہن اشرف پہلوی کو کثیر سرمایہ موٹی فر والے کوٹ میں چھپا کر شاہی محل میں دیا گیا، نے فوج کی مدد سے حکومت کا تختہ الٹ دیا،مصدق کو تین سال کے لیے جیل میں ڈال دیا گیا بعد میں تا دم مرگ گھر میں https://tazzakhabren.com/irans-supreme-leaderayatollah-khomeini/نظر بند رہے۔
(موجودہ امریکہ اسرائیل جنگ کے تناظر میں)اب طاقت کے نشے میں بدمست ہاتھیوں نے تہران پر آگ کی بارش برسا دی،جنرل قاسم سلیمانی، اسماعیل ہانیہ جیسے بڑے لیڈروں کے بعد چھیاسی سالہ سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے پورے عالم پر سوگ کی چادر اوڑ دی ہے۔پچاس کی دہائی سے جاری رجیم چینج کا نیا تحفہ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے چشم و چراغ کی صورت میں میسر ہے ,دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے
میری بستی سے پرے بھی میرے دشمن ہوں گے،پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا
آشنا ہاتھ ہی اکثر میری جانب لپکے،میرے سینے میں میرا اپنا ہی خنجر اترا

