Site icon tazzakhabren.com

General Venchora of France:مہاراجہ رنجیت سنگھ کی خالصہ فوج کا پہلا فرانسیسی جرنیل وینچورا

General Venchora of France:مہاراجہ رنجیت سنگھ کی خالصہ فوج کا پہلا فرانسیسی جرنیل وینچورا

General Venchora of France: ہمارا آج کے کا لم کا موضوع ہےمہاراجہ رنجیت سنگھ کی خالصہ فوج کا پہلا فرانسیسی جرنیل وینچورا

شالامار باغ سے گڑھی شاہو کی طرف آئیں تو آپ کو ایک گنبد نما عمارت نظر آئے گی جو بدھو کا آوا کہلاتی ہے،سترھویں صدی کی یہ عمارت دراصل اینٹوں کا ایک بھٹہ تھی جس میں شاہجہان کے دور میں تعمیر ہونے والی عمارات کے لیے پختہ چھوٹی اینٹیں تیار ہوتی تھیں مٹی کے حصول کے لیے ارد گرد کی بے شمار جگہ خالی رکھی گئی جہاں آج کل لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی واقع ہے، تاریخ میں اس عمارت کا ایک حوالہ یہ بھی ملتا ہے کہ یہ خان دوراں بہادر نصرت جنگ جو مغلیہ شاہی دربار کے امیر تھے کی بیوی کے لیے تعمیر کی گئی تھی

General Venchora of France: جرنیل وینچورا

مہاراجہ رنجیت سنگھ پہلا حکمران تھا جسے یورپی طرز کی فوج بنانے کا بہت شوق تھا اس نے جب خالصہ فوج بنائی تو فرانس سے جنرل وینچورا سمیت کئی افسران فوج کی تربیت کے لیے بلائے گئے،بدھو کا آوا کو فوج کا ہیڈ کواٹر بنایا گیا،جہاں ایک طرف جنرل وینچورا کے ماتحت فوج کو سول ایڈمنسٹریشن،لاء اینڈ آرڈرسمیت بیشمار اختیارات سونپے گئے وہیں فوج نے بھی پشاورر سے ملتان اور وہاں سے دلّی تک کے علاقے فتح کیے، اسّی لاکھ فوج کی تنخوائیں اور دیگر اخراجات عام آدمی پر ٹیکس،مالیہ اور لگان کی صورت وصول کیے جاتے۔رنجیت سنگھ نے ہر سکھ فوجی کے دل میں یہ جذبہ کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا کہ ایک دن تم نے ہی انگریز فوج کو شکست دے کر؛راج کرے گا خالصہ؛کا پرچم بلند کرنا ہے۔ستلج کے دوسرے کنارے چھاؤنیوں میں بیٹھا انگریز بڑے غور و فکر سے خالصہ فوج اورمہاراجہ کی سلطنت کاللچائی نظروں سے مشاہدہ کر رہا تھا۔ 58 سال کی عمر میں 38 سال 76 دن حکومت کرنے کے بعد رنجیت سنگھ کے انتقال کے ساتھ ہی تخت نشینی کی جنگ شروع ہو گئی،جنرل وینچورا کی قیادت میں بدھو کا آوا میں ایک میٹنگ بلائی گئی جس میں اس بات کا اعلان کیا گیا ریاست کا کنٹرول فوج کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے مزید یکہ سلطنت بچانے کی ذمہ داری مہاراجہ اپنی زندگی میں ہمیں سونپ گئے ھے۔

شیر پنجاب راجہ رنجیت سنگھ کی راجدھانی :- رنجیت سنگھ کی موت کے وقت اسکی سلطنت کی وسعت پاکستانی پنجاب کے مٹھن کوٹ سے لے کر کشمیر، لداخ، گلگت  بلتستان،خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقے،بھارت کا پنجاب ہریانہ اور ہماچل پردیش تک سب اس کے باجگزارتھے جبکہ موجودہ چین کا کاتکلا کوٹ اور تبت کا مغربی حصہ شامل تھا۔سکھوں کے دو گروپوں ڈوگرے اور سندھنانوالے میں اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی کہ فوج نے مہاراجہ کے نا اہل بیٹے کھڑک سنگھ کو اقتدار سونپ دیا کھڑک سنگھ نے اپنا نیا مشیر خاص چیت سنگھ باجوہ مقرر کیا وزیر اعظم دھیان سنگھ نے اس تقرری کو اپنی ذاتی انا کا مسئلہ بنا لیا اس نے دونوں کو تخت سے معزول کرنے کا خونی منصوبہ بنایا جنرل وینچورا اس خونی مہم میں اسکے شانہ بشانہ کھڑا تھا یوں فوج نے پہلی دفعہ اپنی ہی حکومت کے خلاف خفیہ مہم کا آغاز کیا پورے ملک میں یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ کھڑک سنگھ چیت سنگھ کے ساتھ مل کر رنجیت سنگھ کی اس عظیم سلطنت کو انگریزوں کے ہاتھوں بیچنا چاہتا ہے مزیدیکہ اپنی آمدن کے ہر ایک روپیہ میں سے چھ آنے  انگریز کودیے جائیں گے تاکہ وہ ہماری حفاظت کرے، خالصہ فوج کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔جرنیل تو اس مہم سے آشنا تھے لیکن عام فوج نے اسے اپنی بقا کا مسئلہ بنا لیا یہاں تک کہ کھڑک سنگھ کا اپنا بیٹا نونہال سنگھ بھی اس بات پر یقین لے آیا کہ چیت سنگھ نے میرے باپ کو ورغلایا ہے، اس دوران فوج کے سپاہی عام کپڑوں میں ملبوس عوامی نفرت کا اظہار کرتے ہوئے لاہور کے قلعے میں داخل ہوئے  انہوں نے چیت سنگھ باجوہ کو پکڑا اور کھڑک سنگھ کے سامنے اسے ذبح کر دیا۔اب محل پر وزیر اعظم راجہ دھیان سنگھ کا راج تھا اس نے کھڑک سنگھ کو سیسہ پلا دیا اور اسکی جانثار بیوی رانی اندر کو آگ میں جلا کر نشان عبرت بنا دیا گیا،جنرل وینچورا نے کھڑک سنگھ کے بیٹے17 سالہ نونہال سنگھ کو علامتی طور پر اقتدار دیا لیکن تمام تر طاقت اپنے پاس رکھی اب فوج ہی حکمران تھی جو اپنے آپ کو سلطنت کی بقا کا ضامن سمجھتی تھی۔5 نومبر 1840کو جب نونہال سنگھ اپنے والد کھڑک سنگھ کی آخری رسومات ادا کر کے واپس قلعہ آرہا تھا جیسے ہی روشنائی دروازے کے رستے حضوری باغ میں داخل ہوا تو اس پر ایک بھاری پتھر لڑھکا دیا گیا، انفنٹیری کے جوانوں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی ان سپاہیوں میں سے دو پراسرار طریقے سے مارے گئے دو چھٹی لے کر گھر چلے گئے اور ایک غائب کر دیا گیا۔

شیر پنجاب راجہ رنجیت سنگھ کی راجدھانی پھر لاوارث ہو گئی ڈوگرے اور سندھنا نوالے بدھو کا آوا میں فوج کی ہمدردیاں سمیٹنے میں لگ گئے ایک گروہ رنجیت سنگھ کے بیٹے شیر سنگھ جبکہ دوسرا نونہال سنگھ کی بیوی چاند کور کو اقتدار کے سنگھا سن پر بیٹھانا چاہتے تھے ہما ّچاند کور کے سر بیٹھا کیونکہ وہ امید سے تھی اور خالصہ فوج سمجھتی تھی کہ تخت کا اصل وارث اسکی کوکھ میں ہے،ہوا یہ کہ چاند کور نے مردہ بچے کو جنم دیا صفوں میں مایوسی پھیل گئی شیر سنگھ نے موقع غنیمت جانا اور 70  ہزار خالصہ فوج لے کر لاہور شہر پر حملہ کر دیا گلیوں میں خون پانی کی طرح بہتا رہا نیک دل رانی چاند کور نے شیر سنگھ کے حق میں دستبرداری کا اعلان کر دیا۔شیر سنگھ نے تین سال حکومت کی لیکن فیصلے سارے جنرل وینچورا کرتا کہ کس کو کب مسند اقتدار پر بیٹھانا ہے اور غدار کون ہے اور محب وطن کون۔ڈوگرہ گروپ فوج کی آشیرباد سے حکمران تھا اور سندھنانوالے معتوب،معتوبوں نے شیر سنگھ کو مار دیا، شیر سنگھ کا بیٹا ہیرا سنگھ بدھو کا آوا میں اس اعلان کے ساتھ داخل ہوا کہ اگر اس کو وزیر اعظم بنا دیا جائے تو وہ سپاہی کی تنخواہ نو روپے سے بڑھا کر بارہ روپے کر دے گا اور گھڑسوار کی تیس روپے۔ایک بار پھر فوج لاہور پر حملہ آور ہو گئی شہر میں صبح تک لاشوں کے انبار لگ گئے رنجیت سنگھ کے چھ سالہ بیٹے  دلیپ سنگھ کو تخت پر بیٹھا دیا گیا جبکہ ہیرا سنگھ کو وزیر اعظم بنا دیا گیا اس نے فوج کی مراعات میں مزید اضافہ کیا تنخواہ اڑھائی روپے مزید بڑھا دی گئی ایک د ن ایک جرنیل اسکے مشیر سے ناراض ہو گئے بات بڑھ گئی شہزادے نے بھاگ کر جان بچانی چاہی لیکن مارا گیا اب ماموں جواہر سنگھ کو اقتدر کی کرسی پر بیٹھایا گیا، بدھو کا آوا والوں کے مطالبات بہت بڑھ گئے تھے  جواہر سنگھ نے محل کے برتنوں تک کے کینٹھے بنوائے اور فوج میں تقسیم کر دیے،تمام مالیہ کی حقدار فوج تھی ایک دن ناراض فوج نے جواہر سنگھ کو ہیڈکوارٹر بلا کر بہن رانی جنداں کور کے سامنے قتل کر دیا۔

رانی جنداں کور :-اب دلیپ سنگھ حکمران اور جنداں کور اسکی سرپرست،خزانہ خالی ہو چکا تھا، برتن تک بک گئے لیکن جنرل وینچورا کے مطالبات جاری و ساری،رانی جنداں کور کے پاس وینچورا کی بلیک میلنگ کا ایک ہی طریقہ تھا کہ کسی طرح خالصہ فوج کو انگریز فوج سے لڑا دیا جائے،پروپیگنڈہ کا وہ طریقہ جو فوج نے کھڑک سنگھ کے خلاف استعمال کیا تھا رانی جنداں نے  اسے اپناتے ہوئے سرگوشیوں کی ایک مہم چلائی کہ انگریز پنجاب پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔عام سپاہی کو تو انگریز کی طاقت کا اندازہ نہ تھا وہ تو تیار ہی مرنے مارنے کے لیے کیے گئے تھے لیکن  جرنیلوں کو بخوبی اندازہ تھا وہ لڑنے سے ہچکچاتے رہے لیکن رانی جنداں نے سکھوں کی عظمت کا پرچم اٹھایا  اب جرنیلوں کے لیے کوئی راستہ نہ بچا پہلے حملے میں 8000  فدائین مارے گئے تاریخ نے مارشل فوج ہونے کا دعوی بھی باطل کر دیا چھ فٹے سکھ انگریز فوج میں بھرتی چار چار فٹ کے بنگالیوں اور مدراسیوں سے مات کھا گئے نہ مہاراجہ کی سلطنت رہی نہ جنرل وینچورا کی سازشیں۔ باقی نام اللہ کا 

Exit mobile version