Imaan Mazari,Hadi Chattha sent to jail on judicial remand following arrest in Islamabadاختلافِ رائے کی ایک اور آزمائش,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
اسلام آباد پولیس نے جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو وفاقی دارالحکومت سے حراست میں لے لیا تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ انھیں کس مقدمے میں حراست میں لیا گیا ہے۔جس وقت پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیا اُس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکریٹری بھی گاڑی میں ایمان اور ہادی کے ساتھ موجود تھے۔
گرفتاری سے بچنے کے لیے ایمان مزاری اور اُن کے شوہر نے گذشتہ تین راتیں اسلام آباد ہائی کورٹ کی حدود میں ہی گزاریں تاہم جمعہ کی صبح انھیں عدالت کے احاطے سے نکلنے کے کچھ دیر بعد حراست میں لے لیا گیا۔یاد رہے اسلام آباد ہائی کورٹ نے چند روز قبل سپیشل جج سینٹرل کی طرف سے جاری کردہ ایمان اور ہادی کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے تھے۔
صحافی مطیع اللہ جان نے ایکس پر لکھا ’ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ اگر بار کے عہدیداران ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ایڈوکیٹ ہادی علی چٹھہ کو اپنی حفاظت میں بینچ اور انصاف تک رسائی نہیں دے سکے تو پھر وکلا برادری کے لیے یہ ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔‘
صحافی ماریانا بابر نے ایکس پر لکھا ’عدلیہ پھر ناکام ہو گئی۔ اپنے ہی قوانین کو پامال کرتے ہوئے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔‘
ایمان مزاری کی والدہ اور سابق پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ ’ایمان اور ہادی کو گرفتار کر کے الگ الگ گاڑیوں میں بیٹھا کر نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور گرفتاری سے قبل انھیں کوئی ایف آئی آر نہیں دکھائی گئی، بدقسمتی سے (اسلام آباد) بار کچھ نہ کر سکی۔ یہ فسطائیت کا عروج ہے۔۔۔‘
ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی گرفتاری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہیں اور ان کی گرفتاری موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔
صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار واجد گیلانی نے ایمان اور ہادی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے وکلا برادری سے مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔
خیال رہے چند روز قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ کے خلاف درج ایک مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کو ملزمان کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔
متنازع ٹویٹس کیس: ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر کیا الزامات ہیں؟
واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن اتھارٹی کے سب انسپیکٹر کی مدعیت میں ایمان مزاری، ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ اور چند دیگر افراد کے خلاف مقدمہ 22 اگست کو درج کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا یہ عمل ریاست مخالف ہے۔
پانچ دسمبر کو ٹرائل کورٹ میں اس کیس کی سماعت کے دوران ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے جج افضل مجوکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں معلوم ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ یکطرفہ طور پر چلایا جا رہا ہے جس میں انھوں نے نہ صرف پراسیکیوشن پر اعتراض اٹھایا بلکہ انھوں نے عدالت پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اس مقدمے کو کسی دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست دی تھی۔اس دوران ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم ہے کہ انھیں اس مقدمے میں سزا دی جائے گی اور وہ بھی سات سال ہو گی لیکن وہ یہ سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔

