Site icon tazzakhabren.com

 Henley Passport Index 2026 دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی فہرست جاری کر دی

Henley Passport Index 2026 دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی فہرست جاری کر دی

 Henley Passport Index 2026 دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی فہرست جاری کر دی,ہمارے آج کے کالم کا موضوع  ہے

 معروف اور مستند ہینلے پاسپورٹ انڈیکس نے 2026 کے لیے دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی فہرست جاری کر دی,ادارے کے مطابق رواں سال کی فہرست میں ایشیائی ممالک نے سبقت حاصل کر لی، پہلے نمبر پر سنگاپور جسے دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ رکھنے والا ملک  کہا جاتا ہے

 سنگاپور کے شہریوں کو دنیا کے 227 میں سے 192 ممالک اور خطوں میں بغیر ویزا یا ویزا آن آرائیول کی سہوت حاصل ہونے کے باعث پہلا نمبر دیا گیا,۔

 دوسرے پر جاپان اور جنوبی کوریا ہیں۔جاپان اور جنوبی کوریا کے پاسپورٹس پر 188 ممالک میں بغیر ویزے کے سفر کیا جا سکتا ہے۔ ڈنمارک، لکسمبرگ، اسپین، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ مشترکہ طور پر تیسرے نمبر پر ہیں۔ ان پاسپورٹس کے حامل افراد 186 ممالک میں بغیر ویزے کے جا سکتے ہیں۔

چوتھے نمبر پر مشترکہ طور پر 10 یورپی ممالک شامل ہیں جن میں جرمنی، فرانس، اٹلی اور نیدرلینڈز نمایاں ہیں۔ ان پاسپورٹس پر بغیر ویزے کے 185 ممالک کا سفر کیا جا سکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات پانچویں نمبر پر آ گیا ہے ، 2006 کے بعد یو اے ای نے 149 نئی ویزا فری منزلیں حاصل کیں اور 57 درجے بہتری کے ساتھ اوپر آیا۔

بغیر ویزا رسائی (مقامات)نمایاں خصوصیتملک
194دنیا کا سب سے طاقتور پاسپورٹسنگاپور
193یورپی ممالک کی مضبوط رسائیجاپان، جرمنی، اسپین
192یورپی استحکام اور سفری آزادیفن لینڈ، اٹلی، نیدرلینڈز
190سفری سہولیات میں مسلسل بہتریڈینمارک، آسٹریا، لکسمبرگ
98کمزور پاسپورٹ، محدود رسائیپاکستان
101دنیا کا سب سے کمزور پاسپورٹافغانستان

برطانیہ ساتویں نمبر پر ہے ,  گزشتہ ایک سال میں سب سے زیادہ نقصان برطانیہ کو  ہوا اور اب یہ 182 ممالک تک ویزا فری رسائی کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہے۔ امریکا بھی مسلسل نیچے آتا جا رہا ہے۔ اس سال امریکا 10 ویں نمبر  پے، اس کے پاسپورٹ پر 179 ممالک میں بغیر ویزا کے سفر کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان یمن کے ساتھ مشترکہ طور پر 98 نمبر پر ہے۔ شام اور عراق بالترتیب 100 اور 99 ویں نمبر پر ہیں

فہرست میں سب سے آخری 101 واں نمبر افغانستان کا ہے جس پر صرف 24 ممالک میں بغیر ویزے کے سفر کیا جا سکتا ہے۔

آخر میں وفاقی وزیر عطا تارڑ کا بیان ملاحظہ کریں 

Exit mobile version