Hamza Shahbaz Sharifلگتا ہے وہ روٹھ گیا ہے

Hamza Shahbaz Sharifلگتا ہے وہ روٹھ گیا ہے,ہمارے آج کے کالم کا موضوع ہے
داستان آج کی نہیں صدیاں بیت گئیں یہ سلسلہ چل رہا ہے می لارڈ کی عدالتیں ہوں یا سیاست کے نقارخانے یہاں طاقت کا نشہ سر چڑھ کر بولتا ہے،مسلمانوں کی کون سی ایسی حکومت تھی جس کے تخت کے پائے اپنوں کے خون سے رنگے نہ ہوں بلبن خلجی تغلق سےّد لودھی مغلوں کی تاریخ پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے شروع ہو کر گلا کاٹنے پر ختم ہوتی ہے،ہماری تو اسلامی تاریخ میں برادران یوسف کا کنعان کے کنویں (نواح شام میں طبریہ کے نزدیک) میں کیا گیا قبیح فعل حسد و عناد، عداوت، نفس ِ عمار ہ کی شورشوں، بشری لغزشوں پر مبنی ہے۔نیرنگئی سیاست دوراں کے اصول کبھی نہیں بدلے البتہ مقام بدلتے رہتے ہیں مہا بارتہ جیسے یودھ اب اسمبلیوں میں لڑے جاتے ہیں رام،راون بابر ہمایوں شیر شاہ سوری،اورنگزیب اور ابراہیم لودھی جیسوں کے سربکف بیٹے اور بیٹیاں نواز شہباز زرداری بلاول حمزہ اور مریم کے روپ میں تخت و طاؤس کی جنگ لڑ رہے ہیں (مزید تفصیلات کے لئے میرا کالم  Kingship knows no Kinshipپڑھیے) 

Hamza Shahbaz Sharifلگتا ہے وہ روٹھ گیا ہے

 پھر جواہر لال کے بعد اندرا گاندھی، راجیو اور سنجے کے بعد قیادت راجیو گاندھی خاندان کے پاس ہے سونیا راہول اور پرنیکا کی مثلث میں کہیں سنجے گاندھی کے خاندان کی پرچھائیں تک نظر نہیں آتی ستم ظریفی دیکھئے کی سنجے گاندھی کی اہلیہ مانیکا گاندھی کے لئے کانگرس میں کوئی عہدہ نہیں وہ مودی کی پارٹی بی جے پی کی رکن ہیں؛بھارت جوڑو یاترا؛ کرنے والے راہول گاندھی اپنا خاندان تونہ جوڑ سکے، ان گنت مثالیں ہیں 

بھارتی پنجاب کی سب سے پرانی پارٹی شرومنی اکالی دل((14 Dec 1920 بادل خاندان کی میراث ہے سردار پرکاش سنگھ بادل نے اپنے بھائی سردار گرداس بادل(رام لکشمن کی جوڑی کہلائے) کے ساتھ مل کر پارٹی کو تقریباً ایک صدی تک مضبوط رکھا (بابا بوہڑ کہلانے والے) 98 سالہ سردار پرکاش سنگھ کی خرابی صحت کے باعث پارٹی معاملات بیٹا سکھبیر بادل دیکھنے لگا سب سے پہلا کام پارٹی معاملات سے چچاگرداس بادل کے بیٹے منپریت بادل (سابق خزانہ منتری) کو الگ کرنا تھا، خاندانی طاقت کی رسہ کشی میں ہارنے کے بعد منپریت بادل اپنی بنائی گئی جماعت پیپلز پارٹی سے ہوتے ہوئے آجکل بی جے پی سے وابستہ ہیں،شرومنی اکالی دل پارٹی پر سکھبیر سنگھ بادل انکی اہلیہ ہرسمرت کور بادل اور سسرالی رشتہ داروں (سردار بکرم سنگھ مجیٹھیا کا راج ہے موصوف آجکل چٹہ (ہیروئین) بیچنے کے کارن جیل یاترا پر ہیں)

محرمہ بینظیر بھٹو نے کڑے سیاسی حالات او ر عسکری چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے بیگم نصرت بھٹو سے پارٹی معاملات اپنے اختیار میں لے لئے ساتھ یہ خوف بھی دامن گیر تھا کہ والدہ دستور زمانہ پارٹی اپنے بیٹے میر مرتضی ٰ کے سپرد نہ کر دیں اور پھر دنیا نے دیکھا کہ خاندان بھٹو کا وارث، بڑا بیٹا میر مرتضیٰ اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد افغانستان میں جلاوطنی کاٹنے والا20 ستمبر 1996کی شام اپنے چھ کارکنوں کے ساتھ پولیس مقابلے میں مارا گیا بینظیر کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی بھٹو جونیئر کی بجائے بلاول بھٹو زرداری کی میراث

Hamza Shahbaz Sharifلگتا ہے وہ روٹھ گیا ہے

اب آتے ہیں عنوان کی جانب؛لگتا ہے وہ روٹھ گیا ہے؛خاندان شریفاں مفاہمتی اور مصالحتی بیانیہ کے ساتھ1981سے ملک کی سیاسی بساط پر اپنے پتے بڑی سمجھ داری سے کھیل رہا ہے ہمارے رام لکشمن موٹر وے اور ایٹمی دھماکوں کے سائے تلے وزارت عظمیٰ اور وزارت اعلیٰ کے مزے لوٹتے رہے میاں نواز شریف 2013 کے الیکشن سے قبل جاتی عمرہ میں حسین نواز کی موجودگی میں حامد میر کو دیے گئے انٹرویو میں پوچھے گئے سوال پر کہ آپ کا سیاسی جانشین کون ہو گا تو میاں صاحب نے بلا تامل کہا؛حمزہ شہباز؛

2013-2018 آنے والے پانچ سالوں میں جنت مکانی کلثوم نواز کی کاوشوں اور مریم نواز کی مستقل دلجوئی نے بڑے میاں صاحب کے خیالات یکسر بدل ڈالے، متضاد یکہ باپ بیٹی کی آنکھیں اس وقت حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب لندن سے واپسی پر علامہ اقبال ایئر پورٹ پر استقبال کے لئے نا تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا نہ بھائی اور نا ہی بھتیجا  باپ بیٹی اڈیالہ پہنچ گئے پانامہ کیس میں بھی حمزہ کے فوج سے مفاہمتی رویے نے مزیددل کھٹا کیا اب میاں صاحب نے کہنا شروع کر دیا کہ مریم پنجاب سنبھالے گی اور حمزہ پارٹی قیادت۔۔۔ لیکن طاقت کی غلام گردشوں میں وہی فیصلہ کیا گیا ہے جو یہودہ نے کیا تھایوسف ؑ کو اندھے کنویں میں پھینک دو2024 میں حمزہ کی مرضی کے خلاف ٹکٹ بانٹے گئے توصیف شاہ،کبیر تاج عمران گورائیہ(حمزہ کے سپوٹر) ٹکٹ سے محروم رہے،فیلڈ مارشل کو چھڑی دینے کی تقریب میں حسن نواز تو تھے لیکن حمزہ کے لئے کوئی نشست خالی نہ کرائی گئی،مریم نوازتقریبات میں اکثر اپنی والدہ سے والہانہ لگاؤ کا ذکر کرتی ہیں بلال ےٰسین عابد شیر علی عمدہ  اس لگاؤ کی مثالیں ہیں 

Hamza Shahbaz Sharifلگتا ہے وہ روٹھ گیا ہے

دبئی سے لاہور منتقلی کے دوران پولیس مقابلے میں مارے جانے والے طیفی بٹ کے کیس میں چچا زاد کزنوں میں تلخ کلامی کا دعویٰ سامنے آیا ہے صحافی اعزاز سید کے پوڈ کاسٹ میں کرائم رپورٹر احمد فراز نے کہا ہے کہ (اینگری ینگ مین)فون پر وزیر اعلیٰ پنجاب سے درخواست کی گئی کہ طیفی بٹ کے معاملے میں قانون کے مطابق سلوک اور کوئی زیادتی نہیں ہونی چاہیے وزیر اعلیٰ نے پوچھا کہ آپ کا اس سے کیا تعلق ہے؟جواب آیا کہ آپ اپنے والد سے پوچھ لیں اڑھائی منٹ کی ہارڈ ٹاک کے بعد کہا گیا کہ چیخو مت!اور لائن کٹ گئی   

 آج مسلم لیگ نون کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر ہے مقتدرہ کے شیر اور نون کی بکریاں ایک ہی گھاٹ سے پانی پی رہی ہیں،مغل سلطنت میں جب بادشاہ شاہجہاں کادور زوروں تھا بادشاہ بیمار ہوا تو سب سے بڑا بیٹا دار الشکوہ بادشاہ کا جانشین بنا حسد اور انتقام کی جنگ میں شاہجہان کے تیسرے بیٹے اورنگزیب عالمگیر نے بھائیوں کو شکست و ریخت سے دوچار کیا اور تاجدار ہند کو آگرہ قلعہ میں قید کر دیاگیا۔ خاندان شریفاں میں کوناورنگزیب عالمگیر ہے اور کون دارالشکوہ  اس کا فیصلہ تاریخ پر چھوڑتے ہیں    

Leave a Comment